گردہ‘ جسم کی چھلنی

553

گردے ہمارے جسم کا اہم عضو ہیں جو اضافی پانی،نمکیات اور زہریلے مادوں کو جسم سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر یہ فعال نہ رہیں اور جسم سے فالتو اور نقصان دہ اشیاءوقت پر نہ نکالیں تو جسم بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہمیں ان وجوہات کاعلم ہو جو گردوں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔شفاانٹرنیشنل اسلام آباد کےماہر امراض گردہ ڈاکٹر فرحت عباس کی ایک معلوماتی تحریر

گھروں میں کھانا پکانے کے دوران چھلنی کا استعمال عام ہے۔ اس کے اندرجب آٹا یا اس طرح کی دیگر چیزیں ڈالی جاتی ہیں تو یہ ان میں سے کارآمد چیزوں کو اپنے اندر رکھ لیتی ہے جبکہ غیرضروری چیزوں کو باہر نکال دیتی ہے۔ انسانی جسم میں بھی دو عدد چھلنیاں لگی ہیں جنہیں گردے کہا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی کام بھی جسم کیلئے مفید چیزوںکو جسم میں رہنے دینا جبکہ غیرضروری اور مضرصحت چیزوں کوباہر نکال دینا ہے۔ یہ اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم کام سرانجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پریہ جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اوروٹامن ڈی بنانے یا اسے جذب کرنے میںبھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خون میں جب آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے تو گردوں سے ایک ہارمون ایری تھائیرو پوئٹن (erythropoietin) نکلتا ہے جو خون کے سرخ خلیوں کے بننے کا باعث بنتا ہے۔
گردے خراب ہونے کی کئی وجوہات ہیںجن میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موروثی بیماریاں، پین کلرز کا بے جا استعمال،گُردوں کی پتھری،ان کی سوزش اور ان میں پانی کی تھیلیاں بننا شامل ہیں۔ غیرصحت بخش کھانوںکے علاوہ ایسی خوراک کھانا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے جس میں کیلشیم،فاسفورس اور یورک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہو ۔
مرض کی علامات
ان کی خرابی کی عمومی وجوہات درج ذیل ہیں:
٭جب گردے اپنا کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے پاتے تو جسم میں پانی اکٹھا ہونا شروع ہوجاتاہے جس کی وجہ سے ہاتھوں،پیروں اور چہرے پر سوجن نمودار ہو جاتی ہے ۔پانی کی یہ زیادتی پھیپھڑوں تک پہنچ جائے تو مریض کو سانس لینے میں دُشواری ہونے لگتی ہے۔
٭گردوں کی خرابی کی وجہ سے ایسے ہارمونز کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جو خون میںآکسیجن کی کمی کی صورت میں سرخ خلئے بناتے ہیں۔اس طرح سرخ خلیوں کی تعداد ہمارے جسم میںگھٹنے لگتی ہے جس کا نتیجہ انیمیا (خون کی کمی )کی شکل میں نکلتاہے۔ اس وجہ سے مریض کو کمزوری، تھکاو ٹ، سانس لینے میں دشواری اور سردی لگنے جیسے مسائل کا سامناکرناپڑتا ہے۔
٭خون کی کمی کی وجہ سے دماغ کو آکسیجن کم ملتی ہے جس کے سبب مریض کوسونے میں دقت ، نیم بے ہوشی اورچکر آنے جیسی شکایات رہتی ہیں۔ بعض صورتوں میںمریض کو مرگی کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں اور وہ کوما میں بھی جا سکتا ہے۔
٭گردوں کی خرابی کے باعث پیشاب کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے۔ پیشاب میںخون آنا،اس میںجھاگ بننا، معمول سے زیادہ ےا کم پیشاب آنا اور دورانِ پیشاب تکلیف محسوس ہونااس کی مثالیں ہیں۔
٭جسم سے فاسد مادے نکالنے میں گردوں کا اہم کردار ہے۔ جب گردے خراب ہوجائیںتو یہ مادے خون میںشامل ہوناشروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے مریض کی جلد خشک ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خارش کامسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
٭خون میں موجود فاسد مادوں کی زیادتی کے باعث مریض کے منہ کاذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے اورمنہ سے بدبو آتی ہے۔ مزیدبراں بھوک میںکمی،قے آنا،متلی اور وزن کم ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عصبی رگوں کو نقصان بھی پہنچتاہے جس کی وجہ سے ٹانگوں میں بے چینی، کھچاﺅاور سُوئیاںسی چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔
مرض کی اقسام
٭ بعض اوقات گردے اچانک خراب ہو جاتے ہیں تاہم ا ن کے ٹھیک ہونے کا امکان باقی رہتاہے۔ گردوں کی ا س طرح کی خرابی اکثر جسم سے پانی یا خون کے زیادہ اخراج کی صورت میںبھی ہوتی ہے۔ اس کی دیگر وجوہات میں شدیدچوٹ،کوئی دوسری بیماری‘ زہر یامنشیات کا استعمال، انفیکشن ، بلڈ پریشر کا زیا دہ دیر تک کم رہنا اورگردے کو نقصان پہنچانے والی ادویات کا بہت زیادہ استعمال شامل ہیں۔
٭گردے میں پتھری کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی جسم میں نمکیات مثلاً کیلشیم،یورک ایسڈ اور فاسفورس کی خون میں زیادتی یاپیشاب میں زیادہ اخراج ہوجانا ہے۔ دوسری وجہ سٹریٹ(citrate) کا خون میں زیادہ یا کم ہوجاناہے جو گردے میں پتھری کا باعث بنتا ہے۔ کئی دوسرے عوامل بھی پتھری بنا سکتے ہیں جن میں ایسی خوراک لینا جس میں نمکیات کا زیادہ ہو اور پانی جسم کی ضرورت سے کم پینا بھی شامل ہیں۔
٭ گردوں کی ےہ خرابی بتدریج پیداہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔ اس خرابی میں گردے ہمیشہ کے لیے خراب ہو جاتے ہیں۔ شروع میںاس کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیںاور مریض کو تب پتا چلتا ہے جب بیماری آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔ ا س وقت اس کا علاج صرف ڈائلیسز یا کسی دوسرے شخص کا عطیہ کیا گیا گردہ لگانا ہوتا ہے۔ بروقت علاج مریض کی زندگی کے معیار کو بہترکرتاہے اور مریض صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
علاج کے امکانات
ڈائیلسز:
جی ایف آر (glomerular filtration rate) گردے کے کام کرنے کی استعداد کے بارے میں بتاتا ہے جس کی روشنی میں مریض کو ڈائیلسز تجویز کیا جاتا ہے جو تین اہم کام سر انجام دیتاہے:
٭ جسم سے فالتوپانی کا اخراج
٭خون سے فاسد مادوں کو باہر نکالنا
٭خون میں موجود الیکٹرولائٹیس کے عدم توازن کو کنٹرول کرنا
گردوں کی پیوند کاری:
اس عمل میںٹرانسپلانٹ سرجن آپریشن کے ذرےعے صحت مند آدمی کا گرد ہ مر یض کے جسم میں لگاتاہے۔ عام طورپر مر یض کے خراب گردے نہیں نکالے جاتے تاہم انفیکشن ےا بلڈ پریشر کی زیادتی کی صورت میں انہیں نکالناضروری ہو جاتاہے۔ پیوندکاری کے بعد مریض کو ڈائیلسز کی ضرورت نہیں پڑتی اور چند مخصوص ادویات کے باقاعد ہ استعمال سے وہ صحت مند زندگی گزارلیتاہے۔ تاہم ٹرانسپلانٹ سے پہلے اسے ڈ ائیلسز پر ہی انحصار کرنا پڑتاہے۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیںکہ گردے ہمارے جسم میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک طور پر کام نہ کریں تو نہ صرف صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس لئے ہمیں ایسا طرز زندگی اپنانا چاہئے جس میں گردے صحت مند رہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانی پینا انہیں صحت مند رکھتا ہے اور چھوٹی موٹی پتھریاں بغیر علاج کے نکال دیتا ہے۔ اگر ان کی خرابی کی علامات ظاہر ہوں تو پھر علاج میںتاخیر نہیں کرنی چاہئے۔