پتھراتے جوڑ (Rheumatoid Arthritis)

245

انسانی جسم کو حرکت میں رکھنے میںجوڑوں کا کردار بہت اہم ہے۔اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو چھوٹے موٹے کاموں کی انجام دہی بھی مشکل ہوجاتی ہے ۔جوڑوں کا ایک مرض جوڑوں کا پتھرانا(rheumatoid arthritis)ہے جس میں جسم کے چھوٹے جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں بتا رہے ہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امراض مفاصل (rheumatologist) ڈاکٹر ظفر اللہ اپنی اس معلوماتی تحریر میں    

حرکت‘ زندگی کا دوسرا نام ہے ۔انسانوں اور جانوروں کے جسم میں اسے ممکن بنانے کے لئے قدرت نے مختلف جوڑ بنائے ہیں جو انہیں اپنے معمولاتِ زندگی کو انجام دینے میں مدد دیتے ہیں۔
انسانی جسم میں ہر جوڑ دو ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے جن کے درمیان ایک جھلی نما چیزہوتی ہے جسے نرم یا کرکری ہڈی (cartilage) کہتے ہیں۔ اس میں سے قدرتی طور پر رطوبت نکلتی ہے جس سے جوڑ چکنا ہوجاتا اور باآسانی حرکت کرتا ہے۔ اگر اس نرم ہڈی کو نقصان پہنچے تو رطوبت کا اخراج متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جوڑ ٹھیک طرح سے حرکت نہیں کرپاتا۔اس کے علاوہ جوڑوں میں سوزش (inflammation) بھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سوج جاتے ہےں۔ اس کیفیت کو آرتھرائٹس (arthritis) کہتے ہیں۔

یہ مرض ہے کیا؟

اس کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ایک جوڑوں کا پتھرانا یا گنٹھیا نما ورم مفاصل (rheumatoid arthritis) بھی ہے۔ یہ جوڑوں کی وہ سوزش ہے جس میں ہاتھوں‘ پاﺅں اور کہنیوں وغیرہ کے چھوٹے جوڑزیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اسے عام زبان میں سوزش والا آرتھرائٹس بھی کہتے ہیں۔
اس بیماری کا سبب جسم کے مدافعتی نظام کا خوداپنے ہی جسم پر حملہ آور ہونا ہے۔ عام الفاظ میں اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام، اس سے متعلق خلیے اور ٹشوز اپنے ہی جسم کے خلاف کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقص یا خرابی کی حقیقی وجہ ابھی تک دریافت نہیں ہوپائی۔
یہ مرض مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں یعنی یہ بچوں ،نوجوانوں اور بزرگوں میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے کچھ حصوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے جن میں کشمیر اور سوات کے علاقے سرِفہرست ہیں۔ اس کی وجوہات میں ان کا مخصوص موسم، رہن سہن کے طریقے اورخاندان میں شادیوں کا تسلسل نمایاں ہیں۔

مرض کی علامات
اس میں سب سے عام علامت جوڑوں ‘خصوصاً ہاتھوں اور پیروں کے چھوٹے جوڑوں میں اچانک درد شروع ہوجانا اور جوڑوں میں سوزش ہے۔ ایسے مریضوں کوعموماًصبح اٹھتے وقت اپنے جوڑ اکڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور ان میں درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دن میں یہ ٹھیک ہوجاتے ہیں اور شام ہوتے ہی دردوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مزید علامات میں بخار ہونا،تھکاوٹ کا بڑھ جانااور جسمانی کمزوری کا محسوس ہونا شامل ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس بیماری سے مکمل بچاو¿ کا کوئی طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا‘ البتہ بروقت علاج سے اسے بڑھنے سے روکا بھی جا سکتا ہے اور جوڑوں کو ٹوٹنے یا ٹیڑھاہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اور اگر علاج میں تاخیر کی جائے تو اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے جتنا جلدی ممکن ہو‘ کسی اچھے معالج سے علاج کروائیں۔ اگرمرض کی جلد تشخیص ہوجائے اور علاج شروع کرادیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ بیماری مکمل طور پر ٹھیک ہوجائے۔

تشخیص ‘علاج
اس کی تشخیص مریض کی فیملی ہسٹری اور ظاہری حالت کو دیکھ کر باآسانی کی جا سکتی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس مرض کا تعلق وٹامن ڈی یا کیلشیم کی کمی سے ہے۔ دیگر نمکیات اور وٹامنز کی طرح یہ عناصر بھی جسم کے لئے ضروری ہیں تاہم ان کااس مرض سے براہ راست تعلق نہیں‘ اس لئے کہ یہ بیماری جسم کے مدافعتی نظام کے اپنے جسم کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔
علاج کے ضمن میں صرف دوائیں ہی نہیں‘ جوڑوں کی مالش ‘ ورزشیں، نیم گرم پانی سے ٹکور اورفیزیو تھیراپی میں استعمال ہونے والی دیگر تکنیکیں بھی شامل ہےں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوائیں وقت پر اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق لیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو جوڑ ٹیڑھے ہوجاتے ہیں۔ ایسے میںان کی شکل بگڑ جاتی ہے جسے واپس لاناممکن نہیںہوتا۔
”پرہیز علاج سے بہتر“ کا فارمولا یہاں بھی بہترین حکمت عملی ہے۔متوازن خوراک کھانے‘ اپنی عمومی صحت کا خیال رکھنے اور روزانہ30 سے60 منٹ تک ورزش کرنا اس سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے۔ لوگوں کوچاہئے کہ اپنا وزن مناسب حد سے زیادہ نہ ہونے دیں، تمباکو نوشی سے پرہیز کریں، فاسٹ فورڈ اورکولا مشروبات کا استعمال کم سے کم کریں اور اپنے جوڑوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں۔ اگر آپ کا ذریعہ معاش ایسا ہے جس میں جوڑ زیادہ استعمال ہوتے ہیں تو چیزیں اٹھانے کا صحیح طریقہ سیکھیں تاکہ جوڑ وں کی تکلیف اور بیماریوں سے بچا جا سکے۔

اپنے جوڑ مضبوط بنائیں
٭جوڑوںکے درد کی ایک بڑی وجہ ہمارے اٹھنے اور بیٹھنے کے غلط انداز ہیں۔ اکثر گھریلوخواتین سارا دن نیچے بیٹھ کر کپڑے دھوتی، کھانا پکاتی اور صفائی کے کام کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان میں جوڑوں کے مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں ۔اسی لئے جدید کچن میں کھانا پکانے، واشنگ مشین میں کپڑے دھونے اورگھریلو صفائی کاکام کھڑے ہو کر کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔واش روم میں انڈین سیٹ پر بیٹھتے ہوئے سارا بوجھ جوڑوں پر پڑتا ہے لہٰذا انگلش کموڈ زیادہ بہتر ہے۔
٭ گردن، کولہوں ،گھٹنوں، کہنیوں، کندھوں اور کمر وغیرہ سمیت ہر جوڑکی ورزش ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں فزیو تھیراپسٹ کی مدد لی جا سکتی ہے اور انٹرنیٹ سے بھی اس کی ویڈیوز ڈاﺅن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جوگنگ ایک مکمل ورز ش ہے جس میں اکثر جوڑوں کی ورزش ہوجاتی ہے۔
٭جوڑوں کے درد سے بچاﺅ کے لئے اپنے معمول میں دودھ کا استعمال اور سورج کی روشنی کی شکل میں وٹامن ڈی سے استفادہ لازماً شامل رکھیں ۔ روزانہ تقریباً آدھا گھنٹہ دھوپ میں اس طرح بیٹھیں کہ آپ کے ہاتھ، پاﺅں اور چہرہ کھلا رہے ۔اس کے لئے شیشے کے پیچھے نہ بیٹھیں، اس لئے کہ وہ بعض ایسی شعاعوں کو گزرنے نہیںدیتا جو وٹا من ڈی کو متحرک کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہےں ۔خواتین میں ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل اس لئے بھی زیادہ ہیں کہ وہ مکمل طور پر بند رہتی ہیں۔ان کے گھروں میں پردے لگے ہوتے ہیں اور باہر نکلتے ہوئے بھی وہ خود کو ڈھانپتی ہیں۔ اس طرح انہیں دھوپ کم لگتی ہے جس کی وجہ سے ان میں وٹا من ڈی کی کمی پائی جاتی ہے ۔
٭ کیلشیم ہڈیوں کی اکائی ہے ۔اگرجسم میں اس کی کمی ہو گئی ہو توہڈیاں متاثر ہوں گی اور جوڑ چونکہ انہی سے بنے ہوتے ہیں لہٰذا وہ بھی متاثر ہوں گے۔ ہڈیاں کیلشیم کا سب سے بڑا ذخیرہ ہےں اور یہ ذخیرہ جوانی میں محفوظ کرنا چاہئے ۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہڈیوں میں بھربھرا پن زیادہ ہو جاتاہے جس سے وہ جلدی ٹوٹ جاتی ہیں۔ عورتوں میں ہڈیوں کے مسائل زیادہ ہونے کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ دودھ کم پیتی ہیں، وٹامن ڈی کم لیتی ہیں اور زیادہ بار حمل سے گزرتی ہیں۔ بچوںکی پیدائش سے کیلشیم بھاری مقدار میں ہونے والے بچے کی طرف چلاجاتا ہے جس کی کمی پوری نہیں ہو پاتی۔
(ڈاکٹر عالم زیب سواتی‘ اسسٹنٹ پروفیسر‘انچارج شعبہ امراض ہڈی و جوڑ (orthopedics) بی یونٹ ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد )

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

ڈھوک کالا خان (راولپنڈی) کی رہائشی 65سالہ نسیم اختر کو گز

بعض اوقات کلائی سے گزرنے والی ایک نس دبنا شروع ہو جاتی ہ