بے اولادی کی ایک بڑی وجہ

709

ماں بننا ہر عورت کا خواب اور زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے جو اس کی تکمیل کرتی ہے ۔تاہم کچھ خواتین بوجوہ اس تکمیل سے محروم رہ جاتی ہیں۔ جو مسائل اس بے اولادی کا سبب بنتے ہیں‘ ان میں سے ایک پی سی اوایس بھی ہے۔زیرنظر تحریر میں شفاانٹرنیشنل ہسپتال کی ماہر امراضِ زچہ وبچہ ڈاکٹر نابیعہ طارق اس کی علامات اور علاج کے بارے میں بتا رہی ہیں     

خوبصورت ‘ پر کشش اور ہنس مکھ لڑکی ہونے کی وجہ سے آمنہ اپنی ہمجولیوں میں بہت مقبول تھی۔ جب اس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس کے چہرے پراچانک کیل مہاسے آگئے اوروہ موٹی بھی ہونے لگی۔ کالج میںسب سہیلیاں اس سے ان تبدیلیوں کے بارے میں پوچھنے لگیں جس پر وہ خاصی فکر مند ہوگئی۔ اس نے اپنی امی کو اس کے بارے میں بتایا تو وہ اسے ایک گائناکالوجسٹ (ماہرِامراض زچہ و بچہ) کے پاس لے گئیں۔

ڈاکٹرنے آمنہ سے کچھ سوالات کئے ۔ اس نے پوچھا کہ کیا اسے پیریڈ زہر ماہ اور ٹھیک تاریخ پر آتے ہیں؟ آمنہ کا جواب نفی میں تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کا وزن بڑھ رہا ہے؟ جواب میں اس نے کہا کہ اس کا وزن اچانک تین کلوگرام بڑھ گیا ہے۔ اس نے چہرے پر بالوں اور کیل مہاسوں کا بھی ذکر کیا جس پر ڈاکٹر نے آمنہ کی ماں کو بتایا کہ اسے پی سی او ایس (polycystic ovary syndrome) ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی ایشائی ممالک میں 66فی صد خواتین اس کا شکار ہیں۔ یہ مرض عموماً 20سے40 سال کی عمر کی خواتین میں دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ اس کا تعلق افزائشِ نسل کے ساتھ ہے۔

پی سی اوایس کیا ہے؟
یہ بیماری ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے ہوتی ہے۔بالغ خواتین کی بیضہ دانیاں (ovaries)دو طرح کے مادہ ہارمونز ایسٹروجن (estrogen)اور پروجیسٹیرون (progesterone) کے علاوہ ایک مردانہ ہارمون اینڈروجن (androgen) بھی بناتی ہے۔جب مردانہ ہارمون‘ زنانہ ہارمون سے زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہےں تو ہارمونز کا توازن خراب ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں یہ بیماری ہوجاتی ہے۔
بیضہ دانیاں رطوبت سے بھری باریک تھیلیاں بھی بناتی ہےں جن میں انڈے ہوتے ہیں۔ یہ تھیلیاں فولیکلز(follicles) کہلاتی ہیں۔ہر مہینے پختہ تھیلیاں پھٹتی ہیں جن میں سے انڈے باہر نکل کر فیلوپی نالیوں میں آجاتے ہیں اورحمل ٹھہرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوتے ہیں۔ اس عمل کو اخراج بیضہ (ovulation)کہتے ہیں۔
”پی سی او ایس“ کی شکار خواتین میں یہ تھیلیاں اپنے انڈے خارج نہیں کرتیں۔آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ ان کا دماغ ہارمونز کا یہ پیغام بیضہ دانی کو نہیں بھیجتا کہ اپنے تیار انڈے نکال دے لہٰذا اخراج بیضہ کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں تھیلیاں پھٹنے کی بجائے بڑی ہوتی جاتی ہیں اوربیضہ دانی میں جھلی دار دیواروں والی تھیلیوں (cysts) کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

علامات اور پیچیدگیاں
پی سی او ایس کی ابتدائی علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب لڑکیوں کو پہلی بار پیریڈزشروع ہوتے ہیں۔ جن خواتین کو پی سی او ایس ہوتا ہے‘ انہیںپیریڈز کم آتے ہیں یا بالکل نہیں آتے۔ اس کی ممکنہ علامات میں چہرے اور جسم پر غیرضروری بال آنا،وزن کا بڑھنا، چہرے پر کیل مہاسے،ڈپریشن اور بے چینی ہونا ، بالوں اور جلد کی خشکی،ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اورانسولین لیول کا بڑھنا شامل ہیں۔
اگر پی سی او ایس کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کروایا جائے تو مستقبل میں کئی مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ ان میں دل کی بیماریاں‘ ذیابیطس‘موٹاپا‘ حمل میں رکاوٹ اور بچہ دانی کا کینسر نمایاں ہیں۔

تشخیص ‘علاج
مرض کی تشخیص مریض کی فیملی ہسٹری،خون کے ٹیسٹ اور الٹرا ساو¿نڈ کی مدد سے کی جاتی ہے۔ خون کے ٹیسٹ میں انسولین‘ ہارمونز اور گلوکوز کی سطح کاجائزہ لیاجاتا ہے۔ 20سے30فی صد خواتین میں الٹراساو¿نڈ ہونے پر پی سی او ایس کی تشخیص ہوجاتی ہے۔
الٹرا ساونڈ میں بیضہ دانی میں موجود تھیلیاں(cysyts) گھڑی کے ڈائل یا موتیوں کے ہار کی طرح نظر آتی ہیں۔
پی سی او ایس کا علاج مریض کی علامات اورحالت پر منحصر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ایام کو باقاعدہ کرنے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔مزید برآںہارمون کے عدم توازن کو بہتر بنانے کی ادویات کے علاوہ غیر ضروری بالوںکی افزائش روکنے کے لئے ایسی دوائیں دی جاتی ہیںجو نرہارمون کی مقدار کو کم کر کے مادہ ہارمون کی مقدار کو بڑھائیں۔ جو بال چہرے پر پہلے سے اگے ہوتے ہیں‘ ان کے لئے تھریڈنگ،ویکس یا لیزر ٹریٹمنٹ کروانا پڑتی ہے۔بے اولاد خواتین کا علاج معائنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

احتیاطیں
٭ موٹاپے کی شکار خواتین کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ فاسٹ فوڈز،کولا مشروبات،بیکری مصنوعات،میٹھی چیزوں اور مرغن کھانوں سے مکمل پرہیز کریں۔اس کے علاوہ اپنی خوراک میں ریشہ دار غذاﺅں مثلاً پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔
٭ہر روز 60سے90منٹ تک ورزش کو یقینی بنائیں۔
٭وہ کھانے کھائیں جن میں میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہو‘ اس لئے کہ اس سے جسم میں انسولین کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔

اگر پی سی او ایس کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے بانجھ پن،دل کے امراض ،ذیابیطس اور بیضہ دانی کے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔اس کا علاج ہارمونز سے کیا جاتا ہے جو صرف ڈاکٹر کی ہدایت اور معائنہ کے بعد ہی لینے چاہئےں۔ اگر بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے آپ یا آپ کی بچی میں مذکورہ بالا علامات ظاہر ہوں تو فوراً گائناکالوجسٹ سے رابطہ کریں تاکہ مستقبل میں بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts