ڈاکٹروں کی اخلاقی تربیت

130

     ”زیادہ ہیکڑی نہ لگاﺅ!“ یہ پہلے فرد کی غصے سے بھری آواز تھی۔
” ہیکڑی کی بات نہ کر‘ تیری اوقات ہی کیا ہے۔“ دوسرے نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
” کسی غلط فہمی میں مت رہنا‘ سِرکادوںگا۔“ پہلے نے اب دھمکی بھی دے ڈالی۔
”سرکانے والے مرگئے…“ دوسری جانب سے گالی دے کر کہا گیا۔
”تمیز سے بات کرو، ورنہ لینے کے دینے پڑجائیں گے…“ تکرار مسلسل جاری رہی۔

اےک دوسرے کو دھمکی آمےز لہجے مےں برابھلاکہنے کے مناظر گلی محلوں میں اور سڑکوں پر اکثر نظر آجاتے ہےں۔ محض گفتگو سے تو اندازہ کرنا مشکل ہوتا کہ ےہ کون لوگ ہےں‘ تاہم ےہ ایک وڈےو کے مناظر ہیں جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑائی کرنے والے افرادکوئی عام یااَن پڑھ نہےں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک معزز پیشہ سے وابستہ ہیں۔

یہ منظر ہسپتال کے آپرےشن تھےٹر کا ہے جہا ںسیزیرین کے لیے لائی گئی بے ہوش مر ےضہ بستر پر پڑی ہے اور تکرار آپریشن تھیٹر میں موجود سینئر ترین افراد یعنی دو ڈاکٹروں کے درمےان ہو رہی ہے۔ ان میںسے اےک ماہر امراض زچہ و بچہ (gynecologist) اور دوسرا ماہر بے ہوشی (anesthetist) ہے۔ ان کے اردگرد آپریشن تھیٹر کا لباس پہنے عملہ نظر آرہاہے ۔وڈیو میں ےہ واضح نہےں ہوتا کہ تکرار کس با ت پر شروع ہوئی‘ تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ کئی منٹ تک جاری رہی۔

سوشل میڈیاپر وائرل ہونے والی سوا منٹ کی اس مختصر سی وڈےو مےںےہ با ت با لکل واضح ہے کہ اس تکرار کے دوران تھےٹر مےں موجود کسی بھی فرد کی توجہ مر ےضہ اور اس کے نو مولود بچے کی جانب نہ تھی۔ ظاہر ہے کہ ےہ صورت حال مرےضہ اور نو مولود بچے‘ دونوں کے لےے ہی خطرناک تھی۔ مرےضہ کی جان تو بچ گئی لےکن نومولود جس کی سانسیں ابھی ہموار نہےںتھیں‘ صورت حا ل کا مقابلہ نہ کر سکا اوراس کی جان چلی گئی۔
وڈےو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو مین سٹریم مےڈےا کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہو گئی اور پھر عدالت نے بھی اس کا نوٹس لے لےا۔ ہسپتال انتظامےہ نے بلاتاخیر دونوں ڈاکٹروں کو معطل کر دےا اور انکوائری شروع ہو گئی‘لےکن ظاہر ہے کہ بچے کی زندگی تواب واپس نہ آسکتی تھی۔
غمزدہ با پ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ” مجھے معلوم نہ تھا کہ آپریشن تھیٹر میں کیاہوا۔ ہمیں تو بتایاگیا تھا کہ بچے کا سانس دھیرے دھیرے آرہا ہے اور پھر اس کے مرنے کی اطلاع ملی۔ صبح اخبارسے اندازہ ہواکہ اصل میں کیا ہوا تھا۔“

موت انسا نی زندگی کی اٹل حقےقتوں مےں سے اےک ہے اور کسی نہ کسی صورت مےں آکر ہی رہتی ہے ۔نوزائیدہ بچے بھی مختلف اسباب کی بنا پر ہر سال لا کھوں کی تعداد مےں دنےا سے رخصت ہو جاتے ہےں‘ تا ہم بھارت کے شہر جودھپور کے ایک بڑے ہسپتال میں پیش آنے والا یہ واقعہ منفرد نوعیت کا حامل ہے۔ بچے کی اےک اےسے واقعے مےں ہلاکت جو متعلقہ ڈاکٹروںکی سراسر لاپروائی اور غیرذمہ داری کا نتےجہ ہو‘ نہایت تکلےف دہ امر ہے۔ ےہاں غیرذمہ داری کا معاملہ دومتعلقہ ڈاکٹروں تک محدود نہ رہا بلکہ آپرےشن تھےٹرکا پورا عملہ اس میں ملوث تھا لہٰذا اس ضمن میں ان سب کا کردار توجہ طلب ہے۔ آپریشن تھیٹر میں سرجن اور ماہر بے ہوشی اپنے اپنے دائرے میں ٹیم کی قیادت کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں جونیئر لوگوں کی یہ مشکل توسمجھ میں آتی ہے کہ وہ بڑوں کے درمیان نہ آ سکتے تھے لیکن وڈیو میں یہ بھی واضح تھا کہ ان میں سے کوئی بھی بچے کی جانب متوجہ نہ رہ سکا‘ جس کا کوئی جواز نہیں۔
واقعے کی وڈیو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپرےشن تھےٹر کے قواعدوضوابط کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے وہاں موبائل فون بھی موجود تھا اور عملے کے افراد میں سے ہی کسی نے اپنے موبائل فون سے اس کی وڈیو بنائی۔ ویسے مکالمے کے دوران ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے کی آوازوں سے معلوم ہوا کہ کچھ اور ٹیلی فون بھی آپریشن تھیٹر میں کام کر رہے تھے۔

کہا جاسکتا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات بہت عام نہیں ہیں‘ تاہم اس طرح کے اور اس سے ملتے جلتے چند واقعات بھی اس جانب متوجہ ضرور کرتے ہیں کہ طب کی دنیا سے وابستہ افراد کی عمومی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور کردارسازی پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔