وٹامن سی کی دریافت

262

    15ویں اور18ویں صدی کے دوران بحری جہاز سازی کی صنعت میں نمایاں پیش رفت ہوئی جس کی بدولت اُن کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو ا اور وہ اب ہفتوں نہیں‘ مہینوں پر محیط سفر کے قابل ہوگئے۔جب سفر زیادہ طویل ہوتا تو جہازوں کا عملہ زادِراہ کے طور پر خوراک کاذخیرہ بھی اپنے ساتھ لے لیتااور یہ زیادہ تر ان چیزوں پر مشتمل ہوتی جو جلدی خراب نہ ہوں ۔بندرگاہوں سے دور ہونے کی وجہ سے اُن کی رسائی تازہ سبزیوں اور پھلوں تک نہ ہوپاتی۔ان میں پائے جانے والے اہم غذائی اجزاءنہ ملنے کی وجہ سے وہ ماس خورہ یا سکروی (scurvy) نامی بیماری میں مبتلا ہوجاتے جو بہت سی صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوتی۔
زمانہ¿ قدیم کے اطباءبھی اس مرض سے آگاہ تھے۔ 1550قبل مسیح کی مصری طبی کتب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اور بابائے طب بقراط نے بھی اڑھائی ہزار سال قبل اس بیماری کے بارے میں تفصیل بیان کی ہے۔اگرچہ اس مرض کی علامات لوگوں کو معلوم تھیں مگر کئی صدیوں کے بعد ہی پتہ چل پایاکہ یہ مرض کیوں ہوتا ہے۔
اُس زمانے میں بحری سفر کی کئی اہم مہمات بھی دیکھنے میں آئیںجن کے ملاح اس بیماری کے شکار ہوئے ۔ 1499ءمیںمشہور ِعالم ملاح واسکوڈے گاما کی مہم میں170ملاح شامل تھے جن میں سے116جان گنوا بیٹھے۔ 1520ءمیں پرتگالی جہازراں میجلین (Magellan) کے عملے میں230ملاح تھے اور جب وہ واپس پلٹے تو ان کی تعداد صرف18تھی۔امریکہ کو دریافت کرنے والے کولمبس کا بیشتر عملہ بھی اس بیماری کی نذر ہوگیا۔1500ءسے 1700کے دوران بحری سفروں کی وجہ سے تقریباً20لاکھ ملاح اپنی جانوں سے ہاتھ د ھو بیٹھے۔بحری مہمات کے علاوہ لمبے عرصے تک جاری رہنے والی جنگوں کے سپاہی یا طویل عرصے تک محاصرے میں رہنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں اس کا شکار ہوجاتے ۔ اس کا سبب بھی تازہ مچھلی اور سبزیوں کا میسر نہ ہونا تھا۔
سکروی میں مبتلا مریضوں کو بہت زیادہ کمزوری محسوس ہوتی ہے۔اُن کے پٹھوں اور جوڑوں میں درد ہوتا ہے جس کی وجہ ان حصوں کی رگوں سے خارج شدہ خون کا جمع ہوجانا ہے ۔ اُن کی جلد پر ہر جگہ چھوٹے چھوٹے نیل دیکھنے میں آتے ہیں اور جلد خشک اور گہرے بھورے رنگ کی ہوجاتی ہے ۔اس کے علاوہ ان کی جلد کے بال ٹوٹ کر چھوٹے اور گھنگریالے ہو جاتے ہیں۔ ان کی آنکھیں باہر کی طرف نکلی نظرآتی ہیں اوراگر کوئی زخم ہو جائے تو نہ صرف لمبے عرصے تک مندمل نہیں ہوپاتا بلکہ پرانے زخم جو شروع میں مندمل ہوچکے تھے ‘دوبارہ تازہ ہوجاتے ہیں۔سکروی کی زیادہ تر علامات منہ میں دیکھنے میں آتی ہیں۔مریضوں کے مسوڑھوں اور ہونٹوں سے خون نکلتا ہے اور مسوڑھے بڑھ کر دانتوں پر پھیل جاتے ہیں جس سے نہ صرف دانت ڈھک جاتے ہیں بلکہ ان کی جڑیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں۔ دانت خراب ہو کر گرجاتے ہیں اور مسوڑھوں میں انفیکشن اور ورم کی وجہ سے شدید درد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ غذا کو چبانے کے قابل نہیں رہتے۔ مسوڑھوں اور دانتوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے منہ سے بدبوآتی ہے۔ان مریضوں کا وزن روز بروز کم ہوتاچلاجاتا ہے ۔
صدیوں کے مشاہدے کے بعد طبیب اس نتیجے پر پہنچے کہ سکروی کی بیماری غذا میں وٹامن سی کی کمی سے ہوتی ہے اور یہ وٹامن تازہ سبزیوں اور پھلوں میں پایاجاتا ہے۔ اگرچہ وٹامنز کی کئی قسمیں ہیں تاہم خصوصیات کی بنا پر اُنہیں دوبڑے گروہوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے ۔ان میں سے ایک وہ ہیں جو تیل یا چکنائی میں حل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا جسم میں زیادہ عرصے تک ذخیرہ کئے جاسکتے۔ وٹامن اے‘ڈی‘ای اور کے اس کی مثالیں ہیں۔دوسری طرف کچھ وٹامنز پانی میں حل پذیر ہیں اور اگر ان کی زیادہ مقدار لے بھی لی جائے تو وہ جسم میں ذخیرہ ہونے کی بجائے جسم سے(خاص طور پرپیشاب کی صورت میں)خارج ہوجاتی ہے۔ وٹامن بی (جس کے کئی ذیلی اجزاءبھی ہیں) کے علاوہ وٹامن سی بھی پانی میں حل پذیر ہے اور اس سے مکمل محرومی کی صورت میں سکروی چند ہفتوں کے اندر نمودار ہوجاتی ہے۔
وٹامن سی تین عناصر کا مرکب ہے جن میں آکسیجن‘ہائیڈروجن اور کاربن شامل ہیں ۔ یہی تین عناصر گلوکوز اوردودھ میں پائی جانے والی شکر (Galactose)میں بھی موجود ہوتے ہیں۔اکثرجانوروں کے جسم ان تین عناصر کو نئے انداز سے ترتیب دے کر وٹامن سی بنا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنی غذا میں وٹامن سی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ 155پونڈ وزن کی ایک بکری اپنے جسم میں روزانہ 13ہزار ملی گرام وٹامن سی بنا سکتی ہے اوراگر اس پر ذہنی دباﺅ ڈالاجائے تواس کی مقدار ایک لاکھ ملی گرام تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ بدقسمتی سے بندروں کی بے دُم قسموں والے جانور اورانسان یہ صلاحیت کھو بیٹھے ہیںلہٰذا انہیں لازمی طور پر غذا میں وٹامن سی کو شامل کرنا پڑتا ہے ۔سائنسدانوں نے یہ تخمینہ بھی لگایا ہے کہ ہمیں روزانہ اوسطاً100ملی گرام کے لگ بھگ وٹامن سی کی ضرورت پڑتی ہے۔انسانوں کی طرح گنی پِگز(Guinae pigs) یعنی امریکی چوہے بھی اپنی ضرورت کے لئے وٹامن سی بنانے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
ہنگری کی بڈاپیسٹ یونیورسٹی(Budapest University) میں تعینات البرٹ گیورگی(Albert Gyorgy ) وٹامن سی کو دریافت کرنے والے سائنسدان ہےں جنہوں نے 1930ءمیںپیپریکا (Paprika)نامی مرچ سے اس وٹامن کو الگ کیا ۔ شملہ مرچ کی طرح اس مرچ میں بھی کوئی خاص تیکھا پن نہیں پایا جاتا۔اس سے دوسال قبل 1928ءمیں آپ نے گُردوں کے قریب واقع غدود(adrenal glands) سے ایک مرکب الگ کیاگیا جسے ہیگزیورانک ایسڈ(hexuronic acid) کا نام دیا۔ مزید تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ بھی جسم میںموجود وٹامن سی ہے۔
الغرض وٹامن سی غذاکا ایک ایسا اہم جزو ہے جس کی کمی سے بہت سی بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں سے کچھ جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔اس لئے ہمیں ایسی غذاﺅں کو لازماً اپنے معمول میں شامل کرنا چاہئے جن میں وٹامن سی موجود ہو ۔ یہ وٹامن خاصی مقدارمیں نارنگی کے خاندان میں پایاجاتا ہے۔ہمارے ہاں کھانوں کو بہت زیادہ پکانے اور تادیر محفوظ رکھنے کا رجحان عام ہے ۔اس سے ان میں وٹامن سی کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔