نیند کا فالج

12

فریحہ فضل
کچھ دن قبل ایک دوست سے ملاقات ہوئی جو کچھ پریشان سی لگ رہی تھی۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ اس کی بڑی بیٹی خواب میں ڈر جاتی ہے ۔ جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو تھوڑی دیر کے لئے بے حس و حرکت لاش کی طرح پڑی رہتی ہے۔ میں نے اس کی تفصیل پوچھی تو اس نے اپنی بیٹی کی زبانی جو کچھ بتایا‘ وہ یہ ہے :
’’آدھی رات کو اچانک مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی میرے سینے پر سوار ہو کر میراگلا دبا رہا ہے۔ مجھے اپنی سانسیںگھُٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔ میں اتنی لاچار ہوتی ہوں کہ لاکھ کوشش کے باوجود اس چیز کو خود سے دور نہیں کر پاتی اور نہ ہی کمرے میںموجود کسی بڑے کو اپنی مدد کے لیے پکار پاتی ہوں۔‘‘

سہیلی نے بتایا کہ اس کی بیٹی کے بقول اسے اچانک یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے کمرے میں اکیلی نہیں بلکہ کوئی ایسی مخلوق بھی وہاں موجود ہے جسے وہ دیکھ نہیں پاتی اورجو اسے مار دینا چاہتی ہے۔ یہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس (لڑکی) کے ہاتھ پاؤں شل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس حالت میں اس کی آنکھ کھل جاتی ہے کہ اس کا جسم خوف سے لرز رہا ہوتا ہے۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ کہیں اس کی بیٹی پر کوئی’سایہ‘ تو نہیں ہو گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ سائے کا تو مجھے علم نہیں لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس طرح کی علامات نفسیاتی امراض کی بھی ہوتی ہیں ۔ اس لئے پہلے اس کے ماہر کے پاس جائو‘ پھر کسی آستانے کا سوچنا۔سمجھ دار لڑکی ہے ، لہٰذا بات اس کی عقل میں آگئی۔ کچھ دن بعد اس کا فون آیا کہ وہ سائیکاٹرسٹ کے پاس گئی تھی جس نے اسے بتایا کہ بچی کو نیند کے فالج (sleep paralysis)کا مسئلہ ہے۔

میں نے جسمانی اور دماغی فالج کا تو سنا تھا لیکن ’نیند کا فالج‘ میرے لئے نئی بات تھی لہٰذا سوچا کہ اس پر معلومات جمع کروں اور شفانیوز کے قارئین کے ساتھ شیئر کروں۔ میںنے ملتان کی ماہرنفسیات (سائیکالوجسٹ ) ڈاکٹر اسماء یونس سے رابطہ کیا توانہوں نے بتایا کہ یہ واقعتاً نیند کا فالج ہی ہے جس کی علامات کو لوگ صدیوں سے غیرمرئی مخلوق یا جنات غیرہ سے وابستہ کرتے آئے ہیں ۔ایسے تصورات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریباً ہر قوم ‘ مذہب‘ نسل اور ملک کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر اسماء یونس کے بقول یہ کوئی خطرناک بیماری نہیںبلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ عارضی طور پر نہ تو بول سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں۔یہ حالت چند سیکنڈوں یا منٹوں میں ختم ہو جاتی ہے تاہم متعلقہ فرد کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔اکثر لوگوںکے ساتھ زندگی میں ایک یا دو دفعہ ہی ایسا ہوتا ہے جبکہ کچھ کو ہر چند ماہ بعد باقاعدگی سے اس صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حالت میں انسان مختلف قسم کی کیفیات سے گزرتا ہے جن میں سینے پر کسی بھاری شے کا دبائو محسوس ہونا‘ سانس رکنا‘ آواز بند ہونے لگنا اور کچھ غیر معمولی تصاویر ذہن میں ابھرنا نمایاں ہیں ۔ اس کے زیر اثر انسان نہ صرف نادیدہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے بلکہ بعض اوقات خود کو مردہ بھی تصور کر لیتا ہے۔ کبھی کبھی وہ خود کو اونچائی سے گرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔یہ سب فریب نظر (halucinations) ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ نیند کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک آر ای ایم (rapid eye movement) یعنی گہری نیند جبکہ دوسری این آر ای ایم (non-repid eye movement) یعنی عارضی نیند زیادہ نمایاں ہیں۔ انسانی نیند کا تقریباً 75 فی صد حصہ گہری نیند پر مشتمل ہوتا ہے اور مذکورہ فالج اس وقت ہوتا ہے جب انسان گہری نیند سے نکل یا اس میں داخل ہو رہا ہوتا ہے۔ اس دوران جسم کا رابطہ دماغ سے منقطع ہو جاتا ہے جس کے باعث جسم پر فالج کی سی کیفیات طاری ہو جاتی ہیں اوروہ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر اسماء یونس کا کہنا ہے کہ ہر 10 میں سے 4 افراد اس کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عموماً یہ مسئلہ بلوغت کی عمر (teenage) سے شروع ہوتا ہے مگر کسی بھی عمر کے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔جب ان سے اس کی وجوہات پوچھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بیماری‘ کسی دوسری بیماری کے باعث ہو سکتی ہیں اور دوسری بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ڈیرہ غازی خان کے ماہر نفسیات ڈاکٹر طاہر عباسی کہتے ہیں کہ کچھ عوامل لوگوں‘ خصوصاً خواتین میں اس بیماری کے لئے مہمیز (catalyst) کا کام دیتے ہیں جن میں مندرجہ ذیل نمایاں ہیں:
٭ نیند کی کمی ہونا۔
٭ نیند کے شیڈول کا متاثر/تبدیل ہونا۔
٭ مختلف ذہنی حالتوں مثلاً ذہنی دبائو یا بائی بولر ڈس آرڈر( ایک نفسیاتی مرض جس میں مریض کا موڈ دو انتہائوں پر رہتا ہے۔)
٭ کچھ خاص ادویات کا استعمال۔
٭ نارکولیپسی (narcolapsy)یعنی نیند اور جاگنے کی کیفیات کو متاثر کرنے والامرض ۔

٭ موروثیت
٭ بالکل الٹا یا بالکل سیدھا سونا ۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کیفیت چند بار ہوئی ہو تو اس کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں لیکن علامات تواتر اور تسلسل سے رونما ہو رہی ہوں تو پھرماہر نفسیات سے مشورہ ضروری ہے ۔
کرس وائٹ (Chris White) نے اس موضوع پر “Stop sleep paralysis for good” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کیوں ہوتا ہے اور اس سے نپٹا کیسے جا سکتا ہے ۔قارئین اگر اس پر تفصیل سے جاننا چاہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ میں نے جن لوگوں سے بات کی یا اس موضوع پر جو تھوڑا بہت پڑھا، اس سے اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اس مسئلے کا آسان حل ان ہدایات پر عمل کرنا ہے جو اچھی نیند کے لئے ضروری بتائی جاتی ہیں ۔ مذہبی تعلیمات میں بالکل الٹا یا بالکل سیدھا سونے سے منع کیا گیاہے۔ نیند کو بہتر کرنے کے لئے سائیکاٹرسٹ کچھ ادویات بھی تجویز کر تے ہیں۔ ابتدائی مرحلے پر اس کے لئے سی بی ٹی ) behaviour therapy cognitive (بھی بہتر رہتی ہے جس میں مریض کی سوچ یا رویوں پر کام کیا جاتا ہے۔اس میںمراقبہ (meditation) بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔مزید برآںماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بچنے کے لئے الکوحل کے استعمال سے بچیں‘ خاص طور پر سونے سے قبل اس سے اور کیفین والے مشروبات سے اجتناب کریں۔اس کے علاوہ سونے سے تین گھنٹے قبل کھانا کھا لیں‘کم از کم آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند ضرورلیں اور صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں۔

نیند کا فالج اصل میں وہ کیفیت ہے جس میں عارضی طور پر جسم کا رابطہ دماغ سے منقطع ہو جاتا ہے اورجسم پر فالج کی سی کیفیات طاری ہو جاتی ہیں ۔دماغ اور جسم کا یہ عارضی اور مختصر تعطل بعض اوقات خوفزدہ کرنے والاہوتا ہے۔ لوگوں کو بڑی تعداد آج بھی اس کی علامات کو جن‘ بھوت یا آسیب خیال کرتی ہے لیکن جب سائنس اس کیفیت کی وجوہات بتا رہی ہے تو لوگوں کو چاہئے کہ پہلے تھیراپی کو آزمائیں‘ اس کے بعد بھلے کسی مستند اور باعمل عالم یا ماہر فن سے ملیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of