میں ناخن ہوں

192

(ثمانہ سید)
السلام علیکم دوستو! کیسے ہیں آپ لوگ؟ امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔آج میں آپ کو اپنے بارے میں کچھ اہم باتیں بتاﺅں گا۔ ارے! آپ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے؟ بھائی آپ اپنی انگلیوں کی پچھلی سمت دیکھیں۔ میں اور میرے دوست یعنی دیگر ناخن آپ کو وہیں ملیں گے۔
فائدے ہی فائدے
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب ان کایعنی ناخنوں کا خیال رکھنے کی اتنی باتیں ہوتی ہیں تو کیاان کا کوئی فائدہ بھی ہے؟
جی ہاں! ہمارے بہت سے فائدے ہےں۔ مثلاً سوئی جےسی بارےک چےز کو اگر پکڑنا ہو تو ہمارے بغےر ےہ کام اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہے۔ جسم کے کسی حصے پرکھجانا پڑ جائے تو بھی ہم ہی کام آتے ہیں۔ ہماری ہی بدولت انسان کے ہاتھوں اور پاﺅں کی خوبصورتی قائم ہے۔ ذرا سوچیں خدانخواستہ کسی کے ہاتھ یا پاﺅں کا کوئی ایک ناخن بھی ٹوٹ جائے تو وہ کتنا برا لگتا ہے اور وہ فرد کتنا اداس ہو جاتا ہے۔ ارے!یہ سب تو اضافی فائدے ہیں۔ہمارااصل کام آپ کے ہاتھوں اورپاﺅں کی انگلےوں کے نازک سروںکی حفاظت کرناہے۔
درد کیوں نہیں ہوتا
کبھی آپ نے سوچا کہ جب آپ کو چوٹ لگتی ہے تو ناخن میں شدید درد ہونے لگتا ہے مگر نیل کٹر سے کاٹنے پر ایسا نہیں ہوتا؟
اس کی وجہ ےہ ہے کہ انگلےوں کے سروں سے باہر نکلے ہوئے مےرے کناروں کے خلئے مردہ ہوتے ہےں یعنی ان مےںجان نہےں ہوتی جبکہ انگوٹھے کے اوپر نےچے خون کی بہت سی چھوٹی چھوٹی نالےاں ہوتی ہےں جو جاندار ہوتی ہےں۔ آپ خود ہی بتائیے کہ مردہ حصے کو درد کیسے ہوگا اور جاندار حصے کو درد کیسے نہیں ہو گا؟
اگر آپ میری باتوں میں اتنی دلچسپی لے رہے ہیں تومیں آپ کو اس کی مزیدتفصےل بتا تا ہوں۔ مےں جس مادے سے بنتا ہوں‘ اسے کیراٹِن (Keratin) کہتے ہےں۔آپ کے بال‘ جلد کی اوپر والی سطح ‘جانوروں کے سےنگ،گھوڑے کے کھر اورپرندوں کے پربھی اسی سے بنتے ہےں۔
اُگتے کیسے ہیں؟
بظاہر توآپ کو ےہی لگتا ہو گا کہ مےں ےعنی کہ ناخن ہاتھ اور پاﺅں کی انگلےوں کے آخری سرے پر شکل مےں اس جگہ سے اگنا شروع ہوتا ہوں جہاں سفےد رنگ کا چاند سا بنا ہوتا ہے لےکن حقےقت مےںاےسا نہےں ہوتا۔ ہم لوگ اس کے پےچھے اپنی جڑ سے اُگتے ہےں جو جلد کی بےرونی پرت کے نےچے چھپی ہوتی ہے۔ ہے ناں دلچسپ بات؟
ایک اور مزے کی بات یہ کہ ہم مسلسل اگتے رہتے ہیں‘ اور جب ہم لوگ اپنی جڑ سے اُگتے ہےں تو اپنی جگہ پر پہلے سے موجود خلےوں کو آگے ےعنی انگلےوں کے سروں کی طرف دھکےلتے ہےں۔ان خلےوں ہی کی تےار کردہ پروٹےن ”کیراٹن“ کی وجہ سے ہم سخت اور ہموار ہو جاتے ہےں اور ”ناخن بستر“ کے اوپر سے پھسلتے ہوئے ہاتھوں اور پاﺅںکی انگلےوں کے سروں تک پہنچ جاتے ہےں۔ ان سروں تک پہنچنے کے بعد ہم آپ کی انگلےوں کی جلد سے الگ ہو جاتے ہےں اور ہماری رنگت گلابی کی بجائے سفےد ہو جاتی ہے۔ ےہ ہے وہ سسٹم جس کے تحت ہم ےعنی ناخن بڑھتے ہےں۔
ابھی میں نے ’ناخن بستر‘ کی بات کی تھی۔آپ ضرور جاننا چاہتے ہوں گے کہ یہ کیا ہے؟ توجناب! آپ کی انگلےوں کے سروں پر خون کی بے شماربارےک نالےاں ہوتی ہےں۔بس ‘مےرا بستر انہی کے اوپر لگتا ہے اور مےری گلابی رنگت انہی کی وجہ سے ہے۔کبھی کبھی میری رنگت پیلی‘کالی یا بالکل سفید بھی ہونے لگتی ہے۔اس کی وجہ کوئی بیماری ہو سکتی ہے لہٰذا میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ایسے میں ضرور ڈاکٹر کو چیک کروا لیں۔
میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہم ہرماہ2.5 ملی مےٹر کے حساب سے بڑھتے ہےں۔ اس طرح اےک ناخن تےن سے چھ ماہ مےں مکمل طور پر تبدےل ہو جاتا ہے۔ نیزہاتھوں کی انگلےوں کے ناخن‘ پاﺅں کے ناخنوں سے دوگنا تےزی سے بڑھتے ہےں اورسردےوں کے مقابلے مےں گرمےوں مےں جلدی بڑے ہوتے ہےں۔
قدرت نے ہمارا نظام ایسا بنایا ہے کہ اگر چوٹ لگ جائے یاہم ٹوٹ جائیں اور ہماری جڑ بری طرح سے زخمی نہ ہوئی ہو تو ہم دوبارہ اُگ آتے ہےں۔ ہم میں سے ہاتھوں کی انگلےوں مےں انگوٹھے کاناخن سب سے سست جبکہ درمےانی انگلی کاسب سے زےادہ تےزی سے اگتا ہے۔آپ نے شاید اس کا تجربہ بھی کیا ہو گا کہ اگر انگوٹھے کا ناخن زیادہ کاٹ دیا جائے تو وہ زیادہ وقت لیتا ہے اگنے میں‘جبکہ درمیان والی انگلی کے ناخن ہمیشہ سب سے پہلے بڑھ جاتے ہیں۔
صفائی اور دیکھ بھال
اچھا ایک بات توبتائیں۔
کبھی آپ کو سکول میں اس بات پر ڈانٹ پڑی کہ آپ میرا یعنی اپنے ناخنوں کا خیال نہیں رکھتے؟ انہیں بروقت کاٹتے نہیں یاانہیں گندا چھوڑ دیتے ہیں؟ یقیناً ایسا ہوا ہو گا۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ بچپن سے ہی والدین اور سکول والے ہماری حفاظت پراتنا زور کیوں دیتے ہیں؟
تو جناب! اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے کام کی وجہ سے ہم لوگ باآسانی جراثیم کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ اگر ہمیںلمبارکھا جائے تو گندگی ہمارے اندر پھنس جاتی ہے جس میں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں۔ پھر جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو یہ جراثیم بھی منہ کے رستے آپ کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں اورنتیجتاً آپ بیمار پڑنے لگتے ہیں۔لہٰذاہمےں ہفتے میں ایک دن ضرور تراشیں۔ اورجب بھی ہمیں کاٹیں‘ سےدھا کاٹیںاور کنارے ہموار کرلیں۔ اگر ہم پاﺅں کے ہوں تو زےادہ سست روی سے بڑھتے ہےں‘ لہٰذا ہمیں کاٹنے کی ضروت نسبتاًکم ہوتی ہے۔ پھر بھی انہیں کم از کم15دن میںایک مرتبہ ضرور کاٹیں۔
اگرآپ کو لگے کہ مےں جلد ٹوٹ جاتا ہوں تو مجھ پرکوئی معیاری کرےم لگائیں، مےں مضبوط ہو جاﺅں گا۔ مجھے ہر روز اردگرد اور نےچے سے دھونا اہم ترین تدبیر ہے۔ اس کام کےلئے نےل برش استعمال کےا جا سکتا ہے لےکن اس سے پہلے ہاتھوں اورپاﺅں کواچھی طرح سے گےلا کرلیں ورنہ ہمارے نازک حصے زخمی ہو سکتے ہےں۔ پاﺅں کے ناخنوں کی حفاظت کے ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ آپ ہر رات بند جوتوں کو ہوا لگوائیںتاکہ آپ کو پسےنے والے جوتے نہ پہننا پڑےں اور ہم بھی محفوظ رہےں۔ نیز جوتے ایسے پہنیں جو بہت تنگ نہ ہوں تاکہ ہم بھی تنگ نہ ہوں اور آپ کا پاﺅں بھی زخمی نہ ہو۔
کہیں آپ لوگ میری باتوں سے بور تو نہیں ہو گئے؟ سیانے کہتے ہیں کہ جب نصیحت بور کرنے لگے تو رک جانا چاہئے۔ میں بھی جاتا ہوں، لیکن جاتے جاتے صرف چند باتیں کرنا چاہوں گا۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں مضبوط بنانے کے لیے کیلشیم‘ جیلاٹن یا بازار میں دستیا ب دیگرمصنوعات کا استعمال ضروری ہے۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہے مگرہمیں صحت مند‘ چمکیلا اور تندرست رکھنے کے لیے متوازن غذا اور پانی کا استعمال سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی مسئلے کہ صورت میں ڈاکٹر سے زیادہ بہتر مشورہ کوئی نہیں دے سکتا۔
امید ہے آپ کو مجھ سے مل کر خوشی ہوئی ہو گی۔ اچھا اب اجازت چاہتا ہوں۔ اللہ حافظ!