مسائل بھیجئے‘ماہرنفسیات سے جوابات پائیے

162

ایک عرصے سے قارئین کا مطالبہ تھا کہ شفانیوز میں ان کے نفسیاتی مسائل پر بھی گفتگو کی جائے ۔ ”نفسیاتی گرہیں“ کے عنوان سے یہ کالم شفانیوز کا حصہ رہا ہے جسے دوبارہ شروع کیا جارہا ہے ۔اس میں لاہور سے تعلق رکھنے والی کلینیکل سائیکالوجسٹ عروج نجم الثاقب آپ کے سوالات کے جوابات دیا کریں گی ۔ اپنے سوالات بھیجنا اور رائے سے آگاہ کرنا مت بھولئے گا

بے وجہ کی بے چینی
٭ میری امی کی عمر تقریباً65 سال ہے۔ ان کی طبیعت ہروقت بے چین سی رہتی ہے۔بظاہر کوئی پریشانی نہ ہوتے ہوئے بھی ہر پل ان کے دماغ پر بوجھ سا رہتا ہے۔ انہیں بھوک نہیں لگتی اورنہ ہی ان کادل کچھ کھانے کو چاہتاہے۔وہ ڈپریشن کی گولیاں بھی لے رہی ہیں مگر افاقہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی بتا دوں کہ ہمارے گھر میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں جس کے سبب ان کی ایسی حالت ہوئی ہو۔ پلیز! اس بارے میں کچھ مشورہ دیں۔
(کوثر بخش، جھنگ)
٭٭جو لوگ پوری زندگی مشکل حالات کا مقابلہ کرتے گزارتے ہیں اورسخت محنت کرتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں چھوٹی چھوٹی پریشانیاں بھی بہت زیادہ تنگ کرنے لگتی ہیں اور وہ بچوں کی طرح حساس ہو جاتے ہیں۔مردوں کی طرح خواتین بھی اس کیفیت سے گزرتی ہیں۔ اس وجہ سے ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیرڈپریشن دور کرنے والی گولیاں کھاناقطعاً مناسب نہیں۔ انہیںبھوک نہ لگنے اور طبیعت میں بے چینی کا ایک سبب ان گولیوں کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے ۔میرا مشورہ ہے کہ آپ انہیں ان کی دلچسپی کے کسی کام میں مصروف رکھیں، انہیں چہل قدمی کروائیں اور ان کے ڈپریشن کے بارے میں ان سے بات کریں۔ امید ہے کہ اس سے افاقہ ہوگا۔

جھوٹ کی عادت
٭ میری بیٹی کی عمرمحض نو سال ہے لیکن وہ ابھی سے بات بات پر جھوٹ بولنا شروع ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے گھر میں کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت نہیں لہٰذا یہ نہ سمجھا جائے کہ اس نے یہ عادت بڑوں سے سیکھی۔ براہ مہربانی بتائیے کہ اسے کیسے سمجھایا جائے؟
(محمد جنید، راولپنڈی)
٭٭اس عمر میں بچے بالعموم جھوٹ کا سہارا تب لیتے ہیں جب وہ سچ چھپانا چاہتے ہیں ۔ دل میں خوف ، توجہ حاصل کرنا یا عادت بھی اس کا سبب ہو سکتا ہے۔عمر کے اس حصے میں انہیں صحیح اورغلط کی پہچان کروانا پڑتی ہے ۔آپ کے لئے مشورہ یہ ہے کہ اپنی بیٹی سے دوستی کریں۔ سب سے پہلے اسے اس بات کا یقین دلائیں کہ سچ بولنے پر اسے ڈانٹ نہیں پڑے گی۔ جب بچے سچ بولتے ہیں توعموماً انہیں ڈانٹایا مارا جاتا ہے جس سے وہ جھوٹ کا سہارا لینے لگتے ہیں اور پھروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔ آپ نے بتایا کہ آپ کے گھر میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ یقیناً اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کو دیگر رویوں پر بھی غور کرنا چاہئے ۔

خاوند کا غصہ
٭میری شادی کو دو سال ہو گئے ہیں اور میں ایک بچی کی ماں ہوں۔ میرے شوہر کو بات بات پر بہت شدیدغصہ آتا ہے، حتیٰ کہ وہ بچی کارونا بھی برداشت نہیں کر تے۔ میں نے انہیں کئی بار سمجھایا مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔اس بارے میں کیا کیا جائے؟
(شازیہ نورین،خانیوال)
٭٭بہت سے مرد حضرات بچوں کے ساتھ زیادہ گھلتے ملتے نہیں اور ان سے سختی برتتے ہیں۔وہ ان سے فاصلے پر رہتے ہیں اور اگر کبھی ان کے ساتھ کھیلیں بھی تو بہت تھوڑے وقت کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مائیں پورا دن بچوں کے ساتھ گزارتی اور ان کی ہر اچھی اور بری عادت کو برداشت کرتی ہیں ۔مردجب پورا دن کام کاج کے بعد تھکے ماندے گھر آتے ہیں تو آرام کرنا چاہتے ہیں۔ایسے میں اگر گھر میں شور ہو تو وہ مزید چڑ جاتے ہیں اور غصہ کرنے لگتے ہیں۔پہلے بچے کا رونا دھونا زیادہ ہوتا ہے ، اس لئے کہ والدین اسے سنبھالنے کے عادی نہیں ہوتے۔
اس کا حل یہ ہے کہ آپ کے شوہر جب اچھے موڈ میں ہوں تو ان سے بات کریں اور اس مسئلے کا مل جل کر کوئی حل نکالیں۔ یہ بہت ضروری ہے‘ اس لئے کہ بچی پر غصہ اتارنے سے اس پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اوراگر ان میں غصہ ویسے ہی زیادہ ہے تو انہیں نفسیاتی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے ۔

روک ٹوک پسند نہیں
٭میری عمر17سال ہے اور میرا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ میرے والدین مجھے بالکل”space“ نہیں دیتے۔کبھی میں کالج سے لیٹ ہو جاو¿ں تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ میری کوئی بات نہیں سنتے اور ضرورت سے زیادہ روک ٹوک کرتے ہیںجس کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی دباو¿ ہے۔ بتائیے کہ میں کیا کروں ؟
(شعیب خان،پشاور)
٭٭شعیب! یہ صرف آپ کا نہیںبلکہ آج کل کے تقریباًہر نوجوان کا مسئلہ ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم ‘اخلاقی برائیوں ‘کشیدگی‘ عدم برداشت اور امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث والدین اپنے بچوں کے حوالے سے فکرمند ہوتے ہیں۔ وہ انہیں ہر برائی اور نقصان سے بچانا چاہتے ہیں اور ان کے معاملے میں بہت زیادہ حساس ہو جاتے ہیں ۔
آپ کو چاہئے کہ والدین جن باتوں کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں‘ وہ انہیںپہلے ہی بتا دیا کریں۔ مثلاًیہ کہ آج آپ دیر سے آئیں گے یا آپ کو کہیں ضروری کام جانا ہے۔والدین کا رویہ تبدیل کرنے کے لیے ماہرین نفسیات ان کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ آپ انہیں بالواسطہ طور پر یعنی انکل وغیرہ کے ذریعے کسی ماہرنفسیات سے مشورے پر قائل کر سکتے ہیں۔

بیویوں کی فضول خرچی
٭ میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں اوربظاہر میں اور میرا خاندان خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ میرا مسئلہ میری بیوی کی فضول خرچی سے متعلق ہے۔ اس کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ اسے ساری زندگی ماں باپ اور بہن بھائیوں کی طرف سے بے جا لاڈ پیار کے ساتھ ہر پسند آ جانے والی چیز خرید لینے کی عادت بھی ملی۔ اب میری تنخواہ اتنی زیادہ نہیں کہ اس کے اتنے اخراجات اٹھا سکوں۔ میں نے اسے کئی مرتبہ پیار سے سمجھایا لیکن وہ اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اگرکبھی ڈانٹ دوں تو روٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔مجھے بتائیں کہ اسے کیسے سمجھاو¿ں۔
(فیاض قیصر، کراچی)
٭٭فیاض صاحب ! آپ نے جس صورت حال کا ذکر کیا‘ وہ بہت سے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ فضول خرچی ایک عادت ہے جس میں ماں باپ کی تربیت اور گھر کے ماحول کا گہراکردار ہوتا ہے۔ آپ یہ مسئلہ اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت سے ہی حل کرسکتے ہیں ۔ماہانہ آمدنی کے حساب سے اپنا بجٹ ترتیب دیں اورخریدوفروخت میں ترجیحات کا واضح تعین کریں۔اس کے بعد روزمرہ اخراجات کے معاملات اپنی بیوی کے ہاتھ میں دیں تاکہ وہ گھر کی سرگرمیوں سے وہ جڑی رہیں ۔ اتنی سی شراکت داری کا بوجھ بھی ان میں احساسِ ذمہ د اری پیدا کرنے کے لئے کافی ہوگا اور وہ نہ صرف اس عادت سے بتدریج دور ہوتی جائیں گی بلکہ کچھ بچت کر کے آپ کا ہاتھ بھی بٹانے لگیں گی ۔