صحت مند بال،سر کا تاج

183

    زمانہ قدیم ہو جدید‘ یہ بات اپنی جگہ ہمیشہ مسلم رہی ہے کہ بال سر کے تاج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئینے میںا پنے بالوں کو دیکھ کر اگر کسی خاتون کو خوشی نہ ہوتی ہو تو اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ خوبصورت نہیں ہے۔ والدین سے جو چیزیں ہمیں ورثے میں ملتی ہیں‘ ان میں سے ایک شکل و صورت بھی ہے جسے من و عن قبول کئے بغیر چارہ نہیں۔ قدرت سے لڑنا تو ممکن نہیں لیکن بالوں کو محض ڈھنگ سے بنانے اور سنوارنے سے معمولی شکل و صورت والی لڑکی بھی پُرکشش نظرآنے لگتی ہے۔ ایک زمانے میں بالوں کو سنوارنا جان جوکھوں کا کام لگتا تھا لیکن آج کے دور میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔آپ اپنے بالوں کوکوئی بھی انداز دے سکتی ہیں اوراس حوالے سے نت نئے تجربات بھی کرسکتی ہیں۔
بالوں کو سجانے اور سنوارنے کے لئے ان کی بناوٹ کے بارے میں جاننا ضروری ہے‘ اس لئے کہ وہ اپنی بناوٹ اور نوعیت کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ ان میں فرق ہوتا ہے۔ مثلاً کچھ بال فطرتاً باریک تو کچھ موٹے ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ ہلکی یا گہری رنگت والے‘ گھنگھریالے یا سیدھے اور چھوٹے یا لمبے بھی ہوتے ہیں۔ بالوں کی حفاظت کے حوالے سے کامیابی کی کلید یہ ہے کہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ انداز اختیار کیا جائے۔ اگر اس بات کا خیال نہ رکھاجائے تو بعض اوقات مضحکہ خیز صورت حال بھی سامنے آسکتی ہے۔
سر کے بال گننا تو ممکن نہیں لیکن پھر بھی کچھ اندازوں کے مطابق ایک بالغ فرد کے سر پر اوسطاً ایک لاکھ بال ہوتے ہیں اور ہر بال انفرادی حیثیت میںنشوونما پا کر تین مرحلوں سے گزر تا ہے۔ 90 فی صد بال نشوونما کے مرحلے میں چار سے پانچ سال تک قائم رہتے ہیں۔ ہارمونز کی سطح میںکمی بیشی‘ مخصوص ایام کے نظام میں گڑ بڑ‘سر اوربالوں کی ساخت میں کسی مسئلے کا پیدا ہونا اور نفسیاتی مسائل بالوںکو متاثر کرتے ہیں۔
بالوں کی ساخت
بالوں کی ساخت اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ اچھی ساخت والے بال نرم ہوتے ہیں اورکسی بھی شکل میں آسانی سے ڈھل جاتے ہیں۔ خراب بناوٹ والے بال سخت اورکھردرے ہوتے ہیں اور انہیں سنوارنا دشوارہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کے بالوں میں ان دونوں کے درمیان والی قسم پائی جاتی ہے جنہیں سنوارنابہت آسان ہوتا ہے۔
اس تناظر میں دوسراسوال یہ ہے کہ آپ کے بال موٹے ہیں یا باریک؟ کہاجاتا ہے کہ گرم آب و ہوا کے حامل ممالک کی خواتین کے بال موٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ دھوپ کی شدت ہے۔
سرکا مساج
سرکا مساج بہترین اور سکون آور عمل ہے جس میں سر کی کھنچی ہوئی جلد ڈھیلی اور نرم ہوجاتی ہے‘ خون کی گردش تیز ہوتی ہے اور نئے بالوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔ سر کے مساج کے لئے صرف انگلی کی پوروں کو استعمال کریں اور ناخنوں سے اسے بچائیں۔ مساج کے دوران زیادہ توجہ سر کے ان حصوں پر دیں جو سخت محسوس ہوں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کیسے اندازہ ہو کہ آپ کے بال چکنے ‘خشک یا نارمل ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ بالوں کو شیمپو سے دھونے کے دودن بعد ان کا معائنہ کریں۔ اگر ہر بال انفرادی طور پر چپچپا سالگے تو یہ چکنے بال ہیں۔ اگر بال آسانی سے ایک دوسرے میں الجھ جائیں اور قابو میں نہ آئیں تو وہ خشک ہیں اور اگر وہ ان دونوں خصوصیات کے درمیان کی کیفیت رکھتے ہوں تو وہ بال نارمل کہلائیں گے۔
بالوں کو دھونے کے لئے چارمراحل سے گزرناہوتا ہے۔ سب سے پہلے شیمپو کریں‘ بالوں کو آہستہ آہستہ ملیں‘ کنڈیشننگ کریں اورآخر میں دھوکر خشک کرلیں۔
شیمپو کا درست طریقہ
بالوں کو اچھی طرح سے بھگولیں‘ اس لئے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ کو بھرپورجھاگ نہیں ملے گا۔بالوں کو دھوتے وقت ان میں انگلیاں پھیرتی رہیں تاکہ یہ الجھنے سے محفوظ رہیں۔ شیمپو کو براہ راست سر میں نہ ڈالیں بلکہ اس کی تھوڑی سی مقدار ایک ہتھیلی پر لے کر دونوں ہتھیلیوں کوآپس میں رگڑیں اور پھر بالوںمیں لگائیں۔ جب جھاگ بننا شروع ہو جائے تو سر کا مساج شروع کریں۔ یہ عمل دومنٹ تک کریں۔ ہفتے میں دوبارہ شیمپو کرنا ضروری ہے۔ بال اگر گندھے ہوئے ہوں تو زیادہ بار لگانے میں بھی کوئی حر ج نہیں ہے۔
بال کیسے کھنگالیں
اگر بال اچھی طرح سے کھنگالے نہ جائیں تو یہ سرے سے دھلے ہوئے ہی نہ لگیں گے۔آپ بال کھنگالنے میں عام طور پر جتنا وقت لیتی ہیں‘اس سے دوتین بار زیادہ کھنگالنے سے باقی ماندہ شیمپو بھی بالوں سے نکل جاتا ہے۔اگر صابن یا شیمپو بالوں میں لگا رہ جائے توبال کمزور اور چپچپے ہوجائیں گے اور جلدہی گندے بھی ہوجائیں گے۔ایک اور ٹوٹکہ یہ ہے کہ بالوں کوآخری بارٹھنڈے پانی سے کھنگالیں۔
کنڈیشننگ کادرست طریقہ
بالوں کی ضرورت کے مطابق کنڈیشنز ہاتھ میں انڈیلیں۔ اب اسے بالوں میں اوپر سے نیچے کی طرف لگائیں اور پانچ منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔کنڈیشننگ بالوں کی حفاظت کرتی ہے لہٰذا اسے ہر طرح کے بالوں میں استعمال کرنا چاہیے۔ یہ کریم لوشن ہوتا ہے جس سے بال نرم ہوجاتے ہیں‘ اسے لگانے کے بعد کنگھا کرنے میں آسانی رہتی ہے ورنہ گیلے بالوں میں کنگھا کرنے سے بال ٹوٹتے ہیں۔ بال الجھ جائیں تو انہیں سلجھانا آسان ہوتا ہے۔ اس سے بال چمکدار‘ جاندار اور شاندار نظرآتے ہیں اورہوا سے بالوں کو بکھرنے سے روکاجاسکتا ہے۔ یہ ماحولیاتی آلودگی سے بالوں کو بچاتا ہے اور ان کی افزائش میں بھی مدد دیتاہے۔
بال کیسے سکھائیں
اگر بالوں کو قدرتی طور پر خشک ہونے دیاجائے تو بہتر ہے‘ خاص طور پر لڑکیوں کو اس سے کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگرکسی وجہ سے جلدی ہو تو گیلے بالوں میں کنگھا کرنے سے پہلے تولئے کی مدد سے تھپتھپا کر بالوں کو نتھارلیں۔اس کے بعد تولیہ بالوں پر لپیٹ لیں تاکہ وہ پانی جذب کرلے۔10 منٹ تک تولیہ لپٹا رہنے دیںجس کے بعد اسے کھولیں اور بالوں میں کنگھا کرلیں۔اس کے لئے ایسا کنگھا استعمال کریں جس کے دندانوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہواور جن کی نوکیں گول ہوں۔گیلے بالوں میں برش ہرگز نہ کریں۔پہلے بالوں کے آخری سرے سے کنگھا کریں اور جیسے جیسے بال سلجھتے جائیں اوپر کی طرف آتی جائیں۔
آخر میں ایک اہم ترین بات یہ کہ بالوں سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کوئی کریم،دوائی یا ٹوٹکا مت استعمال کریں۔بالوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے ان کی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں۔بالوں کو سیدھاکرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات کا محتاط استعمال کریں کیونکہ ان سے بال کمزور ہونے لگتے ہیں۔اور ہمیشہ معیاری کمپنی کی مصنوعات ہی خریدیں کیونکہ آپ کے بال بہت قیمتی ہیں ان کا خیال رکھیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

کینسر ایک مہلک اور جان لیوا مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت

٭میرے بال کندھوں تک ہیں اور میں حجاب پہنتی ہوں۔ میرے او

“I did not feel like a mother nor was I eager to take her in my arms. I was aware of my feelings a