سلفا ڈرگزکی دریافت

جراثیم کش ادویات کا ذکر آتے ہی ہمارادھیان الیگزینڈرفلیمنگ) (Alexander Flemingکی طرف جاتا ہے جن کی دریافت کردہ حیرت انگیز دوا پنسلین(Penicillin) کی بدولت جنگ عظیم دوم سے اب تک لاکھوں نہیں‘ کروڑوں انسانی زندگیوں کوبچاناممکن ہوا ہے۔ ہم ڈاکٹر فلیمنگ کی عظیم خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے تہہ دل سے شکرگزار بھی ہیں لیکن اگر تاریخِ طب کامطالعہ کیاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ پنسلین کی دریافت سے کئی سال پہلے ایسی دوائیں دریافت ہوچکی تھیں جنہوں نے انفیکشنز سے متاثرہ لاکھوں انسانی جانیںبچائی تھیں۔یہ دوائیں سلفا ڈرگز(Sulfa Drags) کہلاتی ہیں جن کی دریافت کا سہراایک جرمن سائنسدان ڈاکٹر جیرارڑوماک (Gerhard Domagk)کے سر ہے‘ تاہم انہیں بوجوہ ڈاکٹر فلیمنگ جیسی شہرت نہ مل سکی۔
ڈاکٹر ڈوماک ایک جرمن کمپنی کے ساتھ ایک محقق کی حیثیت سے وابستہ تھے ۔یہ کمپنی ایزوڈائیز(azo dyes) نامی صنعتی رنگوں پر تحقیق کے ذریعے جراثیم کش خصوصیات کی حامل کوئی دوا تیار کرنا چاہتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب اس طرح کی کوئی دوا موجود نہ تھی لہٰذامتعدی امراض ‘ گلے ‘ پھیپھڑوں اور جلد کی بیماریوں‘ نمونیہ‘ گردن توڑ بخار (Meningitis) اورزچگی کے بعد انفیکشن کی وجہ سے بڑی تعدادمیں اموات ہو رہی تھیں ۔
عظیم محقق کو کمپنی کی طرف سے دوماہرکیمیادانوں کی خدمات حاصل تھیں جو اُن کے تجربات کے لئے مختلف طرح کے کیمیائی مرکبات تیارکرتے تھے۔ ان میں سے ایک کیمیادان میٹش(Mietzch) نے کچھ عرصہ پہلے ایک دوا ایٹابرائن (Atabrine) ایجادکرلی تھی جوملیریا کی بیماری کے شکار ان مریضوں پر خاصی موثر ثابت ہو رہی تھی جن پرکونین اثر نہ کرتی تھی ۔اگلے چند ماہ کے دوران ڈوماک کے لئے سینکڑوں مرکبات تیار کر لئے گئے۔
1931ءمیں ایک مرکب (KL 695) پر تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہ لیبارٹری کے چُوہوں(جن کے جسموں میں سڑیپٹوکوکال (Streptococcal) نامی جراثیم داخل کئے گئے تھے ) کا انفیکشن ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ابتدائی کامیابی کے بعد لیبارٹری میں اس کا فارمولا تبدیل کرکے تقریباً 35نئے مرکبات بنائے گئے ۔بالآخر ایک ایسا مرکب(KL 730) سامنے آگیاجو نسبتاً زیادہ موثرتھا۔ یہ گہرے لال رنگ کا مرکب تھا جسے اس کے رنگ ہی کی مناسبت سے پرانٹوسل ربرم (Prontosil Rubrum) کا نام دیاگیا۔ڈاکٹر ڈوماک نے اگلے تین سال اس پر مزید تحقیق کی جس کے بعد 1935ءمیں اپنی رپورٹ شائع کی جس میں لکھا کہ یہ دوا سٹریپٹوکوکال (Streptococcal) اور سٹیفائلوکوکال(Staphylococcal)جیسے انفیکشنز کے علاوہ بہت سے متعدی امراض میں بھی موثر ہے۔اسی عرصے میں ڈوماک کی چھ سالہ بیٹی ہِل ڈیگارڈ (Hildegard)کو ہاتھ میں سوئی چُبھ گئی جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم میں انفیکشن پھیل گیا ۔اگر یہ بازوتک محدود رہتا تو ڈاکٹر اسے کاٹ دیتے لیکن معاملہ اس سے کافی آگے جا چکا۔ ان حالات میں ڈاکٹر ڈوماک نے بچی کو پرانٹوسل کے انجکشن لگائے جنہوں نے معجزانہ طور پر اس کی جان بچا لی۔ دواچونکہ گہرے سُرخ رنگ کی تھی لہٰذا اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہِل ڈیگارڈ کی جلد کا رنگ ہمیشہ کے لئے لال ہو گیا تاہم یہ بھی غنیمت تھا کہ اس کی جان بچ گئی۔
دوا پرتحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس کا اثر امتحانی نلی کی بجائے جانوروں کے جسم میں زیادہ ہوتا ہے جس کا سبب یہ تھا کہ وہ جسم میں داخل ہونے کے بعد دوکیمیائی اجزاءمیں تقسیم ہو جاتی تھی ۔ان میں سے ایک بے رنگ جزو سلفونامائیڈ (Sulfonamide) تھا جس میں سلفا (sulpha)پایا جاتا ہے اور پرانٹوسل دوا کا موثرجزو یہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جزو کئی برس پہلے1908ءمیں رنگ سازی کی صنعت میں استعمال ہونے کے لئے بنایا گیاتھا ۔اس وقت کسی کو اُس کی جراثیم کش خاصیت کا علم نہ تھا ورنہ سلفاڈرگزکا استعمال کئی برس پہلے ہی شروع ہوگیا ہوتا۔جب سلفادوائیں بکثرت استعمال ہونے لگیں تو 1937ءمیں ایک کمپنی نے اسے گولیوں کی بجائے شربت کی شکل میں پیش کیا‘ اس لئے کہ اسے زیادہ پسند کیا جاتا تھا۔ مٹھاس پیداکرنے کے لئے اس میں ڈائی ایتھائل گلائی کال (Diethyl Glycol)استعمال کیا گیا ۔ یہ دوازہریلی ثابت ہوئی جس سے کم و بیش 108افراد جاں بحق ہوگئے۔
جنگ عظیم دوم کے دوران ایجاد ہونے والی پنسلین چونکہ سلفا کے مقابلے میں قدرے زیادہ موثر تھی لہٰذا ڈاکٹروں کی توجہ اس نئی اینٹی بائیوٹک کی طرف مبذول ہوئی اوروہ تھوڑے ہی عرصے میں مقبولیت حاصل کرگئی۔ چونکہ 90فی صد پنسلین جسم سے پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے لہٰذااس دوا کی طلب کو پورا کرنے کے لئے مریضوں کے پیشاب سے پنسلین کو کیمیائی طریقے سے الگ کرکے دوبارہ استعمال کیا جاتاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلفا دواﺅں کا استعمال بھی جاری رہاجو بذریعہ انجکشن دی جاتیں۔ اس کے بعد کمپنیوں نے کئی قسم کی سلفا دوائیں ایجاد کیں جو بہت مفید ثابت ہوئیں۔ یہ دوائیں نہ صرف جراثیم کش ہیں بلکہ ان میں سے چند ایسی بھی ہیںجنہیں مرگی کے علاج اور جسم سے فالتو پانی کے اخراج کے لئے بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ سلفا دواﺅںکی بعض اقسام اب بھی بعض انفیکشنز (مثلاً کان‘ پیشاب کی نالی اور عورتوں کی اندام نہانی کے انفیکشن )اور پیٹ کی خرابی کی وجہ سے ہونے والے دستوں میں بھی موثر ہیں۔
سلفا ڈرگز نے کم ازکم دو اہم اور تاریخی شخصیتوں کی جان بچائی۔ ان میں سے ایک برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل تھے جنہیں نمونیا ہو گیاتھا۔ دوسری اہم شخصیت جنگ عظیم دوم کے دوران امریکی صدرروزویلٹ کا بیٹا( اُنہی کا ہم نام ) تھا جسے بہت خطرناک انفیکشن ہوگیا اور انہی دواﺅں نے اس کی جان بچائی۔ 1939ءمیںڈاکٹر ڈوماک کو میڈیسن میں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں نوبل پرائزدیاگیا لیکن جرمن حکومت نے سیاسی اختلافات کی بناءپرانہیں یہ انعام واپس کرنے پر مجبورکردیا۔وہ تاریخ کے چنداہم سائنسدانوں میں سے ایک ہیںاورسلفا دواﺅں کی دریافت پر ہم ہی نہیں‘ پوری انسانیت ان کی شکرگزار ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

بحالی صحت

Read Next

سرسبز اورصحت مند ۔۔۔لتھوانیا

Most Popular