سرسبز اورصحت مند ۔۔۔لتھوانیا

139

سفرصرف وسیلہ ظفر ہی نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔ اگر یہ کسی دوسرے خطے کے ملک کا ہو تو ہمیں جہاں اس کے رہن سہن‘ بودوباش اور طورطریقوں کا علم ہوتاہے‘ وہیں صحت کے تناظر میں بھی بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔زیر نظرمضمون میں فریحہ فضل نے شمالی یورپ کے ملک لتھوانیا کے سفر کا احوال بیان کیا ہے ۔ اگلے چند شماروں میں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اپنی رائے سے ضرور نوازئیے گا  
    حسن جب دفترسے گھر آئے تو ان کا چہرہ خوشی سے تمتارہا تھا۔ انہوں نے دور سے ہی اپنی اماں کواور مجھے آوازیں دےنا شروع کر دیں۔
”اللہ خیر! کیا ہوا حسن ، میرے بچے؟“اماں گرتے پڑتے لاﺅنج میں پہنچیں۔بچے بھی بابا کے گرد جمع ہوگئے ۔
”تم لوگوں کو پتہ ہے کہ میں سرکاری دورے پر کہاں جارہا ہوں؟“ انہوں نے چہکتے ہوئے پوچھا۔ وہ کئی دن سے ذکر تو کررہے تھے کہ کہیںجانا ہے‘ مگر کہاں؟ اس کا انہوں نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
”کہاں جارہے ہیںبابا؟“ بچوں نے بے چینی سے پوچھا ۔
”لِتھوانیا“انہوں نے یک لفظی جواب دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کہا، اس سے ہم سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ وہ بولے :” میں اکیلا نہیں بلکہ ہم سب!!! “
ان کے دورے کے اخراجات تو ادارے کے ذمے تھے جبکہ ہم لوگوں کا خرچ انہیں ذاتی طور پر اٹھاناتھا ۔
”لِتھوانیا؟“ میں نے حیرت سے کہا :”میں نے تو اس ملک کا کبھی نام ہی نہیں سنا؟“حسن مُسکراکر بولے:” مجھے بھی اس کا کچھ زیادہ علم نہیں‘ جب جائیں گے تو پتہ چلے گاکہ کیسا ملک ہے ۔تم پیکنگ کا سوچو، اس لئے کہ چار دن بعد کی فلائٹ ہے۔“

بحیرہ بالٹک کے خطے میں واقع ریاست لتھوانیا ان تین ریاستوں میں سے ایک ہے جو’بالٹک‘ کہلاتی ہیں۔یہ ملک یورپ کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ایک زمانے میں یہ آزاد ریاستیں تھیں‘ پھر سویت یونین نے ان پر قبضہ کر لیا اور اس کے انہدام پر انہوں نے سویت یونین سے دوبارہ آزادی حاصل کر لی۔یہ ممالک یورپی یونین اور نیٹو‘ دونوں کے رکن ہیں ۔
آزادی کے بعد لتھوانیاکی معیشت مسائل کا شکار ہوئی لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا اور آج وہ یورپی یونین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔اقوام متحدہ کے اشاریہ برائے انسانی ترقی (United Nation’s Human Development Index) کے مطابق یورپ کی ریاستوں میں لتھوانیا 26 ویں نمبر پر ہے ۔
اگلے چار دن تو گویا پَرلگا کر اُڑ گئے ۔یکے بعد دیگرے 17گھنٹوں کی فلائٹس کے بعد بالآخر ہم اس ملک کے شہرکلائی پیڈا (Klaipeda) میں اتر گئے جو لتھوانیا کی بندرگاہ بھی ہے ۔ دریائے ڈین (River Dane) یہیں بحیرہ بالٹک سے ملتا ہے۔یہ یہاں کی واحد تجارتی بندرگاہ ہے جو برف سے آزاد ہے ۔یہ ایک قدیم شہر ہے جس میںآج بھی 18ویں صدی کی لکڑی سے تعمیر شدہ عمارات موجود ہیں جو جرمن فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔شہر کے اس حصے کو ’Old Town‘ یعنی پرانا قصبہ کہتے ہیں ۔ میں اور بچے اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔

اس ملک میں سفری سہولیات اور ذرائع آمدورفت انتہائی آرام دہ اور بہترین ہیں اور ریلوے کاسفر تو بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔ ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ پر وہاں بہت توجہ دی جاتی ہے ۔ سائیکلنگ کو قومی سطح پر فروغ دیاجارہا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ مہمات چلائی جاتی ہیں ۔ سردیوںمیں یہاں شدید سردی پڑتی ہے اور گرمیوں میں بھی درجہ حرارت 14 ڈگری سینٹی سے اوپر نہیں جاتا۔ یہاں ہر وقت ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے اسے ”windy city“ بھی کہاجاتا ہے۔
ٍ  

 اس ملک کا 32فی صد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے یہاں آلودگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔مسلسل سفر‘شدید تھکن اور آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث حسن کی طبیعت خراب ہوگئی جس کے باعث انہیں ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں صفائی کی صورت حال بہت اچھی تھی اور ہمیں بتایا گیا کہ حکومت اس معاملے میں انتہائی سخت ہے۔ایک ڈاکٹر سے گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ کلائی پیڈا کاشمار دنیا‘ خصوصاً بحیرہ بالٹک کے خطے کے صحت مند ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس دیس میں مردوں کی اوسط عمر 70سال جبکہ عورتوں کی80سال ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ امراض قلب کے علاج کی سہولیات کے تنا ظر میں مشرقی یورپ میں یہ ملک بہت آگے ہے۔اس ملک میں کارڈیالوجی کے علاوہ سرجری اور کاسمیٹکس کے شعبے بھی بہت ترقی یافتہ ہیں ۔دانتوں کے امراض کی سہولیات بھی بہت اچھی اور سستی ہیں۔ یہاں مقامی آبادی کے لئے ہیلتھ انشورنس لازمی ہے جس کی بدولت لوگوں کے لئے بنیادی طبی سہولیات مفت ہیں۔
لتھوانیا بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جہاں گندم‘جو‘ باجرہ ‘ سبزیاں‘ مشروم اور آلو بڑی مقدار میں کاشت کئے جاتے ہیں۔ایک بات کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گی کہ یہاں اچھا‘ معیاری اور تازہ پھل بہت سستا ہے۔یہ عام لوگوں کی پہنچ میں ہے اور ان کے غذائی معمول میںبھی شامل ہے ۔پاکستان میںبھی اچھا پھل بکثرت پایا جاتا ہے لیکن عام لوگوں کی قوت خرید ایسی نہیں کہ وہ اسے اپنے غذائی معمول میں شامل کر سکیں‘ ورنہ اچھی چیز کسے اچھی نہیں لگتی۔ لتھوانیا میں لوگ آلو بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ان کے ہاں تو ساسجز (sausages) بھی آلو کے ہوتے ہیں اور پڈنگ بھی۔
اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم ہے لہٰذا حلال کھانے ڈھونڈناخاصا مشکل ہے۔ بہت تلاش کے بعد ایک ترک ہوٹل ملا جہاں زندگی میں پہلی بار ٹراﺅٹ مچھلی کھانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ٹھنڈے پانی کی مچھلی ہے جو ہمارے ہاں شمالی علاقہ جات میں دستیاب ہے مگر یہاں یہ انتہائی مہنگی ہے اور متوسط طبقے کا فرد اسے کھانا افورڈ نہیں کرسکتا۔وہاں ہم نے سٹیک اور بھاپ میںپکی ہوئی مچھلی کھائی جسے مختلف قسم کی سبزیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ناشتے میں وہ لوگ انڈے اور پھلوں کے ساتھ سرکے میں ڈوبی ہوئی سبزیاں مثلاً کھیرے‘مرچیں‘آلو اورپیازبڑے شوق سے کھاتے ہیں۔لوگوں کا بالعموم طرز زندگی صحت مندانہ ہے جس کی وجہ سے ان کے چہرے تروتازہ اور صحت اچھی ہے ۔ یہاں 15سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے تعلیم مفت اور لازمی ہے۔

ہم نے لتھوانیا میں ایسی جگہیں دیکھیںجن کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاتھا۔دریائے ڈین کے کنارے واقع محل میمل برگ (Memelburg) دیکھا جو 1252ءمیں تعمیر کیاگیاتھا۔انتہائی دلکش طرز تعمیرکی حامل اس عمارت کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ڈینوپارک(Dino Park) ایک تھیم پارک ہے جسے دیکھ کر بچے بہت خوش ہوئے۔ اس کے علاوہ تھیٹرسکوائر اور بحری عجائب گھر
(Sea Museum) بھی قابل دید جگہیں تھیں۔
جب ہم اپنے ملک کے حالات‘ غیرصحت مندانہ رویوں اور نگہداشت صحت کی صورت حال کاموازنہ ترقی یافتہ ممالک سے کرتے ہیں تو اپنی خستہ حالی پر بہت دکھ ہوتا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ وہ لوگ ہم سے زیادہ ذہین اور باصلاحیت تو نہیں، پھرہمارے اور ان کے حالات میں اتنا زیادہ فرق کیوں ہے ۔فرق شاید اچھی‘ وژنری اور مخلص لیڈرشپ کا ہے جو انہیں میسرہے اور ہم اس سے محروم ہیں ۔ہم تو شاید صرف ہجوم ہیں اورایک قوم بھی نہیں بن پائے ۔ ہمیں چاہئے کہ انفرادی طور پر اپنے رویوں میں بہتری لائیں۔اسی سے اجتماعی بہتری کا راستہ کھلے گا۔
میں نے کہیں پڑھاتھا کہ کاروبار اور ملازمت ہماری جیب بھرتے ہےں جبکہ سفر ہماری روح کو سیراب کرتا ہے۔مجھے تو اس سے بھرپور اتفاق ہے۔ہمیں کل یہ صاف ستھرا اورخوبصورت شہر چھوڑ کر فرانس روانہ ہونا ہے ۔اتنے خوبصورت شہر کو چھوڑتے ہوئے دل افسردہ بھی ہے اور نئے ملک کے بارے میں تجسس بھری خوشی بھی ۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور دماغ میں نئے دن‘نئے سفر‘نئے ایڈونچر اور اس کی تیاریوں کے خیالات چھانے لگے‘ اور پھر پتہ ہی نہ چلا کب نیند کی وادی میں داخل ہو گئی ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

پیرس فرانس کا دارالحکومت تو ہے، فیشن کا عالمی دارالحکو

”السلامُ علیکم مریم اور شیزا ئ! کیسی ہیں آپ دونوں ۔“سج