سردیوں میں صحت کی حفاظت پالے سے پڑاپالا

209

سردی کا موسم آتے ہی جہاں ٹھنڈی ہواوں ،چھوٹے دنوں اور لمبی راتوں سے لطف اٹھایا جاتا ہے‘وہیں مناسب احتیاط نہ کرنے پر صحت کے حوالے سے کچھ مسائل کابھی سامناکرناپڑجاتاہے۔یہ موسم ماوں‘ خاص طور پرادھیڑ عمر کی ماﺅں کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا، اس لئے کہ ایک طرف انہیں سردی کے باعث جلد اور جوڑوں کے مسائل نے جکڑ رکھا ہوتا ہے تو دوسری جانب انہیں بچوں کو بھی سردی سے بچانے کے لئے اقدامات کرنا ہوتے ہیں ۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہمیں اس دوران پیش آنے والے مسائل سے آگہی ہو تاکہ ہم ان سے حتیٰ الامکان بچ سکےں ۔ ذیل میں سردی کے باعث درپیش مسائل اور ماہرین کی آراءمیں ان کے آسان حل تجویز کئے گئے ہیں جن پر عمل کر کے اس موسم سے بھرپور لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔

جوڑوں اور پٹھوں میں درد
سرد موسم میں بعض لوگوں کوبالعموم اور بزرگوں کوبالخصوص جوڑوں اور پٹھوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے ۔اس موسم میںپرانی چوٹوں کے درد بھی زندہ ہوجاتے ہیں۔ےہ ضروری نہیں کہ جوڑوں اور پٹھوں میں درد صرف سردیوں کے موسم میں ہی ہو‘لےکن پھر بھی اس موسم میں اس کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔ حیات آباد میڈیکل کمپلکس پشاور سے تعلق رکھنے والے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر اسرار احمد موسم سرما کے ساتھ جوڑوں اور پٹھوں میں درد کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
” ٹھنڈک کی وجہ سے جسم میں سکڑاﺅ پیداہوتا ہے جواکڑاﺅ کا باعث بنتا ہے۔اس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور درد شروع ہوجاتا ہے۔ اس کیفےت کو طبی طور پرروماٹزم (rheumatism) کہتے ہےں ۔“ان کے بقول اس موسم میں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس شکاےت میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ اس تکلیف میں مبتلا افراد کو چاہئے کہ اپنے جسم کو ذرابہتر طور پر گرم رکھےں تاکہ خون کے بہاو میں بہتری آئے۔ نتیجتاًپٹھوں اور جوڑوں کے اکڑاو میںکمی آئے گی اوردرد جاتا رہے گا۔ مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ آپ خود کومتحرک اورچست رکھیں اور سردی کے باوجود چہل قدمی ضرور کریں۔

جِلدی خارش اورچبھن
سردیوں میں پانی کم پینے‘زےادہ موٹے اور ہوابند کپڑے پہننے اور گےس ہیٹر کازیادہ استعمال کرنے سے بہت سے جِلدی مسائل پیدا ہونے لگتے ہےں۔اگر ہوامیں نمی کا تناسب کم ہو تو انسانی جلد خشک ہوجاتی ہے جس سے خارش پےدا ہوتی ہے ۔اس طرح کے اثرات بچوں اور بزرگوں میں زےادہ دکھائی دیتے ہیں۔ بولیوارڈ ہسپتال (Boulevard Hospital)کراچی کے ماہر امراض جلد ڈاکٹر ندیم صدیقی کے مطابق بعض علاقوں میں سخت سردی کی وجہ سے گیس ہیٹر کا استعمال زیادہ کیا جاتاہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ گیس ہیٹر کے سامنے اگر کھانے کی کوئی چیز رکھیں تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔ اسی طرح زیادہ دیرتک ہیٹرکے سامنے رہنے سے جلد کی نمی بھی جذب ہو جاتی ہے جس سے وہ خشک اور روکھی محسوس ہوتی ہے نتیجتاً یہ جلدی خارش اورچبھن کا سبب بھی بنتی ہے ۔اسی طرح جو لوگ زیادہ گرم پانی سے نہاتے ہےں‘ انہےں بھی جلد خشک ہونے کی وجہ سے خارش اورچبھن محسوس ہوتی ہے ۔ درج ذےل احتےاطی تدابیر پر عمل کر کے ہم خود کوان مسائل سے محفوظ رکھ سکتے ہیں:

٭خارش سے بچاﺅ کے لئے اس موسم میں جلد کو خشک ہونے سے بچائیں اور ایسے صابن استعمال نہ کریں جوخشکی کا باعث بنتے ہوں۔ اس کے برعکس بازار میں کچھ ایسے صابن بھی ملتے ہیں جن میںگلیسرین اورموئسچرائیزرز شامل ہوتے ہیں۔ان سے ہاتھ دھونے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلکی سی چکنائی ہاتھوں پر رہ گئی ہو ۔ان کا استعمال بھی جلد کے لیے مفید ہے۔

٭بعض لوگوں کی جلد حساس ہوتی ہے یا انہیں اُون (wool)سے الرجی ہوتی ہے اور وہ اس کے بنے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتے۔جولوگ چنبل کی ایک قسم اٹوپک ڈرماٹائٹس (atopic dermatitis)سے متاثر ہوں،انہیں اس موسم میں جلد کے زیادہ خشک ہونے کی وجہ سے شدید ایگزیما بھی ہو سکتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ اون کے کپڑوں کے نیچے کاٹن کی کوئی چیز پہنیں تاکہ اس سے محفوظ رہا جا سکے ۔
٭ گرم پانی سے غسل کے بعد جسم کو نم رکھنے کے لئے لوشن یا تیل کا استعمال لازمی کریں۔

کٹی پھٹی بدنما ایڑیاں
سردیوں میں بالخصوص خواتین کے پاﺅںکی ایڑیاں پھٹ جاتی ہیں جو پریشانی کے ساتھ ساتھ شرمندگی کا باعث بھی بنتی ہیں۔ایڑیوں کے پھٹنے سے جلد بہت زیادہ خشک اورکھردری ہوجاتی ہے اور ان پر جمی میل پیروں کو اوربھی زیادہ بدنما بنادیتی ہے۔اس سے نمٹنے کے لئے:
٭ پاﺅں کو زیادہ دیر تک کھلا نہ رکھیں اورانہےںدھونے کے فوراً بعد جرابیں پہن لیں ۔اس سے ان میں خشکی کم آئے گی اور ایڑیاں کم پھٹیں گی۔
٭رات کو سوتے وقت ایڑیوں پر کوئی تیل یا پٹرولیم جیلی وغیرہ لگاکر جرابیں پہن لیں۔

چہرے کا گہرا رنگ
اس موسم میں چہرے کا رنگ گہرا ہونے کی شکایت بھی ہوتی ہے ۔ اس پر امراض جلد کے ماہر ڈاکٹر ندیم کا کہنا تھا کہ سردیوں میں جلدکا رنگ گہرا ہونے کی دو اہم وجوہات ہیں:
”پہلی یہ کہ گرمیوں میں گرمی کی وجہ سے لوگ دھوپ میں نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سردیوں میں وہ نہ صرف دھوپ میں بیٹھتے ہیں بلکہ ان کا چہرہ بھی عموماًسورج کی طرف ہوتا ہے۔ اس سے چہرے کی رنگت خراب ہو جاتی ہے۔“

ان کے بقول لوگوں میں ایک غلط خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس موسم کی دھوپ جلد کو نقصان نہیں پہنچاتی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔سرد یوں کی دھوپ بھی گرم موسم جتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اتنا ہی نقصان پہنچاتی ہے لہٰذا اس موسم میں بھی ماہرین امراض جلد سن بلاک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ سورج کی مضرصحت شعاﺅں سے بچا جا سکے۔ اگر دھوپ میں بیٹھنے کو دل چاہ رہاہو تو سورج کی طرف منہ نہیں بلکہ کمر کر کے اور سن بلاک لگا کر بیٹھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگ اس موسم میں پانی کم پیتے ہیں جس سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور جلد کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے وہ خشک اور گہری ہونے لگتی ہے۔

گیس ہیٹر‘ احتیاطی تدابیر
سردیوں میں گیس ہیٹر کا زیادہ استعمال صحت کے لئے کئی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ ےہ کاربن مانوآکسائیڈ اور نائٹرک ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں تھکاوٹ ‘ سردرد‘ناک اور گلے میں خارش کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ نشترمیڈیکل کالج ملتان کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حسن اقبال کے بقول:
”اگر کمرے میں نمی کا تناسب کم اور درجہ حرارت زےادہ ہو تو اس سے ناک اور گلے میں خارش اورچبھن پےدا ہوتی ہے۔ خصوصاً سانس کی بےمارےوں کے شکار لوگوں کی تکلیف مزید بڑھ جاتی ہے ۔“
سردیوں میں گےس ہیٹر کا استعمال کم سے کم ہونا چاہئے اور اگر ےہ ضروری ہو تو پھراحتیاطی تدابیر ضرور اختےار کی جانی چاہئےں:

٭کمرے کو مناسب حد تک گرم رکھیں‘ اس لئے کہ اسے زےادہ گرم کرنے سے کمرے میں آکسیجن کی کمی ہوسکتی ہے۔ ہیٹر کے ساتھ ےا اس کے اوپر ایک برتن میں پانی رکھیں۔اس سے اٹھنے والے بخارات فضا میں نمی کو برقرار رکھےں گے ۔
٭اگر گیس ہیٹر چل رہا ہو اور آپ کو تھکاوٹ‘سردرد‘سانس کی تنگی‘سینے یا معدے میںدرد‘متلی یا کمزوری جیسی علامات محسوس ہوں تواسے فوراً بند کرکے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے کھول دیں۔
٭رات کو کسی بھی صورت ہیٹر جلتا چھوڑ کر نہ سوئیں۔اچھی طرح سے یقین کر لیںکہ اس کی مین سپلائی بھی بند ہے۔
٭گیس ہیٹر اور اس کا پائپ ہمیشہ اچھی کوالٹی کا استعمال کریں۔
٭ہیٹر سے کم از کم آٹھ سے دس فٹ فاصلے پر بیٹھیں اور اس پر ہاتھ پیرسینکنا ایک غیرصحت مند رویہ ہے۔
٭جلد آگ پکڑنے والی اشیاءکو ہیٹر سے ہمیشہ دوررکھیں۔ (ص۔ن)