ذیابیطس کو شکست

ذیابیطس کو شکست

328

ہماری بے احتیاطیاں بعض اوقات ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہیں جہاں اصلاح احوال کے تمام راستے بظاہر بند ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔بعض لوگ اپنے عزم و ہمت سے یہ دروازے دوبارہ کھول لیتے ہیں۔ راولپنڈی کاایک نوجوان موٹاپے کا شکار ہو کر ذیابیطس میں مبتلا ہوگیا۔خوراک میں احتیاطوں اور ورزشوں کے شیڈول پر سختی سے عمل نے وہ کچھ کر دکھایا جس کی امید کسی کو نہ تھی ۔حفیظ درویش کے قلم سے ایک اورسچی داستان


زندگی کا اصل حسن صحت کے دم سے ہے۔ اس بیش قیمت نعمت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب جسمانی نظام میں کسی خرابی کے باعث ہماری زندگی میںخوشی اور خوبصورتی کے رنگ ماند پڑنے لگتے ہیں اور ہمیں صحت کی بحالی کے لئے ادویہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ بیماریاں شدید ذہنی کوفت اور پریشانی کا باعث بنتی ہیںجو لمبے عرصے تک انسان کے ساتھ چلتی ہیں۔ ایسی ہی پریشان کن صورت حال کا سامنا 33 سالہ خواجہ عبدالباسط کو بھی تھا جن کی جسمانی صحت ذہنی صحت پر بھی حاوی ہو گئی اور وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔
راولپنڈی میں رہنے والے اس نوجوان کو کم عمری میں ہی صحت کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا تھا جن میں موٹاپا سر فہرست تھا۔ دیگر مسائل اسی بنیادی مسئلے سے جڑے ہوئے تھے۔
موٹاپا محض صحت ہی کو نہیں ‘ زندگی کے دیگر پہلوﺅں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ایک مشہور امریکن مصنفہ اور ٹی وی ہوسٹ جین ویلز مچل (Jane Velez-Michell) کا کہنا ہے کہ’موٹاپا صحت سے لے کر رشتوں تک زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔‘ یہی صورتحال من و عن عبدالباسط پرصادق آتی تھی ۔ صحت کے انہی مسائل کے باعث انہیں شادی کے لئے مناسب رشتہ نہیں مل پا رہا تھا۔
وہ بچپن سے ہی موٹاپے کا شکار تھے۔ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ انہیں پہلی بار جوانی میں قدم رکھنے پر ہوا۔ دیگر ساتھیوں کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی وزن کم کرنے کی کچھ کو ششیں کیں تاہم تسلسل کی کمی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا:
”میں یہ سوچ کرکرکٹ کھیلتا تھا کہ شاید پتلا ہو جاﺅں لیکن یہ کچھ خاص کار گر ثابت نہ ہوا اور میرا وزن اتار چڑھاﺅ کا شکار ہی رہا۔“
صرف 32سال کی عمر میں خواجہ باسط کا وزن 100 کلوگرام ہو گیا۔ساتھ ہی انہیں ذیابیطس ٹائپ ٹومیں مبتلا ہو جانے کی پریشان کن خبر بھی ملی جو ان کے لئے قطعی طور پرغیر متوقع تھی‘ اس لئے کہ ان کے خاندان میں ےہ مرض پہلے کسی کو لاحق نہیں ہوا تھا:
”میں نے اکثر سنا تھا کہ موٹاپا بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے لیکن مجھے اس کی سنگینی کا اندازہ نہ تھا۔ جب تک اس کا احساس ہوا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔“
تشخیص کے بعد انہیں شوگر کنٹرول کے لئے کچھ ادویہ تجویز کی گئیں۔ ان ادویہ نے تو اپنا کام کیا لیکن ان کی لاپرواہی کی وجہ سے اگلے چار ماہ میں ان کاوزن 100 کلوگرام سے بڑھ کر 124 کلوگرام ہو گیا۔ علاج کے دوران ڈاکٹروں کی طرف سے انہیں وزن کم کرنے کی سخت تاکید کی گئی تھی لیکن اس کا ان پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کی ماہر غذائیات ڈاکٹر ریضان خان کا کہنا ہے:
”ذیابیطس کے وہ مریض جو شوگر کنٹرول کرنے کے لئے مخصوص ادویہ استعمال کر رہے ہوتے ہیں، اکثر اپنے وزن کے بارے میں لا پرواہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے اس روئیے کی وجہ ان کی یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شوگرکی ادوےہ ان کے وزن کو بھی کنٹرول میںرکھےں گی۔“
ذیابیطس کو سنجیدہ نہ لینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر کا مرض بھی لاحق ہوگیا۔یوں ذیابیطس کے ساتھ ساتھ انہیں ہائی بلڈ پریشر کی ادویہ بھی استعمال کرنا پڑیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ےہ ادویہ اس مرض کو پوری طرح کنٹرول کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئیں اور ڈاکٹروں نے انہیں گولیوں کی بجائے انسولین استعمال کرانا شروع کردی۔2014ءکے وسط تک ان کا وزن 140کلو گرام تک پہنچ گیا۔ معاملات کے اس نہج پر پہنچ جانے کے بارے میں ان کا کہنا ہے:
”میرا وزن اس قدر تیزی سے بڑھا کہ آٹھ مہینوں میں 40کلو گرام کا مزید اضافہ ہو گیا۔ یہ میرے لئے بہت مایوس کن تھا۔“
ان حالات میں عبدالباسط اپنے سر پر مسائل کا بھاری بوجھ محسوس کرتے تھے جو ان کی خوشیوں کو بھی دبا رہا تھا۔ ایک طرف وہ ذیابیطس اورہائی بلڈپریشر سے جنگ لڑ رہے تھے تودوسری طرف بڑھتا ہوا وزن ان کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں خبردار کر دیا تھا کہ اگر انہوں نے وزن کم نہ کیا تو ان کی صحت کے مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی یہ پیشین گوئی اس وقت سچ ثابت ہوئی جب وہ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہوگئے۔
” مجھے یہ خیال پریشان کیے رکھتا تھاکہ میں اپنا وزن کیسے کم کروں۔ یہ سب کچھ مجھے ناممکن لگ رہا تھا۔ خود کو ذہنی طور پر نارمل رکھنے کے لئے مجھے ڈپریشن کی گولیاں کھاناپڑتیں۔“
خواجہ عبدالباسط پیشے کے اعتبار سے قالینوں کے تاجر تھے اور کام کی نوعیت ایسی تھی کہ انہیں گھنٹوں ایک ہی کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا پڑتا۔یوں جسمانی سرگرمیوں کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے بہت مشکل تھا:’ ’میرا کام ہی ایسا تھا کہ میں اپناوزن کم نہیںکرسکتاتھا۔“
وزن کی زیادتی نے ان کے سٹیمنا پر بھی برا اثر ڈالا۔ تھوڑا سا چلنے پر ان کا سانس پھولنے لگتا۔ وزن کے حوالے سے ڈاکٹروںکی تنبیہہ سخت تھی اور انہیں کسی بھی قیمت پر وزن کم کرنا تھا، خواہ انہیں اس کے لئے سرجری ہی کیوں نہ کروانا پڑتی۔ بصورت دیگر ان کی صحت کے مسائل بڑھ کر گردے اور دل کی بیماریوں تک پہنچ جاتے۔ ان کے بقول:
”مجھے ایسے لگتا جیسے کسی گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا ہوں۔ اس پریشان کن صورتحال سے نبٹنے کے لئے مجھے ایک ایسے قابل ڈاکٹر سے ملنا تھا جو وزن کم کرنے میں میری مدد کر سکے۔“
اس مقصد کے لئے وہ راولپنڈی کے ایک ڈاکٹر کے پاس گئے جس نے انہیں ’لائپوسکشن‘ نامی سرجری تجویزکی جس کے ذریعے جسم سے چربی کو نکال دیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اتنا بڑا فیصلہ دوسرے ڈاکٹر کی رائے لیے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے وہ شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد آ گئے۔
یہاں ان کی ملاقات جنرل سرجن ڈاکٹر ایم اے ہاشمی سے ہوئی جنہوں نے انہیں ماہر غذائیات سے ملنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹرہاشمی چاہتے تھے کہ وہ لائپوسکشن کی طرف جانے کی بجائے قدرتی طریقے سے اپنا وزن کم کریں۔عبدالباسط بے دلی سے ماہرغذائیات ڈاکٹر ریضان کے پاس گئے:
”میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اگر ماہر غذائیات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو میں آپریشن ہی کرواو¿ں گا کیونکہ صحت کے مسائل نے مجھے اندر سے بہت تھکا دیا تھا۔“انہیں یقین نہ تھا کہ ورزش اور درست خوراک سے اپنا وزن کم کرپائیں گے۔
ڈاکٹر ریضان نے بتایا کہ جب خواجہ عبدالباسط میرے پاس آئے تو بہت زیادہ سستی اور شدید ڈپریشن میں مبتلا تھے ۔ وہ خوراک کے ساتھ ساتھ اپنی گھٹتی بڑھتی ذیابیطس اور ڈپریشن کا علاج بھی کروا رہے تھے۔
31دسمبر 2014کو ڈاکٹر ریضان نے انہیں وزن کم کرنے کے لئے تین ماہ کے دورانئے پر مشتمل ایک چارٹ تجویز کیا جوان کے قد ، وزن، جسم میں موجودچکنائیوں اور طبی ہسٹری کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میںخوراک، ورزش اور دیگر معمولات میں تبدیلیوں کے بارے میں ہدایات درج تھیں ۔اس میں ےہ بھی درج تھا کہ انہیں کس وقت سونا،جاگنااور کھانا ہے اور کون سی جسمانی سرگرمی انجام دینی ہے۔اس حوالے سے ایک اور کام کے متعلق ڈاکٹر ریضان نے بتایا :
”مریض کووزن کم کرنے کے پروگرام کے دوران ایک ڈائری بھی دی گئی تاکہ وہ دن بھرمیں جو کچھ کھا پی رہا ہے یا جس قدر جسمانی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے، اسے اس میں درج کرتا جائے۔مزید برآں مریض کے موڈ کے اتار چڑھاﺅ کا اندازہ لگانے کے لئے بھی اس چارٹ میں ایک خانہ موجود تھا۔“
ہر ہفتے کے اختتام پر ماہر غذائیات ڈائری میں دی گئی معلومات کا جائزہ لیتیں۔ اس پلان میںعبدالباسط کو غیر صحت مند خوراک کے نعم البدل کے طور پر بہت سے صحت بخش کھانے بھی تجویز کئے گئے تاکہ انہیں بھوک محسوس نہ ہو اورانہیں ایسا نہ لگے کہ کھانا ان سے چھن گیا ہے۔ ڈاکٹر ریضان کا کہنا ہے:
”انہیں اپنے شوگرپر کڑی نگاہ رکھنے کی خصوصی تاکید کی، اس لئے کہ اس دوران شوگر کا کم ہونا اس کے بڑھ جانے سے زیادہ خطر ناک تھا۔“
اس مشق سے قبل عبدالباسط کا کھانے پینے کا کوئی معمول نہ تھا۔ پہلے وہ کھانا بڑے بڑے وقفوں کے بعد کھاتے تھے۔ ان کی معالج نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ناشتے میں براان بریڈ کے دو سلائس، ایک ابلا ہوا انڈہ کھائےں اورایک کپ چائے کا پئیں۔ ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے درمیان وہ کوئی فروٹ مثال کے طور پر کیلا، مالٹا یا سیب کھاسکتے ہےں۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ لنچ کے وقت ایسی دالیں یا سبزی استعمال کریں جو صرف ایک چائے کے چمچ تیل میں بنی ہوئی ہوں۔ اس کے ساتھ وہ ایک چھوٹی سی چپاتی کھا سکتے ہےں۔ انہیں شام کے وقت کچھ سینکس یا پھر مٹھی بھر مونگ پھلی کھانے کو کہاگیا۔
رات کے کھانے کے لئے انہیں چپاتی کے ساتھ دال یا سبزی تجویز کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں سلاد کھانے کی ہدایت بھی کی گئی۔انہیں ہدایت کی گئی کہ اگر رات کے وقت بھوک لگے تو ایک کپ دودھ میں ایک چمچ اسپغول کا چھلکا ڈال کر پئےں۔ اس کے علاوہ انہیں روزانہ آدھا گھنٹا پیدل چلنے کو کہا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ڈائیٹ پلان سب کے لئے یکساں مفید نہیں ہے، اس لئے کہ ماہر غذائیات مریض کی حالت کے ہرپہلو کو مدنظر رکھ کر ہی ڈائیٹ پلان تیار کرتی ہے۔ ڈاکٹر ریضان کے مطابق خواجہ باسط نے اپنے وزن کو کم کرنے کے حوالے سے بہت تعاون کیا :
” جب میں نے ان کی ڈائری چیک کی تو وہ میری ہدایات اور تجویز کردہ ڈائیٹ پلان پر عمل کررہے تھے۔دو ہفتے بعد خواجہ باسط نے اپنی معالج کو بتایا کہ ذیابیطس کے ڈاکٹر نے ان کی نہ صرف انسولین بند کروادی ہے بلکہ بلڈ پریشر اور ڈپریشن کےلئے استعمال کی جانی والی گولیاں بھی بند کردیں۔ آج کل وہ اپنی خون کی شوگر ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے کے لئے صرف ایک گولی کھارہے ہےں۔“
ڈاکٹر ریضان کا کہنا ہے کہ ڈائٹ پلان صرف مریضوں کے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے ضروری ہے اوریہ پوری زندگی کے لئے ہے ۔خواجہ باسط کا کہنا ہے:
”ڈائٹ پلان پر عمل کرنے کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی محسوس کی۔میں خود کو کافی ہلکا محسوس کررہاتھا اور میری سکت (stamina)بھی بڑھ رہی تھی۔“
سوال یہ ہے کہ خواجہ باسط نے انسولین سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا؟ڈاکٹر ریضان کے مطابق جسم میں چربی جمع ہوتی رہتی ہے۔جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو لامحالہ انسولین کی طلب بھی بڑھتی ہے۔ یہ ایک خطرناک چکر ہے جو چلتا رہتا ہے۔ جب ایک مریض کے جسم میں سے چربی کم ہوتی ہے تو اس کے خلیے انسولین قبول کرنے کے حوالے سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ پھر انسولین کی تھوڑی سے مقدار کے ساتھ وہ خون میں موجود گلوکوز کو استعمال کرسکتے ہیں۔
خواجہ باسط کے جسم میں کم مقدار میں انسولین موجود تھی تاہم ان کا جسم بے تحاشا چربی کی وجہ سے اسے استعمال کرنے سے قاصر تھا۔ وزن کم ہونے کے بعد وہ اس قابل ہوگیا کہ اپنے اندر موجود انسولین کو استعمال کرسکے۔ تین ماہ کے دوران انہوں نے 20کلو وزن کم کیا۔ ماہر غذائیت کا مقصد یہ تھا کہ ان کا وزن90 کلو گرام تک آجائے تاکہ وہ معمول کے مطابق اپنا کھانا کھاسکےں۔ اس حوالے سے باسط کا کہنا ہے:
” مجھے امید ہے کہ میں اگلے تین سے چھ ماہ میں مزید30کلو وزن کم کرلوں گا جس کے بعدذیابیطس کنٹرول کرنے کے لئے شاید دوا کی ضرورت ہی نہیں پڑے۔“ تاہم صحت مند رہنے کے لئے انہیں اپنی کھانے پینے اور ورزش پر مستقلاً نظر رکھنا پڑے گی۔
ڈاکٹر ریضان کا کہنا ہے کہ موٹاپے کا علاج کرتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم مریض کے ساتھ ساتھ اس کے گھروالوں کو بھی آگاہ کریں۔ ہمارے کھانے پینے کی غلط عادات کی وجہ سے صحت کے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ہمیں جوسز، کولڈ ڈرنکس اور تلے ہوئے کھانوں سے بچنا چاہیے۔اس کے علاوہ کھانوں میں تیل کا استعمال کم کردیں۔ ایک یا دو چائے کے چمچ ایک فرد کے لئے کافی ہےں۔
اس کے علاوہ ایک وقت میں زیادہ کھانا کھانے سے گریز کریں۔ اس کی بجائے وقفے وقفے سے اور چھوٹے چھوٹے حصوں میں کھائیں اورجلدی جلدی کھانا کھانے سے گریز کریں۔ دو بڑے کھانوں کے درمیان کوئی نہ کوئی فروٹ یا سینکس ضرور کھائیں۔ اس سے آپ کی شوگر ایک سطح پر برقراررہے گی۔ان کے بقول:
”©© اگر خون میں شوگرکا لیول نیچے چلا جائے تو انسان چڑچڑا ہوجاتا ہے اور اپنے کام پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتاکیونکہ کھانے کا ہماری توجہ،کام اور دماغ سے بلاواسطہ تعلق ہے۔“
خواجہ عبدالباسط آج کل کام کرتے ہوئے بہت اچھا محسوس کرتے ہےں۔ ان کی مسقل مزاجی نے انہیں یہ اعتماد دیا ہے کہ وہ زندگی میں کچھ بھی کرسکتے ہے۔ انہوں نے سوچا ہے کہ مزید وزن کم کرنے کے بعد وہ اپنی زندگی کا ساتھی بھی تلاش کرےں گے۔
ہم ان کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x