خون کا ایک اہم ٹیسٹ۔۔پرو ٹائم ٹیسٹ

(ثانیہ جلیل)
اگر ہمیں کوئی زخم لگ جائے تو خون بہنے لگتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اگر خون زیادہ مقدار میں بہہ جائے تو متعددمسائل کا سبب بن سکتا ہے اور بعض صورتوں میں انسانی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔اس لئے قدرت نے بہتے خون کو روکنے کے لیے ہمارے جسم میں خاص نظام تشکیل دے رکھا ہے ۔اس کے تحت خون میں موجود پلیٹ لیٹس (platelets)جمع ہو کرخون کے بہاﺅ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پروتھرومبن ٹائم ٹیسٹ کیا ہے
(Prothrombin Time Test)

آپ نے سنا ہوگا کہ کچھ افراد کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا خون ایک مرتبہ بہہ نکلے توپھرتھمنے کا نام ہی نہیں لیتالہٰذا انہیں زچگی یا سرجری وغیرہ میں مختلف پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ان بیماریوں یا علامات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے جسے ”پروتھرومبن ٹائم“،”پی ٹی“،”پرو ٹائم“ یا عام الفاظ میں” آئی این آر“ ٹیسٹ کہتے ہیں ۔
اس ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ خون کے مائع حصے کو منجمد ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔عام طورپر خون کو منجمد ہونے کے لئے 12 عوامل کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سے پانچ کے بارے میں یہ ٹیسٹ معلومات فراہم کرتاہے جبکہ باقیوں کے بارے میں ایک الگ ٹیسٹ یعنی پی ٹی ٹی (Partial Thromboplastin Time) استعمال ہوتا ہے ۔ اکثراوقات یہ دونوں ٹیسٹ بےک وقت کیے جاتے ہیں کیونکہ ان سے خون بہنے سے متعلق معاملات کی مکمل تفصیل سامنے آ جاتی ہیں ۔

ٹیسٹ کن افراد کے لئے
جن علامات کی بنیاد پر یہ ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے‘ وہ مندرجہ ذیل ہیں:
٭آسانی سے زخمی ہوجانا۔
٭زخم سے خون بہہ نکلے تو اس کو روکنے میں دشواری ہونا۔
٭پیشاب میں خون آنا۔
٭جوڑوں میں درد یا سوجن ہونا۔
٭نکسیر زیادہ آنا۔

ہیموفیلیا‘جگر کے مسائل ‘ وٹامنK کی کمی والے مریضوں کوبھی یہ ٹیسٹ تجویز کیا جاتا ہے۔دل کے ڈاکٹر ان مریضوں کے لئے اسے تجویز کرتے ہیں جو خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں۔ ان مریضوں میں دوا کے موثر ہونے کی جانچ بھی اسی ٹیسٹ سے کی جاتی ہے ۔ اگر کسی مریض کو خون پتلا کرنے کی دوا زیادہ مقدار میں دی گئی ہو تو اس ٹیسٹ کے رزلٹ کی بنیاد پر ڈاکٹرحضرات مریض کی مذکورہ دو ا کی مقدارمیں کمی بیشی کر سکتے ہیں ےا اسے مکمل طور پر روکنے کا مشورہ دے سکتے ہےں۔
بعض اوقات ڈاکٹرحضرات یہ ٹیسٹ اوپر بیان کردہ کسی علامت کے نہ ہونے پر بھی تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ آپریشن سے پہلے بھی کیا جاتا ہے تاکہ خون کے بہاﺅ کے رجحان کو جانچا جا سکے۔اس لئے اگرڈاکٹر کو لگے کہ آپ کا پی ٹی ٹیسٹ ہونا ضروری ہے تو اسے نظرانداز مت کریں۔
سوالات کے ٹھیک ٹھیک جوابات دیجئے
مریض جب ڈاکٹر سے ملتا ہے تو بعض اوقات اسے اپنے مرض کی ہسٹری اورعلامات وغیرہ کے بارے میں کچھ خاص یاد نہیں ہوتا یا اسے پتا نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر جو سوالات پوچھ رہا ہے‘ وہ کتنے اہم ہیں۔بعض مریض اپنی علامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں جبکہ کچھ انہیں چھپاتے بھی ہیں۔ اگرپوچھے گئے سوالات کے جوابات ٹھیک طرح سے نہ دئیے جائیں تو مریض کو نقصان ہو سکتا ہے۔اس لئے ڈاکٹر حضرات کے پاس جانے سے پہلے ہمیشہ ذہنی طورپر تیار ہو کر جائیں اور وہ جو سوالات پوچھے‘ ان کے جوابات سوچ سمجھ کر دیں۔
چونکہ یہ ٹیسٹ خون کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے اس لئے اس میں اسی سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں۔مثلاً مرےض سے دانت نکلوانے ، معمولی زخم لگنے یا پہلے کسی آپریشن یا نکسیر پھوٹنے کے بارے میں سوال پوچھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مریض میں خون بہنے کا رجحان کتنا ہے ۔
ٹیسٹ کیسے کیا جاتا ہے
ٹیسٹ کروانے کے لیے خالی پیٹ ہونا ضروری نہیں ‘ مگرکچھ ادویات اس ٹیسٹ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس لئے مرےضوں کو چاہئے کہ وہ اپنی مکمل ہسٹری‘زیر استعمال ادویات یا ان دواﺅں کے بارے میں ڈاکٹر کوضرور بتائیں جو وہ ماضی میں استعمال کرتے رہے ہوں۔
لیبارٹری میں خون کے نمونے(sample) کے ذریعے اس کی جانچ کی جاتی ہے۔اس کے لئے خون کی خاص مقدار کو ایک کیمیاوی محلول (جو خون کو جمنے سے روکتا ہے)کے ساتھ ایک مخصوص ٹیوب میں ملایا جاتاہے۔اس کے بعد ایک مشین کے ذریعے خون سے پلازما الگ کر کے اس کے جمنے کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
ٹیسٹ کے نتائج
پلازما کے منجمد ہونے کا نارمل وقت چند منٹ تک ہوتا ہے۔اگر اس وقت میں وہ منجمد ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کاٹیسٹ نارمل ہے۔اگر اس سے زیادہ وقت لے تو پھر یہ کسی مسئلے کی نشاندہی ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتاہے کہ خون میں اسے منجمد کرنے والے عوامل کی سطح اور مقدار کم ہے ، وٹامن کے کی کمی ہے یا پھر جگر میں کوئی مسئلہ ہے ۔
آئی این آر کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی ‘مریض میں خون بہنے کے خطرات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اس کے بر عکس اگر آئی این آر کی مقدار 0.5سے کم ہوگی تو خون کے جمنے کا امکان زیادہ ہوگا۔ایک نارمل آدمی میں اس کی مقدار 0.5 سے لے کر 1.3 ہوتی ہے مگر وہ مریض جنہیں خون پتلا کرنے والی ادویات دی جا رہی ہوں‘ ان میں یہ مقدار2.0 سے لے کر3.0تک ہوتی ہے ۔ٹیسٹ کی رپورٹ ملتے ہی ڈاکٹر کو مطلع کرنا چاہئے جو اسے دیکھ کر آپ کو بہتر طور پر ہدایات اور رہنمائی فراہم کر سکے گا۔
ہمارے ہاں ڈاکٹر کے تجویز کردہ ٹیسٹ نہ کروانے یا ان کو اتناسنجیدگی سے نہ لینے کا رجحان بھی عام پایا جاتا ہے جس سے مرض کی شدت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہونے لگتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہئے کہ تجویز کردہ لیب ٹیسٹ کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیں ۔

Vinkmag ad

Read Previous

چستی اور لطف‘ جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے کھیلئے۔۔۔۔بیڈمنٹن

Read Next

پاﺅں کی دیکھ بھال

Most Popular