جلنا یاجھلسنا‘ فوری طورپر کیا کریں

337

    روزمرہ زندگی میں آگ‘بھاپ ‘کیمیائی اشیا‘ گرم مائع جات اور بجلی کے کرنٹ سے جھلس یا جل جانے کے واقعات اکثر سننے میں آتے رہتے ہیں۔تاہم سردیوں میں آگ لگنے کے خدشات ہیٹر،گیزر وغیرہ میں کی جانے والی بے احتیاطیوں کی وجہ سے مزید بڑھ جاتے ہیں۔
جلنے کی وجہ سے جلد اور اس کی نیچے موجود ٹشوز متاثرہوتے ہیں‘ تاہم زےادہ جلنے سے ہڈیاں تک متاثرہو جاتی ہےں۔اس سے خون میں موجود پلازمے کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور مریض صدمے کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ اس ناگہانی صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے ہر شخص خواہ بڑا ہو یا چھوٹا کو پتا ہونا چاہئے کہ آگ لگ جائے تو اس سے بچنے کے لئے اور دوسروں کو بچانے کے لیے کیا کرنا چاہئے تاکہ نقصان کم سے کم ہو اور مریض کی جان بچائی جا سکے۔
درجوں میں تقسیم کیا جائے توآگ سے جلنے کی تین اہم اقسام ہیں۔پہلے‘دوسرے اور تیسرے درجے کا جلنا۔ذیل میں جلنے کی مختلف اقسام اور ان میں ابتدائی طبی امداد کے بارے میں معلومات فراہم کی جارہی ہےں:
پہلے درجے کا جلنا
پہلے درجے کے جلنے میں جلد کی اوپر والی سطح یعنی ایپی ڈرمس متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں متاثرہ حصہ سرخ ہو کر سوج جاتا ہے۔ اس پر آبلے نہیں پڑتے ‘البتہ چھونے سے وہ جگہ سفید ہو جاتی ہے۔ ایسے زخموں کے مندمل ہونے میں پانچ سے چھ دن لگ سکتے ہیں۔
ابتدائی طبی امداد:سب سے پہلے متاثرہ شخص کو حرارت کے ذرےعے سے دور کریںاور جسم کے جلے ہوئے حصے سے کپڑے کو آہستہ آہستہ الگ کریں۔ اگر وہ زخم کے ساتھ چپک گےا ہو تو اسے نہ اتاریں۔ متاثرہ حصے پر فوری طورپر 10سے 15پندرہ منٹ تک ٹھنڈا پانی ڈالیں۔ نیز برف کو کسی کپڑے میں لپیٹ کرجلے ہوئے مقام پر پھیرا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جلے ہوئے مقام پر براہ راست برف لگانا درست نہیں۔ اس کے بعد جلے ہوئے حصے کو نرمی سے صاف کرکے خشک کریں اور اس پر کوئی اچھی سی لگائیں۔اگر وہ میسر نہ ہو تو زخم کو کسی صاف کپڑے سے ڈھانپ کر اوپر پٹی باندھ لینا بھی کافی ہے۔
دوسرے درجے کا جلنا
اس قسم کے جلنے میں جلد کی اندرونی تہہ یعنی ڈرمس متا ثر ہوتی ہے اور متاثرہ حصے پر آبلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسرے درجے کے جلنے سے عموماًداغ رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض کو نمکیات کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ جسم کا جلا ہوا حصہ سوجنا شروع کر دے‘ احتیاط کے ساتھ مریض کی انگوٹھیاں ‘گھڑی وغیرہ اتار لیں۔
ابتدائی طبی امداد: مریض کو ایک جگہ پر رہنے دیں اوراس کے جسم کے متاثرہ حصے کو مناسب طریقے سے صاف اور خشک کریں۔ اس کے بعد جلے ہوئے حصے کو قدرے اونچا رکھیں اور اسے کسی صاف کپڑے سے ڈھانپ دیں۔ اگر متاثرہ حصہ ہتھیلی کے رقبے سے زیادہ ہو تو مریض کو فور ی طبی امداد دینے کے ساتھ ساتھ ہسپتال لے جانا چاہیے۔
تیسرے درجے کا جلنا
تیسرے درجہ کے جلنے میں جلد کی تینوںتہوں کے ساتھ ساتھ اند رونی اعضاءبھی متاثر ہوتے ہیں۔اس قسم کے جلنے میں اعصاب کے متاثر ہونے سے درد کا احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی جلد پر آبلے پڑتے ہیں۔اگر جسم کا90 فی صد متا ثر ہو جائے تو مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
ابتدائی طبی امداد:اس طرح سے ہوئے جلے ہوئے افراد کو صدمے سے بچائیں اور ان کی سانس اور دل کی دھڑکن کا مشاہدہ کرتے رہیں۔ اگر سانس اور دھڑکن بند ہوں تو مصنوعی سانس دینے کی کوشش کریں۔مریض کو ایک ہی جگہ رہنے دیں اور اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کریں۔
چند اہم ہدایات
٭ کسی شخص کے کپڑوں مےں آگ لگ جائے تو اسے زمین پر لڑھکنے کی ہدایت دیں اور اس کے جسم پر کمبل یا پانی ڈالیں۔اگر پٹرول وغیرہ سے آگ لگی ہوتو اس پر پانی نہ ڈالیں۔
٭اگر جلنے سے آبلے پڑ جائیں تو انہیں ہر گز نہ پھوڑیں ۔
٭زخم کو روئی یا ریشہ دار کپڑے سے نہ ڈھانپیں وہ زخم سے چپک جائے گا۔
٭بہت سے بچے چولہے پر رکھے ہوئے دودھ یا پانی سے جل جاتے ہیں‘ اس لئے انہیں چولہے کے پاس نہ جانے دیں۔گیزر کا گرم پانی بھی بچوں کےلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ گیزر کے تھرموسٹیٹ کو نارمل سطح پر رکھیں۔
٭خواتین سالن بناتے وقت دیگچی کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے چولہے کی آگ سے ہاتھ جلا بیٹھتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ دیگچی کا ڈھکن ایک طرف سے پکڑ کر اتاریں تاکہ بھاپ سے ان کا ہاتھ نہ جلے۔
٭اگر پریشر ککر میں کچھ پکانا ہوتو وقت کا خاص طور پر خیال رکھیںکیونکہ لاپروائی کے سبب عموماً پریشر ککر پھٹ جاتے ہیں اور خواتین جل جاتی ہیں۔
٭اگر آپ گھر میں گیس کا سلنڈر استعمال کرتی ہیں تو اسے چولہے سے دوررکھیں تاکہ اس کے پھٹنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔
٭کچن میں دیاسلائی جلانے سے گیس کی بو وغیرہ کا جائزہ لے لیں۔
٭کیمیائی اشیاءکو احتیاط سے استعمال کریں۔ اگر وہ جسم کے کسی حصے پر گر جائےں یا ان کی چھینٹ آنکھ میں چلی جائے تو متاثرہ حصے کو10 سے 15 منٹ تک پانی سے دھوئیں۔اگر ہاتھ پر تیزاب یا بلیچ گر جائے تو اسے سرکے سے دھونا بہتر رہتا ہے۔اگر مسئلہ زیادہ ہو تو فوری طورپر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔(ث۔ث)