بیماری میں صبر‘ صحت یابی پر شکر

321

وہ خود ہی نہیں‘ ان کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اپنی اپنی جگہ خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ وہ بااثر لوگوں میں سے تھے لہٰذا ان کا حلقہ احباب بھی فطری طورپر بہت وسیع تھا۔ مقامی اور قومی سطح پرہی نہیں دنیابھر میں ان کا ہزاروں لوگوں سے براہ راست رابطہ تھا۔ زندگی کے مختلف میدانوں سے وابستہ یہ لوگ اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے۔
انہوں نے متنوع دلچسپیوں اور سرگرمیوں کے ساتھ بے حد مصروف زندگی گزاری ۔ان کی سماجی خدمات کا دائرہ بھی بہت وسیع تھا۔ بچوں کی تعلیم ،نگہداشت صحت،غریب اور بے سہارا لوگوں کی امداد، غرضیکہ متعدد میدانوں میں وہ متعدد اداروں کی سرپرستی کرتے اور ان کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ علمی وتحقیقی دائرے میں بھی ان کی دلچسپی غیرمعمولی تھی۔ چنانچہ علمی مجالس کا اہتمام، ان میں شرکت اور ان حوالوں سے لکھنا اورپڑھنا ان کا معمول تھا۔
ایسی غیرمعمولی مصروفیات میں زندگی کہاں متوازن رہ سکتی ہے‘ اور جب وہ عدم توازن کا شکار ہو تو اس کے اثرات صحت پر بھی پڑتے ہیں۔ زندگی یوں بھی اتارچڑھاﺅ کانام ہے اور اگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے معاملات اور معمولات میں پوری طرح احتیاط نہ کی جائے تو اکثر لوگوں کو کچھ نہ کچھ جسمانی عوارض لاحق ہوہی جاتے ہیں ۔ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔وہ چھوٹی موٹی بیماریوں کو نظرانداز تو نہ کرتے تاہم یہ انہیں ان کی سرگرمیوں سے نہ روک پاتیں۔ ان کے بغیر انہیں اپنی زندگی بے مقصد سی محسوس ہونے لگتی تھی۔چنانچہ ڈاکٹروں سے مشاورت ، علاج معالجے اور ضروری ادویات کا سلسلہ جاری رہتا اور وہ اپنے کام بھی جاری رکھتے۔ تاہم اس بار انہیں ایک مشکل صورت حا ل کاسامنا تھا۔
کافی عرصے سے ان کی دائیں آنکھ کی کارکردگی متاثر تھی۔ بڑھاپے کی منزلیں قریب آرہی ہوں تو بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوجاتا ہے اوروہ تو عمرکے اعتبارسے 80 کی دہائی میں تھے ۔ چند سال قبل وہ بائیں آنکھ کاآپریشن بھی کراچکے تھے۔ بظاہریہ کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ کسی زمانے میں اس کاعلاج لوگوں کو کئی کئی دن تک صاحب فراش کردیتا تھا لیکن اب اگر کوئی خاص پیچیدگی نہ ہوتو بالعموم یہ چند منٹ کی کارروائی پرمبنی ایک مختصرسا آپریشن ہوتا ہے۔ بے ہوشی کے اثرات سے نکلنے میں مریض کو مزیدکچھ وقت (تقریباًگھنٹہ بھر) لگ جاتا ہے۔ مکمل ریکوری کچھ دن لیتی ہے جس کے دوران ادویات کا استعمال بھی ہوتا ہے ۔ یوں ان کی بینائی پہلے سے بہتر ہوجاتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کو بالعموم یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں اوروہ تو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کارآدمی تھے۔
اس طرح کے اعلیٰ مقام پر فائز آدمی کو اگر کوئی کام درپیش ہو تو بظاہر اس میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ دوست احباب کی وساطت سے قابل اعتماد ماہرین اور سہولتوں کے اعتبار سے بہترین طبی اداروں سے رابطہ کچھ مشکل نہ تھا‘ چنانچہ آپریشن کا بندوبست جلد ہی ہوگیا۔ان کا خیال تھا کہ ایک دو روز کے بعد معمول کی زندگی بحال ہوجائے گی۔ آپریشن بھی بظاہر ٹھیک ہی ہوا لیکن کئی روز تک انتظا رکے باوجود بینائی نہ صرف یہ کہ بہتر نہ ہوئی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ متاثر ہوگئی۔ طبی معائنہ ، ادویات ، احتیاط‘ پھرمعائنہ ، نئی ادویات اور مزید احتیاط، یہاں تک کہ ایک بارپھر آپریشن کرانا پڑا مگر صورت حال میں کوئی بڑا فرق واقع نہ ہوا۔
اس صورت حال کا مقابلہ کسی بھی فرد کے لیے مشکل ہوتا ہے لیکن جس شخص کا تعلق علمی دنیا سے اور کام پڑھنا لکھنا ہو‘ اس کی مشکلات بہت بڑھ جاتی ہیں، اس لئے کہ اس کا کلی انحصار بینائی پرہوتاہے ۔اگر اچانک بینائی متاثر ہوجائے تواس کی دیگر مشکلات بھلے کسی نہ کسی طرح کم ہوجائیں لیکن پڑھنے لکھنے والا کام ممکن نہیں ہوپاتا۔
ایسی مشکل صورت حال انسان کے لئے ایک نیا امتحان ہوتی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ صبر اور دعا کے ساتھ علاج جاری رکھتے ہوئے صحت یابی کا انتظار کرتا ہے یا مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور ہر وقت شکایت اس کے لبوں پرہوتی ہے۔ اُن سے ملنے کے بعد ملاقاتیوں کو اندازہ ہوتا کہ ان کا معاملہ مختلف ہے۔انہیں اس بات کا شعور تھاکہ ان کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ علاج اور ادویات لینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔اور اگر اس کے باوجود تکلیف برقرار رہتی ہے تو انہیں اس پر صبر کرنا ہے جو ان کے لیے اجرعظیم کا باعث ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیاایک امتحان گاہ ہے۔ کسی تکلیف اور بیماری کا آنا یا اس کا رفع ہوجانا‘ دونوں ہی آزمائش ہیں۔ مشکل صورت حال میں اپنی استطاعت کے مطابق کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں رب کائنات سے مددبھی مانگنی چاہیے۔ کامیابی کی صورت میں شکر اور ناکامی کی صورت میں صبرہمارا طرزعمل ہوناچاہیے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts