بہار کے رنگ پودے لگائیے‘صحت پائیے

348

    پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جسے قدرت نے چاروں موسموں سے نوازا ہے۔ کبھی ہم موسم سرما کی خنکی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو کبھی موسم گرما اپنی بھرپور گرمی کے ذریعے پھلوں اور فصلوں کے پکنے کا ذریعہ بنتا ہے ۔ خزاں‘ اگرچہ پت جھڑ کا موسم ہے لیکن اس کا بھی اپنا ہی ایک مزہ اور رنگ ہے ۔اور بہار تو پھر بہار ہے جس میں پودے نئی کونپلیں نکالتے ہیں‘ ہر طرف سبزہ لہلہاتا ہے اور رنگارنگ پھول اپنی خوشبوئیں بکھیرتے ہیں۔

جس ماحول میں پودوں کی کثرت ہو‘ وہاں کی فضا آلودگی سے پاک ‘صاف ستھری اور آکسیجن سے بھرپورہوتی ہے۔یوں پودے نہ صرف ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ترقی یافتہ ممالک میں باغبانی کو ایک ذریعہ علاج ( horticulture therapy ) کے طور پربھی استعمال کیاجاتا ہے ۔امریکہ کی ”ہارٹی کلچر تھیراپی ایسوسی ایشن “کے ساتھ وابستہ ماہر نفسیات ڈاکٹر بنجمن رش کے مطابق:
” یہ طریقہ علاج مریض کے حافظے،ادراکی صلاحیتوں، کام میں پہل کے جذبے اور میل جول کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔پودے لگانے کے لئے زمین تیار کرنے،مٹی میں ہاتھ مارنے اور گوڈی کرنے جیسے کام پر مشقت ورزش سے کم نہیں۔ ان سے پٹھے مضبوط اور دماغ ذہنی دباو¿ سے آزاد رہتا ہے۔“

کراچی میں ”دی ریکوری ہاو¿س“ کے نام سے ایک نجی ہسپتال کے بحالی صحت سنٹر کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عاصمہ کا کہنا ہے:
”باغبانی ، لوگوں کو فطرت کے ساتھ جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے علاوہ بہترین جسمانی ورزش بھی ہے جس میں ہمارے تمام حواس خمسہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ امید،سکون اور حوصلہ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے ۔“
بہار پھولوں کا موسم ہے ‘اور پھول اور خوشبو کا آپس میں یک جان ‘دوقالب کا رشتہ ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خوشبو کو بھی علاج کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے جس کا آغاز فرانس سے ہوا ۔ مشہور ماہر نفسیات سگمنڈفرائڈ کا کہنا ہے:
”انسانی ناک میں ایسے حساس اعصاب موجود ہوتے ہیں جو خوشبو یا بدبو ‘دونوں سے فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ انتہائی باریک بالوں کی مانند یہ اعصاب خوشبو یا بدبو کا پیغام دماغ کے اس حصے میں پہنچاتے ہیں جو یادداشت، جذبات اور جنسیات سے متعلق ہیں۔ خوشبو یا بدبو ہمارے اندر محبت، نفرت، شہوت، پریشانی اور غم کے جذبات کو ابھار سکتی ہے اور یہ وہ کیفیات ہیں جو ہماری نبض، بلڈپریشر، سانس کی رفتار اور دفاعی نظام تک کو متاثرکرسکتی ہےں۔“

لیونڈر کی خوشبو خواب آور تاثیر کیلئے مشہور ہے۔ جو لوگ سونے کے لئے خواب آور گولیاں استعمال کرتے ہیں‘ تجربے کے طور پر ان کے بیڈروم میں جب لیونڈر کی خوشبو بکھیر دی گئی تو وہ ان کے بغیر ہی بچوں کی طرح مزے سے سو گئے ۔

بہار میں پودے‘ کیسے لگائیں
پودوں کی دو بڑی اقسام زیبائشی اور پھولدار پودے ہیں۔ پھولدار پودوںکی مزید دو اقسام موسمی اور سدا بہار پودے ہیں۔ہمارے ملک میں موسم سرما کے پھولوں کی 45سے50 اقسام ملتی ہیں جن میںپٹونیا،پنزی،انڈلینم،کیناڈولنا،بے بی ڈیزی وغیرہ زیادہ عام ہیں۔ اسی طرح موسم گرما کے پھولوں میں مشہور اقسام زینیہ، کلگہ اورگل دوپہری وغیرہ ہیں۔
پودے لگانے میں مندرجہ ذیل امورکا خیال رکھنا چاہئے :

 بیج کا انتخاب    
موسمی پھولوں کے لئے اچھے بیجوں کا انتخاب بہت ضروری ہے۔ مارکیٹ میں مقامی اور درآمدشدہ‘ دونوں طرح کے بیج دستیاب ہیں۔ مقامی بیج قیمت میں کم ہوتے ہیں لہٰذا باغبانی میں نئے افراد انہی کو ترجیح دیں تاکہ انہیں کچھ تجربہ ہوجائے اور وہ بڑے مالی نقصان سے بچ جائیں ۔ بصورت دیگر کسی نرسری سے مناسب قد کی پنیری خرید کر لگالیں۔

گملے کی مٹی
جس مٹی میں پودا لگایا جانا ہے‘ وہ غذائیت سے بھرپور ، ہوا کے گزر کے لئے موزوں،درکار پانی کو جذب کرنے اور فالتو پانی کے اخراج کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ مزید براں پودے کے لئے درکار موزوںدرجہ حرارت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے ۔
ایسا ”میڈیم“ گھر پر تیار کرنے کے لئے ایک حصہ مٹی، ایک حصہ ریت اور ایک حصہ پتوں کی کھاد کو آپس میں ملا لیں ۔اس آمیزے کے مختلف اجزاءمخصوص کام سرانجام دیتے ہیں۔مثلاً مٹی کا کام جڑوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور ضروری غذا کی فراہمی ہے۔پتے کی کھاد میڈیم کے لئے ”ہوادان“ کا کام کرتی ہے اور ہوا کے گزر کو متاثر نہیں ہونے دیتی جبکہ ریت اضافی پانی کے اخراج کا ذریعہ بنتی ہے ۔

بیج لگانے کا طریقہ
بیج لگانے کے لئے پیندے میں سوراخ والا تین سے چار انچ گہرا برتن لیں۔اگر کوئی سوراخ والا برتن میسر نہ ہو تو بغیر سوراخ پیندے کے برتن میں تقریباً ایک یا ڈیڑھ انچ چھوٹی بجری یا چپس کی تہہ بچھائیں ۔اب اس پر پہلے سے تیار کردہ آمیزہ اس طرح ڈالیں کہ مٹی برتن کے کنارے سے ایک انچ نیچے تک رہے۔
اگلے مرحلے میں برتن میں مناسب تعداد میں بیج ڈالیں کیونکہ زیادہ بیچوں کی موجودگی میں پودوں کو حسب ضرورت غذا اور روشنی نہیں مل پاتی اور غذائی قلت کے باعث ان کی صحیح افزائش نہیں ہوسکتی۔
سات انچ کے گملے یا برتن میں 25سے30بیج لگائے جا سکتے ہیں۔ سادہ سا اصول یہ ہے کہ آپ کو جتنے پودے چاہئے ہوں‘ اس سے دگنے بیج ڈالیں۔اگر100 میں سے 60پودے اُگ آئیں تو بیج مناسب اور 90اگ آئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیج بہت اچھا ہے۔بیجوں کو ہاتھ سے بکھیرکر اسے برابر پھیلا لیں۔

پانی دینے کے طریقے
پودوں کو میڈیم میں لگانے کے بعد اہم مرحلہ انہیں پانی دینا ہے۔ بیج یا پنیری کی کامیاب نشوونما کے لئے انہیں مناسب طریقے سے پانی دیناضروری ہے جس کے لئے درج ذیل طریقے اپنائے جاسکتے ہیں:
٭ بیج والے گملوں کو نرم زمین پر رکھ کر ان کے گرد مٹی کی کیاری بنا دیں اور اس میں پانی چھوڑ دیں‘ ایک گھنٹے بعد پانی خود ہی اوپر آجائے گا۔
٭دوسرے طریقہ یہ ہے کہ ایک ٹب میں تمام گملے رکھ کر اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ پانی کی سطح گملوں کے کناروں سے اوپر نہ آنے پائے۔
٭تمام گملے ایک ساتھ جوڑ کر ان پر اخبار ،جالی دار دوپٹہ یا پرالی بچھادیں اور پھر اس پر فوارے سے پانی کا چھڑکاو¿ کریں۔جب محسوس ہو کہ بیج اگنے لگا ہے تو اخبار وغیرہ کو ہٹا ئیں اور مٹی کی نمی دور ہونے پر باریک فوارے سے پانی کا چھڑکاو حسب ضرورت کریں۔
گملوں میں غیر ضروری گھاس یا جڑی بوٹیاں نظر آئیں تو شروع میں انہیں رہنے دیں اورتقریباً چھ ہفتے گزرنے کے بعدانہیں احتیاط سے نکال لیں۔پودوں کی بہتر افزائش کے لئے ضروری ہے کہ ان کا درجہ حرارت یکساں رہے لہٰذا گملوں کو پلاسٹک یا سبز جالی دار کپڑے سے مکمل ڈھانپ طور پر ڈھانپ لیں۔
بالعموم پھولدار پودوں پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ کم ہی ہوتا ہے‘ یا زیادہ سے زیادہ انہیں تیلا لگ جاتا ہے جو کسی بھی جراثیم کش دوا کے چھڑکاو¿ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ جراثیم کش دوا کا نقصان یہ ہے کہ پھولوں پر شہد کی مکھیاں ،بھنورے یا تتلیاں نہیں آتیں۔اس طرح تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کے بغیر پھولوں کی خوبصورتی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔اس لئے اس اقدام سے پرہیز ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔