• Home
  • امراض
  • امراض کا ایک بڑا سبب ہارمونز کا عدم توازن

امراض کا ایک بڑا سبب ہارمونز کا عدم توازن

323

    ہمارے جسم میں ہارمونز کا کردار قاصدوںکاہے جو پیغامات کو ان کے ماخذوں سے ٹارگٹ خلیوںتک لے کر جاتے ہیں اور اعضاءکو ہدایات دیتے ہیں کہ انہیں کیا کرناہے۔ ان کا کام رحم مادر سے شروع ہو کرفرد کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ قدکا چھوٹا رہ جانا‘ وزن کا بڑھنا اور چہرے پر بال وغیرہ جیسے بہت سے مسائل کا تعلق ہارمونز سے بھی ہوتا ہے۔ مزاج کے اتارچڑھاﺅ‘ مخصوص جنسی خواص اورذہنی تناﺅ جیسی علامات کے علاوہ ہمارے پٹھوں‘ اعصاب‘ ہڈیوںکے ڈھانچے‘ سانس لینے یا خون کی گردش کے نظاموں کی فعالیت یا عدم فعالیت کادارومدار بھی ہارمونز پر ہی ہوتا ہے۔

ہارمونز کے چند عام مسائل
ہارمونز سے متعلق چند مسائل اور ان سے محفوظ رہنے کے کچھ آسان طریقے مندرجہ ذیل ہیں:

ہارمونز اور موٹاپا
ہماری صحت سے متعلق بہت سے مسائل ایسے ہیں جو بعض اوقات ہارمونزسے جڑے ہوتے ہیں لیکن اس پہلو کو دیکھے بغیر انہیں دیگر عوامل سے وابستہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک موٹاپا بھی ہے۔ ایڈرینل گلینڈ کارٹی سول (Cortisol) ہارمون خارج کرتا ہے جو دو اہم ہارمونز گھریلن (Ghrelin) اور لیپٹِن(Leptin) کو متاثر کرتا ہے۔گریلن رطوبت ہمارے معدے اور چھوٹی آنت پر اثر انداز ہوتی اور بھوک کو کنٹرول کرتی ہے۔ دوسری طرف لیپٹِن ہارمون جسم کو بتاتا ہے کہ اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں لہٰذا فرد کھانے سے ہاتھ روک لیتا ہے۔ یوں لیپٹن کی کمی اور گریلن کی زیادتی موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔ جب گریلن کا لیول بڑھتا ہے تو کھانے کی خواہش بھی بڑھتی ہے۔ اگرےہ ہارمون لگاتار بڑھتا رہے تو آپ کو بھوک زیادہ لگے گی اورآپ پیٹو ہوجائیں گے جو موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح لیپٹن کی کمی بھی موٹاپے کی وجہ بنتی ہے۔

چہرے پر بال آنا
خواتین کے چہروںپر بال آجانے کو بھی جلد کے ایک مسئلے کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن اکثر صورتوں میں اس کا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہوتاہے اوراس وقت سامنے آتا ہے جب جسم میں مردانہ ہارمون زیادہ پیدا ہو رہا ہو۔ علاج سے اس ہارمون کو غیرمتحرک کیا جا سکتا ہے جس سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ خواتین چہرے کے بالوں کے لئے لیزرٹریٹمنٹ کی طرف رُخ کرتی ہیںحالانکہ جب تک ہارمونز کا مسئلہ حل نہیں ہو گا تب تک لیزر سے علاج کے باوجود بال باربار آتے رہیں گے۔

علاج ضروری کیوں
ہارمونرکا بروقت علاج نہ ہونے سے جسمانی ساخت کی خرابی اوربانجھ پن کے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ ہارمونز کی پیدا کردہ کچھ خرابیاں ایسی ہیں جن کا علاج نہ کرانے کی صورت میں حالت ایسی ہو سکتی ہے کہ فرد صاحب فراش ہوجائے۔
جو بچے بڑھوتری کے دور سے گزر رہے ہوں‘ ان کے بالغ ہونے تک ان کے ہارمونزضرور چیک کروائیں۔مزید براں جب بھی ان میں معمول سے ہٹ کر علامتیں سامنے آئیں تو ان کا اصل سبب معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ ہارمونز کا ٹیسٹ اس میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
معدے اور بلڈپریشر کے بہت سے مسائل کی وجہ ہارمونز ہوتے ہیںجبکہ مریض طویل عرصے تک صحت یابی نہ ہونے کے باوجود معدے اور دل کے ڈاکٹر کے پاس ہی جاتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی بیماری علاج کے باوجود زیادہ عرصے تک ٹھیک نہیں ہورہی تو بہتر ہے کہ آپ ہارمونز سپیشلسٹ کو بھی دکھالیں تاکہ بروقت اور صحیح علاج ممکن ہوسکے۔

کرنے کے کام
٭رات کو جلدی سونا اورصبح جلدی جاگنا نہ صرف عمومی صحت کو بہتر کرتا ہے بلکہ ہارمونز کے نظام کو بھی باقاعدہ بناتا ہے ۔اس لئے اس سادہ اور آسان مگر سنہرے اصول پر ضرور عمل کریں۔
٭خوراک میں چکنائی کے زیادہ استعمال سے ہر ممکن اجتناب کریں۔ ٭مرغی خانوں میں مرغیوں کی خوراک میں ہارمونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ایسی خوراک جو ہارمونز سے تیار کی گئی ہو‘ کا زیادہ استعمال بھی ہارمونز کے نظام کو ڈسٹرب کرسکتا ہے۔پاکستان میں بچیوں کے چہروں پر بال اورتولیدی مسائل کا ایک بڑا سبب چکن کا زیادہ استعمال ہے۔
٭کھٹی چیزیںزیادہ کھانے سے مردوں میں ہارمونز کے مسائل ہو سکتے ہیں۔
٭کچھ ادویات بھی ان مسائل کی وجہ بن سکتی ہیں جن میں نفسیاتی بیماریوں کے علاوہ معدے‘ بلڈ پریشر یا مرگی کی ادوےہ بھی شامل ہیں۔ لہٰذا مستند معالج سے ہی دوا لی جائے اور خود علاجی سے بچا جائے۔


 

ہارمونز کی لازمی سکریننگ
ہارمونز کے نظام پربڑھتی عمر کے اثرات کو دیکھتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے زندگی کے چار مختلف مراحل میں ہر انسان کی ہارمونز کی سکریننگ تجویز کی ہے۔
٭ پہلی سکریننگ پیدائش کے فوراً بعد
٭ دوسری سات سے آٹھ سال کی عمر میں
٭ تیسری بلوغت کے وقت یعنی 12 سے 16 سال تک
٭ آخری 40 سے 45 سال کی عمر میں
یوں تو ان تمام مراحل پر سکریننگ کی اہمیت مسلم ہے تاہم بڑھاپے کی عمر میں اس کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیونکہ بڑھتی عمر میں لوگوں کو درپیش بہت سے مسائل کا تعلق ہارمونز سے ہی ہوتا ہے۔ مثلاً 45 یا 47 سال کی عمر میںجب عورت کانظام تولید بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا تو کچھ ہارمونز کی کمی ہونے لگتی ہے۔ اس سے نیند میں خلل‘ چڑچڑاپن‘ ہڈیوںکا بھربھرا ہو جانا اور دیگر نفسیاتی مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ ان مسائل کے لئے اکثرخواتین ماہرِ نفسیات کے پاس جاتی ہیں جبکہ ان کی بنیادی وجہ ہارمونزکا اتار چڑھاو¿ ہوتا ہے۔