بند جگہوں کا خوف

65

شہزاد حسین
کلینیکل سائیکالوجسٹ۔ڈی ایچ کیو ہسپتال ‘جہلم
آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض لوگوں کو بند جگہوں پر جانے کا خوف ہوتا ہے۔ وہ راتوں کو کمرے کادروازہ بند کر کے نہیں سو سکتے، لفٹ جب بند ہو تو گھبرا جاتے ہیں اورایسی ایم آرآئی مشینوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں جو بالکل بند ہوں ۔ وہ بند جگہوں پر جانے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اگر مجبوراً ایسا کرنا پڑے تو انتہائی خوف کے ساتھ اسے برداشت کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے لئے تو یہ معاملہ محض الجھن کی حد تک رہتا ہے جبکہ کچھ میں یہ خوف ان کے معمولات زندگی تک متاثر کرنے لگتا ہے ۔نفسیات کی زبان میں اسے کلاسٹروفوبیا (Claustrophobia) کہا جاتا ہے جو ایک مرض ہے ۔مثلاً اگر ایک ڈاکیے کوپارسل پہنچانے کے لئے 10ویںمنزل پر جانا ہواور وہ لفٹ کے خوف سے وہا ں نہ جا سکے تو یہ عام خوف نہیں بلکہ نفسیاتی مرض ہے۔ایسے میں اسے کسی نفسیاتی معالج سے رابطہ کرنا چاہئے ۔

خوف کے عملی مظاہر
ایک اندازے کے مطابق ہمارے ہاں 4سے12 فی صدلوگ کلاسٹروفوبیامیںمبتلا ہیں۔عموماً جن جگہوں پر جانے سے یہ لوگ خوف محسوس کرتے ہیں‘ ان میں بند کمرے، واش روم، گا ڑی کی پچھلی سیٹ، کھڑکی کے بغیر کمرے،الیویٹر اورہوائی جہازکا سفر وغیرہ شامل ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ خوف اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگوںکے لیے غسل کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اندر ہی بند رہ جائیں گے۔ وہ یا تو دروازہ کھلاچھوڑ دیتے ہیں یا باہر کسی کو کھڑا کرتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ بند گاڑیوں سے خوف کھاتے ہیں و ہ یا تو سفر چھوڑ دیتے ہیں یا اس گاڑی میں بیٹھتے ہیں جس میںانہیں اگلی سیٹ پر جگہ ملے ۔

ان جگہوں سے لوگ اس لیے خوف کھاتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ ہوتی ہے کہ وہ ان جگہوں سے نکل نہیں پائیں گے اور وہاںبند رہ جائیں گے یا ہوا کی کمی ہو جائے گی جس سے ان کا دم گھٹ جائے گا۔ وہ سمجھتے ہیںکہ ان کا خود پر کنٹرول ختم ہو جائے گا جس سے وہ بے ہوش ہو جائیں گے جس سے ان کی بے عزتی ہو جائے گی یا انہیں کوئی اٹھانے والا نہیں ہو گااوروہ وہیں پڑ ے مر جائیں گے۔ مثلاً ایک مریض نے بتایا کہ کمرے کا دروازہ بند ہونے پر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا دم گھٹ جائے گااور وہ مر جائے گا۔اس نے بتایا کہ وہ خو د کو بچانے کے لیے کچھ بھی مثلاً کمرے کی کھڑکی توڑنے کی کوشش کرنا وغیرہ کر سکتا ہے۔
وہ انہیں مضبوط خیالات کے ساتھ ان جگہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں،ان جگہوں پر جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کچھ مریض تو ادویات کا استعمال بھی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حربے وقتی طور پر تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں مگر نہ صرف خوف میں اضا فہ کرتے ہیں بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بھی بنا دیتے ہیں۔
نجات کیسے حاصل کریں

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بند جگہوں کا خوف کم ہو جائے تو سب سے پہلے اپنے ان خیالات کو چیلنج کریں جو بند جگہوں کے متعلق آپ کے ذہن میں پیوست ہیں۔مثلاً اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کا دَم گھٹ جائے گا تو ان جگہوں پردوسرے لوگوں کا مشاہدہ کریں اور خود سے سوال کریں کہ اُن کا دم کیوں نہیں گھٹ رہا۔اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا میرا سانس کوشش کرنے سے جاری ہے یا یہ اس کے بغیر بھی چل رہا ہے، اور یہ کہ آکسیجن ان جگہوں پر کیسے کم ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کی سوچ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے گا‘ مثلاً آپ لفٹ میں پھنس کر رہ جائیں گے یا واش ورم میں بند ہو جائیںگے تو ذرا سوچیں کہ ایسے حادثات کے امکانات کتنے ہیں۔ کتنے لوگ لفٹ استعمال کرتے ہیں اور آج تک ان میں سے کتنے لفٹ میں پھنسے ہیں۔ جب آپ اعدادو شمار پرغور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایسا ہونے کے امکانات ہزار وںمیں اکا دکا ہیں اور ایسا خطرہ تو تقریباً ہر کام میں ہے۔

خوف کا سامنا کیسے کریں
جب آپ نے اس خوف سے متعلق اپنی سوچ کو پرکھ لیا ہے تو اگلا مرحلہ ان جگہوں کا سامنا کرنا ہے ۔جب تک آپ ان کا سامنا نہیں کریں گے تب تک آپ کا خو ف کم نہیں ہو گا ۔ اس کام کے لیے آپ اس خو ف کی شدت کے مطابق درجہ بندی کریں ۔ اس میںآپ کو اپنے خوف کو کم سے زیادہ کی طرف نمبر دینا ہیں جس میں 10 سے مراد سب سے کم اور100 سے مراد انتہا درجے کا خوف ہے۔آخری مرحلہ وہ ہے جس کا سامنے کرنے سے آپ کو 100فی صد یقین ہے کہ آپ مر جائیں گے ،بے ہوش ہو جائیں گے یاآپ کا سر پھٹ جائے گا ۔ درجہ بندی کرنے کے بعد درمیانے خوف سے شروع کریں،جس کو آپ نے 10 سے 30 کا درجہ دیا ہے ۔ کوشش کریں اس خطرے کا سامنے کرنے کا وقت 15 سے 30 منٹ کے درمیان تک یا اس وقت تک ہو جب آپ کی جسمانی علامات کم نہ ہو جائیں۔

اس مشق کے دوران یہ بات ذہن میں رکھیں کہ خطرے یا خوف کا سامنا کرنا شروع میں مشکل کام ہو گا اوراس دوران آپ وہ تمام تکلیف دہ علامات محسوس کریں گے جن سے بچ بچ کے آپ نے اپنے خوف میں اضافہ کر لیا ہے ۔دوسرے لفظوں میں اپنے ذہن کو اس کام کے آسان ہونے کی غیر ضروری تسلی نہ دیں۔سامنا کرنے کے دوران خود کو بچانے کی تدابیر کم سے کم استعمال کریں ورنہ ساری مشق بیکار جائے گی ۔ اس دوران سب سے بڑا خوف علامات کا ہی ہے ۔
اس کے لیے ایک چھو ٹا سا تجربہ کریں یعنی ان جسمانی علامات میں اس وقت شعوری طور پر اضافہ کریں ۔یعنی اگر سانس بند ہو رہا ہے تو تھوڑی دیر خودسانس بند کریں یا سانس کو بحال کرنے کے لیے کچھ نہ کریں، پھر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔اگر آپ نے کامیابی سے اس مشق کو کر لیا ہے تو خود کو شاباش ضروردیں۔آپ کی آسانی کے لیے ایک مثال پیش کی جا رہی ہے۔ فرض کریں کہ ایک فرد کو واش روم سے خوف آتا ہے۔ وہ اس خوف کی درجہ بندی یوں کر سکتا ہے:
خوف کی صورتحال
خوف کا درجہ
واش روم کا سوچ کر
10فی صد
بند دروازے کا سوچ کر
20 فی صد
واش روم میں جا کر مگر دروازہ کھلا چھوڑ کر
50 ٖفی صد
واش روم کا دروازہ بند کر کے مگر باہر کسی کو کھڑا کر کے
60فی صد
واش روم کا دروازہ بند کر کے 10منٹ تک
70سے80فی صد
واش روم کا دروازہ بند کر کے30 منٹ تک اندرٹھہرنا
80سے100فی صد

آپ نے کم درجے سے شروع کرتے ہوئے زیادہ مشکل درجے کی طرف بڑھتے جانا ہے۔ یہ درجات صرف آپ کی آسانی کے لیے بنائے گئے ہیں جنہیں آپ اپنے حالات کے مطابق بدل سکتے ہیں۔ سامنا کرنے سے پہلے اپنی سوچ کو لکھیں اور سامنے کرنے کے بعددوبارہ لکھیں اوردیکھیںکہ اس میں کیا تبدیلی آئی ہے۔اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے آپ کو مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنا ہوگی۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of