بابرکت, صحت بخش اور نفع بخش درخت

684

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تعارف میں ایک ” نور“ کی مثال دی ہے جو زیتون جیسے بابرکت درخت سے روشن کیا جائے :
”اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال کچھ یوں ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہو، چراغ ایک شیشے میں ہو۔ شیشہ ایسا ہو جیسے ایک ستارہ، موتی کی طرح چمکتا ہوا! وہ چراغ ایسے برکت والے درخت یعنی زیتون سے روشن کیا جائے جو نہ (صرف) مشرقی ہو نہ (صرف) مغربی، ایسا لگتا ہو کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دے گا، چاہے اسے آگ بھی نہ لگے…“(سورہ النور آیت 35
بابرکت درخت زیتون کا پھل‘ تیل اور پتے سبھی انسانی صحت کیلئے مفید ہیں۔حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث کے مطابق حضورپاک نے فرمایا کہ ”زیتون کا تیل نہ صرف کھانے میں بلکہ بیرونی طور رپر بھی استعمال کیاکرو‘ اس لئے کہ اس میں70بیماریوں کا علاج ہے جن میں کوڑھ(Leprosy) بھی شامل ہے۔“
زیتون کا تیل دل کے مریضوں کیلئے خاص طور پر مفید ہے ‘ اس لئے کہ یہ مضر صحت کولیسٹرول کو کم کرتا ہے۔یہ خون کی گردش کو بڑھاتا اور اسے رگوںمیں جمنے سے روکتا ہے۔ اس کے پتوںسے بناہوا عرق جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہے۔کچھ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ا گراس کے پتوں کو قہوے کے طور پر استعمال کیاجائے تو اس کے فوائد سبز چائے سے زیادہ ہیں۔ ان میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو صحت کے لئے مفید ہیں۔طبی فوائد اور کھانوں میں استعمال کے علاوہ اسے لیمپوں میں ایندھن کے طور پربھی استعمال کیاجاتا ہے اوراس سے صابن بھی بنتا ہے۔جب اس کے پھلوں سے تیل نکال لیاجائے تو ہرگیلن کے ساتھ تقریباً28پونڈ گودا بھی نکلتا ہے جسے مویشیوں کیلئے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ زیتون کے درخت نہ صرف کاشت کرکے باغات کی صورت میں اُگائے جاتے ہیں بلکہ یہ بیری کے درختوں کی طرح خود رو بھی ہوتے ہیں۔نیا بھرمیں زیتون کی تقریباً600 اقسام پائی جاتی ہیں تاہم یہ سب استعمال کے قابل نہیں۔ ان میں سے کچھ خاص قسم کے درختوں کی افزائش کی گئی ہے جن کا تیل اور پھل استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔
کہاجاتا ہے کہ ابتداً زیتون کی افزائش کوہ ہمالیہ کے دامنی علاقوں سے شروع ہوکر دنیا کے دیگر علاقوں میں پھیل گئی تھی۔بائبل میں حضرت نوحؑ کے زمانے میں ایک بڑے سیلاب کے تناظر میں یہ تحریر بھی ملتی ہے کہ” ایک فاختہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کی ٹہنی لے کر کشتی میں واپس لوٹی۔“اسے اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ دنیا میں امن اور سکون پھیلے گا اور سیلاب ختم ہوجائے گا‘ اس لئے کہ فاختہ اور زیتون کی شاخ‘ دونوں امن اور سلامتی کے پیغام کے طور پر استعمال ہوتے ہےں۔ قدیم یونان میں جیتنے والے کھلاڑیوں کو زیتون سے بنایاگیا گلدستہ ٹرافی کے طور پر پیش کیاجاتاتھا۔
آثارقدیمہ کے ماہرین کے مطابق زیتون کا تیل000 6سال قبل مسیح سے فلسطین ‘اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں استعمال ہورہا ہے۔یونان میں اس کے درختوں کی کاشت 2500قبل مسیح سے جارہی ہے۔اس کے درخت بحیرہ روم کے آس پاس کے ملکوں مثلاً اٹلی‘سپین‘ پرتگال وغیرہ میں بہت آسانی سے اُگتے ہیں۔یونان کے قریب ایک جزیرے میں موجود زیتون کے ایک درخت کے بارے میں اندازہ لگایا گیاہے کہ وہ تقریباً5000سال پرانا ہے اور اس میں اب بھی ہر سال پھل لگتاہے۔ ان کی طویل العمری کا ایک سبب یہ ہے کہ انہیں آسانی سے کوئی مرض نہیں لگتا۔اس کے درختوں کی جڑیں20فٹ سے بھی زیادہ دور تک پھیلی ہوتی ہیں۔ جڑوں کے اس جال کی وجہ سے ہوائیں انہیں جڑ سے نہیں اُکھاڑسکتیں اور یہ آندھیوں کا سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مقابلہ کرتے ہیں۔اپنی لمبی جڑوں کی بدولت یہ قحط اور خشک سالی کو بھی باآسانی برداشت کرلیتے ہیں اور ان کے پھلوں کی پیدوار بھی برقرا ر رہتی ہے۔
اپنے صحت بخش خواص کی وجہ سے زیتون کا تیل دنیا بھر میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔1990ءسے اب تک جرمنی میں تیل کا استعمال پانچ گنا اور برطانیہ میں 10گنا بڑھ گیا ہے۔اس وجہ سے تیل کی قیمت تقریباًدُگنی ہوگئی ہے اورپھل تقریباً3400ڈالر فی ٹن کے لگ بھگ میں فروخت ہو رہے ہیں۔امریکہ میںپچھلے دوعشروں کے دوران ہر سال اس کے استعمال میں چھے فی صد اضافہ ہورہا ہے۔
پاکستان میں تقریباً19لاکھ ٹن کوکنگ آئل اور گھی استعمال ہوتا ہے۔ اس میں سے 13لاکھ ٹن (تقریباً70فی صد) بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے جس پر 28ارب روپے کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں بہت سی زمینیں بنجرہیں اور کھیتی باڑی کے لئے موزوں نہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پر زیتون کے درخت اُگائے جاسکتے ہیں۔ انہیں اگانے کے تین طریقے رائج ہیں۔ پہلا بیج بونا‘ دوسرا نئے پودے لگانا اور تیسرا قلم لگانا۔پاکستان میں بہت سی جگہوں پر پہلے سے جنگلی زیتون کے درخت اُگے ہوئے ہیں۔ان درختوں کی بہتر قسم کی زیتون کی قلموںکے ساتھ پیوند کاری کی جاسکتی ہے جس سے ان کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔قلمیں 80سے 90فی صد تک کامیاب رہتی ہےں۔ایک تخمینے کے مطابق یہاں آٹھ لاکھ ایکڑ زمین بنجرہے جسے زیتون کے باغات میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔اس طرح ہم تیل کی درآمد پرجو زرکثیر خرچ کرتے ہیں‘ اس کی بچت رہے گی۔اچھی فصل لینے کے لئے ہر ایکڑ میں اگر250درخت لگائے جائیں تو جنگلی درختوں میں قلم لگانے سے 80لاکھ درخت لگ سکتے ہیںجس سے ہمیںایک ارب ڈالر کی آمدن ہوسکتی ہے ۔ بنجر زمین میں اس کی کاشتکاری کرکے مزید نوارب کمائے جاسکتے ہیں۔یہ درخت لگائے جانے کے چاریاپانچ سال کے اندر پھل دینے لگتے ہیںجن کی پیداوار سینکڑوں یا ہزاروں سال تک برقرار رہ سکتی ہے۔انہیں زیادہ پانی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
زیتون کی کاشت کا منصوبہ بہت نفع بخش ہے اور یہاں کئی علاقوں کی آب وہوا اس کیلئے موزوں ہے۔اسے قدرت کا ایک بہترین تحفہ اور نعمت سمجھ کر استفادہ کرنا چاہئے۔ حکومت نے اٹلی کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔توقع رکھنی چاہئے کہ اس کے کچھ بہتر نتائج سامنے آ پائیں گے ۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x