• Home
  • کورسٹوری
  • اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت ٹِک ٹِک کرتا بم

اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت ٹِک ٹِک کرتا بم

216

    اگر لوگوں سے پوچھا جائے کہ ’اس وقت دنےا کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“ تو غالب گمان یہی ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں آباد لوگوں کی بھاری اکثریت کا جواب ”دہشت گردی “ ہی ہو گا‘ اس لئے کہ نائن الیون کے بعد یہی سب سے بڑے مسئلے کے طور پر ابھرکر سامنے آیا ہے‘ میڈیا پر سب سے زیادہ کوریج اسی کی ہوتی ہے اور عالمی راہنما بین الاقوامی فورمز پر سب سے زیادہ شدت کے ساتھ بات اسی موضوع پر کرتے ہیں۔
اس ماحول میں برطانوی چےف میڈےکل آفےسر پروفےسر ڈےم سےلی ڈےوس نے اپنی حکومت کو خبردار کیاہے کہ جراثیم کے خلاف اینٹی بائیوٹکس بڑی تےزی سے غےر موثر ہوتے چلے جا رہے ہےں اور ےہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اسے بھی دہشت گردی کے برابر ہی اہمیت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس خطرے کو ٹائم بم سے تشبیہ دےتے ہوئے کہاکہ اگر اس کا حل نہ ڈھونڈا گےا تو اگلے 20 سالوں میں معمول کے آپرےشن کرنا بھی ممکن نہ رہے گا۔
اگربرطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اس مسئلے کو تشویشناک سمجھا جا رہا ہے تو پاکستان میں اس کی سنگینی یقیناً کئی گنا زیادہ ہو گی جہاں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بری طرح سے متاثر ہے۔ ایسے میں ماہرین ہی نہیں ‘عام آدمی کے لئے بھی اس مسئلے کو سمجھنا ضروری ہے اس لئے کہ اس کامنفی اثر سب سے زیادہ اسی پر پڑتا ہے ۔
اینٹی بایوٹکس کیا ہیں
اےنٹی کا ترجمہ ’ضد/مخالف‘ جبکہ ’بائےوٹک‘ کا ’حےاتی‘ کیا جاتا ہے۔ ےوں اینٹی بائیوٹکس کو ’زندگی کی ضد/مخالف‘ کہا جاسکتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ دوائیں انسانی زندگی کی نہیں بلکہ جراثےم کی زندگی کی دشمن ہیں۔
بیماریوں کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے کچھ جراثےم کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ ان جراثیم میں وائرس اور بےکٹےرےا‘ دونوں شامل ہےں۔بےکٹےرےا زندہ اجسام ہےں لہٰذا ’اےنٹی بائےوٹکس‘ وہ ادوےات ہےں جنہےں زندہ جراثےم ےعنی بےکٹےرےا کو ختم کرنے کے لئے استعما ل کیا جاتا ہے۔ ےہ ادویات وائرس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں میں موثر نہےں ہوتےں۔
بیکٹیریا کی غیرمعمولی مزاحمت
جس طرح ہر زندہ چیز میں اپنی جان بچانے کا جذبہ پایا جاتا ہے‘ اسی طرح بیکٹیریا میں بھی یہ صلاحیت قدرتی طور پر پائی جاتی ہے کہ وہ دشمن دواﺅں یعنی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف اپنے اندرمزاحمت (antibiotics resistance) پیدا کر کے خود کو ان سے بچا سکیں۔ ڈاکٹر سومنتھ گاندرا (Sumanth Gandra) متعدی امراض کے ماہر ہیں اور نئی دہلی( انڈیا) میں قائم ادارے سی ڈی ڈی ای پی (Center for Disease Dynamics, Economics & Policy) کے ساتھ ایک محقق کے طور پر وابستہ ہیں۔ انہوں نے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے موضوع پر بہت سی تحقیقات کی ہیں۔ ای میل پر شفانیوز کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
” بیکٹیریا میں اس طرح کی مزاحمت کا عمل قدرتی طور پرپایا جاتا ہے جس کے تحت وہ ہر 30منٹ کے بعد اپنی حالت تبدیل کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنا ڈی این اے دوسرے بیکٹیریا میں منتقل کر کے اسے بھی مخصوص دوا کے خلاف غیر مو¿ثر کر سکیں۔“
شفانیوز نے ڈاکٹرگاندرا سے پوچھا کہ اگر بیکٹیریا میں اس طرح کی مزاحمت قدرتی طور پر موجود ہے تو پھراس پر اتنی تشویش کیوں پائی جاتی ہے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مزاحمت غیرمعمولی طور پر بڑھ کر اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ ان کے سامنے دوائیں بے بس ہو رہی ہیں۔ان کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:
” پہلی وجہ مرےضوں کی طرف سے ان ادوےات کا بہت زیادہ ‘غیرضروری اور غےرمحتاط استعمال ہے جبکہ اس کا دوسرا سبب ترقی پذیر ممالک میں نگہداشت صحت سے متعلق اداروں اور ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کا ناقص انتظام ، لوگوں کی طرف سے صفائی کا خیال نہ رکھنا اور پینے کے صاف پانی تک رسائی کا نہ ہوناہے۔“ زیر نظر فیچر میں ہم اس کے پہلے سبب تک محدود رہیں گے۔
خودعلاجی‘ اپنا نقصان
پاکستان میں اےنٹی بائےوٹکس کے غےر ضروری اور غےر محتاط استعمال کے بہت سے اسباب ہےں جن میں سے پہلا سبب ےہ ہے کہ یہ ادویات میڈیکل سٹورز پر کھلے عام دستیاب ہیں اور انہیں ڈاکٹر ی نسخے کے بغیر آسانی سے خریدا جا سکتاہے ۔ اٹک کی رہائشی نگہت اسد کہتی ہےں:
”آج غرےب آدمی توکیا ‘متوسط طبقے کے افراد کی جےب بھی ڈاکٹر وں کی بھا ری فےسےں اور مہنگی ادوےا ت کی متحمل نہےں ہو سکتی۔ مےںعموماً سر درد، بے خوابی،گلے کی خرابی، بخار ، کھا نسی، معدے کے بھاری پن، معدے کی خرابی، قے روکنے اور قبض جےسے مسائل کے لئے خود ہی ادوےات لے کر استعما ل کر لےتی ہو ں۔ اکثر اوقات ڈا کٹر وہی نسخے لکھ کر دےتے ہےں جو میں استعمال کرتی ہوں۔“
لاہور سے تعلق رکھنے والے ماہرمتعدی امراض ڈاکٹر نوید راشد کا کہنا ہے کہ اوپر بیان کی گئی علامات میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ وائرس کی وجہ سے ہیں یا بےکٹےریا کی وجہ سے؟ اور اس فرق کو سمجھے بغیر اینٹی بائیوٹکس کھا لےنا نقصان سے خالی نہےں۔ ماہرےن صحت کا ےہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ اےنٹی بائےوٹکس کا زےادہ استعمال کرتے ہےں‘ وہ نظام انہضام میں معاونت کرنے والے اور دیگر فائدہ مندبےکٹےرےا کو بھی ہلاک کر دےتے ہےں۔ ایسے مرےضوں کے معدوں میں شدید قسم کے انفےکشن‘ نظام ہضم کے مسائل‘متلی‘ بھوک نہ لگناجیسے مسائل پےدا ہو جاتے ہےں۔اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔
ڈاکٹروں کی مجبوری یا غیرذمہ داری
پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے غیرضروری استعمال کے بڑے ذمہ دار ڈاکٹر بھی ہے جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا استعمال ضروری نہیں‘ انہیں تجویز کر دیتے ہےں۔ ڈاکٹر نوید راشدکا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات مجبوراً ایسا کرتے ہیں:
”مرےض ڈاکٹر کو بتاتا ہے کہ وہ اس سے قبل فلاں فلاں دوائےں کھا چکاہے ۔ڈاکٹر سوچتا ہے کہ اگر ان دواﺅں سے آرام نہےں آےا تو پھرکہےں ےہ انفےکشن بےکٹےریا کی وجہ سے ہی نہ ہو لہٰذا وہ مزید چھان پھٹک کے بغیر ہی اینٹی بائیوٹک تجویز کر دیتا ہے۔بعض اوقات ڈاکٹر کو یہ خدشہ ہو تا ہے کہ اگر اس نے دوا نہ دی تو مرےض اسے چھوڑ کر کسی دوسرے ڈاکٹرکے پاس چلا جائے گا جو ہوسکتا ہے اسے اےنٹی بائےوٹکس ےا سٹیرائڈز دے کر مرض کی علامات دبا دے۔ اس طرح مریض کو نہ صرف مالی نقصان ہو گا بلکہ اس پر ےہ تاثربھی قائم ہو جائے گا کہ دوسرا ڈاکٹر پہلے والے سے زےادہ قابل ہے۔ بعض اوقات مریض کے اصرار پر ڈاکٹر کو یہ دوا لکھنا پڑ جاتی ہے ۔“
ادویہ ساز کمپنیوں کا کردار
اس کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فارما سوٹےکل کمپنےاں مختلف مراعات کے ذرےعے ڈاکٹروں کو اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ وہ ان کے اےنٹی بائےوٹکس زےادہ سے زےادہ تجویز کریں۔ڈاکٹر نوید راشدان ادویات کے غیرضروری استعمال میں اس عامل کو تسلیم کرتے ہیں :
” اےسے ڈاکٹر کمپنےوں کے ساتھ طے کر لےتے ہےں کہ وہ کتنے عرصے میں کتنی ادوےات فروخت کروائےں گے اور اس پر انہےں کیا ملے گا۔اب تو ڈاکٹروں نے کلےنک کے ساتھ اپنا مےڈےکل سٹور بھی کھول رکھا ہے جس نے ان کا کام آسان کردیا ہے ۔“
یہاں اےک اہم سوال ےہ بھی پیداہوتاہے کہ آخر اےنٹی بائےوٹکس ہی کیوں زےادہ تجوےز کی جاتی ہےں؟ اس کے جواب میں شفاانٹرنیشنل ہسپتال جی ٹین اسلام آباد کی فارماسسٹ سارہ غلام یحییٰ کہتی ہےں:
”غےرضروری استعمال تو تمام دواﺅں کاہوتاہے لےکن اےنٹی بائےوٹکس کا چونکہ عام استعمال زےادہ ہے‘ اس لئے ان کا غلط استعمال بھی آسان ہے ۔ دل ،ذیابیطس اور بلڈپرےشر کی دوا تو وہی لے گا جو ان امراض کا شکا ر ہے جبکہ اےنٹی بائےوٹکس تو ہراس شخص کو دی جا سکتی ہےں جس کو انفےکشن ہوا ہو۔ دوسرا سبب ےہ ہے کہ ان ادویات پر منافع کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔ “
اےنٹی بائےوٹکس کے غےر ضروری استعمال کو روکنے کےلئے کئی سطحوںپراقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں بنےادی ذمہ داری رےاست کی ہے لہٰذا اس کا فرض ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کم از کم مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے:
٭اےنٹی بائےوٹکس کے بے جا اور غیر محتاط استعمال کو روکنے کے لئے دےگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اےنٹی بائےوٹک پالیسی بننی چاہئے اور اس کے مطابق ہی ادوےات دی جانی چاہئیں ۔
٭ہسپتالوں میں اینٹی بائیوٹکس کا غیرضروری استعمال روکنے کے لئے فارماسسٹ کا کردار بڑھاےا جائے اوران میں سٹیورڈشپ (stewardship)‘جےسے پروگرام شروع کئے جائےں۔
٭ ڈاکٹروں اور فارماسوٹےکل کمپنےوں کوقانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام اور بزنس پر مجبور کیا جائے ۔
٭ عوام میں اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال اور خود علاجی کے نقصانات پر آگاہی فراہم کی جائے ۔اس حوالے سے میڈیا پر خصوصی کمپینز شروع کی جائیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts