اچھی صحت اور اچھے موڈ کے لئے پودے اگائیں

جس ماحول میں پودوں کی کثرت ہو‘ وہاں کی فضا آلودگی سے پاک ‘صاف ستھری اور آکسیجن سے بھرپورہوتی ہے۔یوں یہ نہ صرف ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ اس لئے باغبانی کو ایک صحت بخش سرگرمی قرار دیا جاتا ہے ۔ کراچی میں ’’دی ریکوری ہاؤس‘‘ کے نام سے ایک نجی ہسپتال کے بحالی صحت سنٹر کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عاصمہ کا کہنا ہے:

’’باغبانی ، لوگوں کو فطرت کے ساتھ جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے علاوہ بہترین جسمانی ورزش بھی ہے جس میں ہمارے تمام حواس خمسہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ امید،سکون اور حوصلہ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے ۔‘‘
بہار پھولوں کا موسم ہے اور پھول اور خوشبو کا آپس میں یکجان دوقالب کا رشتہ ہے ۔انسانی ناک میں ایسے حساس اعصاب موجود ہوتے ہیں جو خوشبو یا بدبو ‘دونوں سے فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ انتہائی باریک بالوں کی مانند یہ اعصاب خوشبو یا بدبو کا پیغام دماغ کے اس حصے میں پہنچاتے ہیں جو یادداشت، جذبات اور جنسیات سے متعلق ہیں۔
مشہور ماہر نفسیات سگمنڈفرائڈ کا کہنا ہے کہ خوشبو یا بدبو ہمارے اندر محبت، نفرت، شہوت، پریشانی اور غم کے جذبات کو ابھار سکتی ہے اور یہ وہ کیفیات ہیں جو ہماری نبض، بلڈپریشر، سانس کی رفتار اور دفاعی نظام تک کو متاثرکرسکتی ہیں۔یوں خوشبو نہ صرف مزاج پر مثبت اثرات ڈالتی ہے بلکہ اسے علاج کی غرض سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرز علاج کا آغاز فرانس سے ہوا ۔ اس لئے بہار کے موسم میں پودے‘ خصوصاً خوشبودار پودے ضرور لگائیے۔

پھولوں کی اقسام
ماہرین ِ باغبانی کے مطابق پھولدار پودوں کو دوبڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔،ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
سدا بہار پھول
ایسے پودے جو ایک دفعہ لگا دیئے جائیں تو سال ہا سال تک برقرار رہتے ہیں تاہم ان پر پھول ایک مخصوص موسم میں ہی جلوہ دکھاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر کھلی جگہوں مثلاً باغات ، گھر کی بیرونی کیاریوں میں اورسڑک کے کناروں وغیرہ پر لگائے جاتے ہیں ۔ان کی مثالوں میں گلاب،موتیا، چنبیلی ،رات کی رانی اوردن کا راجا شامل ہیں۔یہ پودے برسات یا بہار کے موسم میں لگائے جاتے ہیں جو بازار سے قلموں یا مکمل پودوں کی شکل میں باآسانی مل جاتے ہیں۔
ان کی بھرپور نشوونماکے لئے ضروری ہے کہ فالتو اور اضافی ٹہنیوں کی تراش خراش کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے اور اگرانہیں کیڑا لگ جائے تو کیڑے مار دوا کا بروقت چھڑکاؤ کر کے انہیں نئی زندگی دی جائے۔
موسمی پھول
یہ وہ پھول ہیں جو ایک خاص موسم میں پیدا ہوتے‘ اپنی بہار دکھاتے اورپھر معدوم ہوجاتے ہیں۔اسی لئے انہیں موسمی پھول کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں یہ انولز( annuals ) یعنی سالانہ کے نام سے جانے جاتے ہیںجس سے مراد یہ ہے کہ یہ تین یا چار ماہ کی مخصوص مدت کے بعد مرجھا جاتے ہیں۔
ہم موسمی پھولوں کو موسم کے اعتبار سے دو بڑی قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔پہلی قسم سردیوں کے پھول کہلاتی ہے جن کا دوسرا نام موسم بہار کے پھول ہے۔یہ سردیوں کے آغازمیں لگائے جاتے ہیں اور بہار کے موسم میں ہری ہری ٹہنیوں پر اپنی بہار دکھانے لگتے ہیں ۔دوسری قسم کو گرمیوں کے پھول کہا جاتا ہے۔یہ پودے موسم بہار کے اختتام یا موسم گرما کے آغاز میں لگائے جاتے ہیں جو گرمیوں یا موسم برسات کے موسم میں ٹہنیوں پر جھولتے نظر آتے ہیں۔

افزائش کا طریقہ
وہ افراد جو باغبانی کے شعبے میںنئے ہوں‘ ان کے لئے بہتر مشورہ یہی ہے کہ کسی نرسری سے مناسب قد کی پنیری خرید کر زمین میں لگادیں۔اس طرح انہیں ضروری تجربہ بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ مالی نقصان سے بھی بچ جائیں گے۔
پنیری تیار کرنے کا طریقہ
پنیری ایک خاص درجہ حرارت اور ماحول میں خاص قد کے تیار پودوں کو کہا جاتا ہے جنہیں ایک خاص جسامت تک پہنچنے کے بعد کسی کیاری یا گملے میں آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔
صحت مند میڈیم

صحت بخش میڈیم کے بغیر پودے کی افزائش ممکن نہیں۔ ایسے میڈیم کی تعریف یہ ہے کہ وہ پودے کے لئے درکار غذائیت سے بھرپور ‘ہوا کے گزر کے لئے موزوں ،درکار پانی کو جذب کرنے اور فالتو پانی کے اخراج کی صلاحیت کا حامل اور پودے کے لئے موزوں درجہ حرارت کو یقینی بناتا ہو۔
ایسا میڈیم تیار کرنے کے لئے ایسی ریتلی مٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو مٹی اور ریت کے متوازن امتراج کی حامل ہو۔ پودوں کی افزائش کے لئے ضروری ایسی مٹی لارنس پور یا سواں دریا سے باآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ایک حصہ مٹی،ایک حصہ ریت اور ایک حصہ پتوں کی کھاد ملا کریکجا کر لیں۔اس مرکب کے اجزاء اپنا مخصوص کام سرانجام دیتے ہیں۔مثلاً مٹی کا کام جڑوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور ضروری غذا کی فراہمی ہے ۔پتے کی کھاد میڈیم کے لئے ہوادان کا کام کرتے ہیں جبکہ ریت اضافی پانی کے اخراج کا وسیلہ بنتی ہے ۔
موسم گرما کے پھول بہار کے آغاز یا مارچ کے مہینے کے درمیان میں لگائے جاتے ہیں۔اگر میڈیم ٹھیک ہو تو چار سے چھ ہفتوں میں پنیری تیار ہوجاتی ہے۔ تیار پنیری کی شناخت یہ ہے کہ اس کا پودا یا تو 2انچ لمبا ہو یا چار پتوں کی بہار لئے ہوئے ہوکیونکہ اس پر نکلے پہلے دو پتے گول ہوتے ہیں جو پودے کے لئے خوراک تیار کرنے کا کام کرتے ہیں۔اس کے بعد چار پتوں کا نکلنا پنیری کے مکمل تیار ہونے کی علامت ہے ۔اب اسے 7یا 10انچ کے گملے سے لے کربڑی کیاری میں باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
پنیری کی پیوندکاری
پنیری نکالنے سے پہلے گملے کو پانی سے اچھی طرح تر کریں تاکہ پودا نکلنے کے عمل کے دوران اس کی جڑیں کم سے کم متاثر ہوں۔یاد رکھیں کہ نئی جگہ پر پودے کو جڑیں جمانے کے لئے تقریباً 4سے6ہفتے لگتے ہیں۔ اس عرصے میں بھی ان کی نگہداشت نہایت ضروری ہے۔کیاری میں پودے لگاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کا درمیانی فاصلہ 9انچ سے کم نہ ہو اور پودے منظم طریقے سے قطاروں میں کھڑے نظر آئیں تاکہ دیکھنے والے کو پودوں کے درمیان ہم آہنگی اوریگانگت کا فطری مظاہرہ نظر آئے۔

عام تجربہ تو یہی ہے کہ پھولوں کے پودوں پر کیڑوں کا حملہ کم ہی ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ انہیں تیلیا لگ جاتا ہے جو کسی بھی جراثیم کش دوا کے چھڑکاؤ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس عمل کا نقصان یہ ہے کہ پھولوں پر شہد کی مکھیاں ،بھنورے یا تتلیاں منڈلاتی نظر نہیں آتیں۔اس طرح بن تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کے پھولوں کی خوبصورتی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔اس لئے اس اقدام سے پرہیز ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

خوبصورت بال

Read Next

ذیابیطس کے مریض آنکھ اور پاو¿ں کی دیکھ بھال کیسے کریں

Leave a Reply

Most Popular