آپ کے سوالات ماہر غذایات کے جوابات

7

ہائی بلڈ پریشر کے مریض سردیوں میں کیا کھائیں

٭ میر ی عمر 37سال ہے اورمیں پچھلے ایک سال سے ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں ۔اس بیماری سے پہلے میں سردیوں میں ایسی خوراک زیادہ استعمال کرتا تھا جو حرارت مہیا کرتی ہیں ۔ اب اس مقصد کے لئے مجھے کیسے کھانوں کو ترجیح دینی چاہیے ؟
(عمر یوسف، نواب شاہ)

٭٭ کھانے کے حوالے سے آپ کا محتاط رویہ آپ کو بہت سارے مسائل سے بچا ئے رکھے گا۔ عام طور پر بلڈ پریشر سردیوں میں زیادہ اور گرمیوں میں کم ہوتا ہے۔ سردیوں میں اس کے زیادہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ کم ٹمپریچر کی وجہ سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں لہٰذا خون کو گردش کے لئے کم جگہ ملتی ہے۔نتیجتاً دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ سردیوں میں اس مسئلے سے بچنے کے لئے درج ذیل ہدایا ت پر عمل کریں:
٭ اپنے وزن کومناسب حد میں رکھیں۔
٭ متوازن اور دل دوست غذاؤں کو اپنی خوراک کا اہم حصہ بنائیں۔ ایسی غذائیں کھائیں جن میں چکنائیاں اور سوڈیم کم مقدار میں ہوں۔ پھل، سبزیاں، ترکاری، خشک میوہ جات، گیہوں یا کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات اس کی مثالیں ہیں۔ ان غذائوں میں فائبر ، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشم اور دیگر ضروری غذائی اجزاء وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
٭ سردیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے سبزیوں کا سوپ بہترین ہے‘ تاہم اس میں نمک کم رکھیں۔
٭ اگر سردیوں کی کوئی خاص ڈِش کھانا چاہ رہے ہوں تو اس میں موجود کچھ اجزاء کو زیادہ صحت مند اجزاء سے بدل دیں۔ مثال کے طور پر مکھن کی جگہ زیتون کا تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔
٭ کھانوں میں ذائقے کے لئے مسالہ جات کی بجائے جڑی بوٹیوں کا استعمال کریں۔
٭سرخ گوشت کو سفید گوشت سے بدل دیں۔
٭ روزانہ 30منٹ کی چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں۔
٭سگریٹ اور شراب نوشی سے گریز کریں اور جہاں تک ہو سکے‘ کیفین کی مقدار کم کر دیں کیونکہ اس کی وجہ سے جسم اپنا مناسب ٹمپریچر کھو دیتا ہے۔

کینسر کے مریض‘ کیا کھائیں‘ کیانہ کھائیں
٭میری والدہ کینسر کی مریضہ ہیں۔ ان کے کھانوں کے حوالے سے ہمیں کس قسم کی احتیاط کرنی چاہیے؟
(عنبرین خالد،اسلام آباد)

٭٭جن لوگوں کے خون میں سفید خلیوں کی تعداد کم ہو‘ ان کے لئے خاص قسم کی خوراک تجویز کی جاتی ہے جسے نیوٹرپینک (neutropanic)کہتے ہیں۔ یہ بالعموم کمزور قوتِ مدافعت کے حامل افراد کے لئے ہوتی ہے۔ اس خوراک کو تب تک جاری رکھنا چاہئے جب تک ڈاکٹر عام کھانوں کی اجازت نہ دے دیں۔ کینسر کے حوالے سے اس بات کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ انہیں دیا گیا کھانا جراثیم اور دیگر مضر صحت چیزوں سے پاک ہو۔ان کے لئے کھانا پکاتے ہوئے ہاتھ، برتن اور اجزاء اچھی طرح سے دھلے ہوئے ہونے چاہئیں ۔ ایسے مریضوں کے کھانوں میں درج ذیل احتیاطیں اہم ہیں:
٭ کھانے کا اچھی طرح پکا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ خاص طور پرکچے یا ادھ پکے انڈوں سے پرہیز کریں۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ گوشت کی جو بھی قسم انہیں پکا کردی جارہی ہے‘ وہ اچھی طرح سے پکی ہوئی ہو۔
٭ ایسے لوگوں کو میوہ جات ( اپنی اصلی حالت میں ) نہیں کھانے چاہئے۔ البتہ کسی ڈش میں بیکنگ کے بعد وہ انہیں کھا سکتے ہیںیایہ انہیں بھون کر دئیے جا سکتے ہیں۔
٭ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کسی طرح کے فوڈ سپلیمنٹ اور وٹامنز کے استعمال سے پرہیز کریں۔
٭ کھانوں کے اوپر مسالہ جات، جڑی بوٹیوں اور اس قسم کی دوسری چیزیں چھڑکنے سے گریز کریں۔البتہ انہیں پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔
٭ ڈیری پروڈکٹس ( دودھ‘ دہی وغیرہ)جراثیم سے پاک ہونی چاہئیں۔ گھر کا بنادہی استعمال کریں۔ دکانوں پر ملنے والا کھلا دہی بالکل نہ کھائیں۔
٭دکانوں پر ملنے والا کھلا اچار نہ کھائیں۔
٭ تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں۔ ڈبہ بند چیزوں اور ان کی گا رنشنگ سے پرہیز کریں۔ اچھی طرح پکی ہوئی سبزیاں، ڈبہ بند پھل اور جوسز پئے جا سکتے ہیں۔ موٹے چھلکے والے پھل (مثلاً کیلا یا مالٹا) ٹھنڈے پانی سے اچھی طرح دھو نے کے بعد کھائے جاسکتے ہیں۔
٭ کاؤنٹر سے ملنے والے پہلے سے تیارشدہ سلاد اور دیگر کھانے نہ کھائیں۔
٭کھانا پکاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ برتن، چھری اور کٹنگ بورڈ وغیرہ اچھی طرح سے دھلے ہوئے ہوں۔
٭ پینے کا پانی اچھی طرح سے ابلا ہوا ہونا چاہئے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of