آرگن ٹاک… ’’ ناک‘‘ سے ملئے!!!

السلام علیکم قارئین کرام!میں آپ سب کو’’ آرگن ٹاک‘‘ میں خوش آمدید کہتی ہوں۔میں اپنے پروگرام کا آغازایک شعر سے کرنا چاہوں گی۔
گر ناک ہو نہ منہ پر‘ کیا لطف زندگی کا
انسان کے بدن میں یہ ناک زندگی ہے
انسانی جسم کے تمام اعضاء اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ایسے میں اگر ناک کی بات کی جائے تویہ چہرے کی خوبصور تی بڑھانے اور گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ ناک سے متعلق ان محاوروںسے ہوتا ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں اکثر استعمال کرتے ہیں۔مثال کے طور پرناک کٹوانا،ناک رگڑنا،ناک اونچی ہونا، ناک میں دم کرنا اور ناکوں چنے چبوانا اس کی چند مثالیں ہیں۔ہمارے معاشرے میں ناک عزت کی علامت کے طور پر مشہور ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج ناک کا اتنا ذکرکیوں کیا جارہا ہے ۔تو جناب! اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹاک شو کی مہمانِ خصوصی ہیں آپ کی اور ہماری پیاری’’ ناک صاحبہ‘‘۔آپ کی تالیوں کی گونج میں دعوت دیتے ہیں ان کو ۔آیئے ملتے ہیں ان سے اور کرتے ہیں ان سے کچھ مزے مزے کی باتیں۔
٭السلام علیکم ناک صاحبہ!کیسے مزاج ہیںآپ کے؟بڑی پیاری لگ رہی ہیں۔
٭٭جی، میں بالکل خیریت سے ہوں‘ خوش ہوں اور مزاج بھی بہت اچھے ہیں۔آپ کی تعریف کا شکریہ۔
٭سب سے پہلے اپنا تعارف تو کروائیں؟
٭٭جی،میرا نام ناک ہے ۔میں آپ کے چہرے پر پائی جاتی ہوں۔ میری جسامت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔ شکل کے حوالے سے دنیا بھر میںہماری 14 اقسام ہیں۔
٭ہم نے آپ کی بڑی تعریفیں سنی ہیں۔ یہ توبتائیے آپ کا ہمارے جسم میں کام کیا ہے ؟
٭٭میرا بنیادی کام سانس لینا اورخوشبوئوں یابدبوئوں کو سونگھنا ہے ۔ سانس لینے کے عمل میں استعمال ہونے والی گیسیںمیرے ہی ذریعے جسم میں داخل ہوتی اور باہر آتی ہیں۔مجھ میںموجود غدود سے خارج ہونے والی رطوبت میں جراثیم کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والا مواد شامل ہوتا ہے جو آپ کو مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔میں ایک قسم کا فلٹر ہوں جس میں چھوٹے چھوٹے بال موجود ہوتے ہیں۔یہ ہوا میں شامل گردوغبار اور مضرِصحت ذروں کو وہیں پکڑ لیتے ہیں۔یوں میں انہیں آپ کے جسم میں داخل ہونے سے روکتی ہوںتاکہ وہ پیچیدگیاں پیدا نہ کرسکیں ۔

٭٭اچھا!ہمیں توپتہ ہی نہ تھاکہ آپ ہمارے لئے اتنی اہم ہیں۔ بھئی ! بہت بہت شکریہ۔اب یہ بھی بتائیں کہ جب آپ بیمار ہوں تو ہم کن مسائل یا بیماریوں کا شکارہوسکتے ہیں؟
٭موسم کی تبدیلی اور کئی دوسرے عوامل کی وجہ سے میں مختلف مسائل کا شکار رہتی ہوں جن میںناک کابند ہونا یا سانس کم آنا، اس سے پانی بہنا، خون آنا(نکسیر)،گلے میںریشہ گرنا،بہت زیادہ چھینکیںآنا، خوشبو اوربدبو کا پتہ نہ چلنا،میری شکل بگڑ جانا اور سر میں دردوغیرہ ہوناشامل ہیں۔
٭ارے ناک صاحبہ! یہ تو بہت ہی تکلیف دہ بیماریاں ہیں۔یہ بتلائیے کہ سانس کی الرجی سے کیا مراد ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
٭٭سانس کی الرجی مجھے اور پھیپھڑوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔اس کے علاوہ حلق بھی اس کی زد میں آسکتا ہے۔ الرجی کی صورت میں جب گردوغبار ،پولن اور خوراک وغیرہ کے ذرات جسم میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو بہت زیادہ چھینکیں آتی ہیں،مجھ اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے،میں بند ہوسکتی ہوں اور آپ کو سانس لینے کے لئے منہ کھلا رکھنا پڑتا ہے۔ یہ الرجی بڑھ کرپھیپھڑوں پر اثرانداز ہوجائے تومریض کو دمہ بھی ہوسکتا ہے۔میری الرجی کا سب سے اچھا حل پرہیز ہے۔ پرہیز کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات وغیرہ سے توہو سکتی ہے لیکن ہو امیں موجود گردوغبار سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے مریض کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

مجھ سے متعلق ایک اور انفیکشن فلو یا وبائی نزلہ ہے۔یہ مختلف قسم کے وائرسوںسے ہوتا ہے۔پہلے دوتین دن تک اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔عام طو رپر اس کے لئے دردکش ادویات (pain killer)دی جاتی ہیں۔اس کی بجائے اگر آپ سُوپ،چائے اور کافی وغیرہ کا استعمال کریں تو وہ بھی فائدہ مند ہیں۔اس صورت میں کھٹی اورٹھنڈی اشیاء کھانے یاپینے سے پرہیز کریں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے آپ کو سردی سے بچائیں۔
٭یہ بتایئے کہ آپ کی رسولی کی کیا وجوہات ہیں؟
٭٭مجھ میں مختلف قسم کی رسولیاں اور کینسر کا بننااتناعام مرض نہیں ہے لیکن کچھ لوگ اس کا شکارہوسکتے ہیں۔رسولی اور کینسر کے مرض کی ابتدائی علامات ناک کے عام انفیکشن سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔اس لئے مریض جنرل فزیشنز وغیرہ کے پاس بھٹکتا رہتا ہے جس سے مرض کی تشخیص ہونے میں تقریباً چھ ماہ سے ایک سال تک کی تاخیر ہوسکتی ہے۔اگر کسی شخص کا نزلہ ٹھیک نہ ہورہا ہو اوراس کی ناک میں سے خون آلودریشہ آتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اس شعبے (ای این ٹی) کے کسی ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرائے تاکہ کسی خطرناک بیماری کی صورت میں تشخیص اور علاج جلد ہو سکے۔
٭ چلئے آپ ہمیں یہ بھی بتائیں کہ نکسیرسے کیا مراد ہے؟
٭٭ عام لوگ نکسیر کو ایک بیماری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ دوسری بیماریوں کی علامت کے طور پرظاہر ہوتی ہے۔بعض لوگوں کے خیال میں نکسیر دماغ سے خون جاری ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ خون دماغ سے آئے ۔عموماً یہ مجھ سے ہی جاری ہوتا ہے۔مجھ یعنی ناک پر لگنے والی چوٹ کے علاوہ ناک کی سوزش‘ایسی بیماریاں جن میں خون نہیں جمتا،ہائی بلڈ پریشر اورناک کی رسولی وغیرہ اس کی دیگر وجوہات ہیں۔چوٹ اور سوزش وغیرہ کی وجہ سے ہونے والی نکسیر عموماً معمولی ہوتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ شدید ہو تو ڈاکٹر کو چیک کرانا ضروری ہوتاہے ۔

٭ہم اکثر ناک کی ہڈی کے ٹیٹرھے پن کے بارے میں سنتے ہیں ۔ اس کی کیا وجوہات ہیں اورکیا اس کا علاج ممکن ہے؟
٭٭میرے نتھنوںکے درمیان کا پردہ اگر دائیں‘ بائیں یا دونوں طرف مُڑا ہواور اس کی وجہ سے مریض کو کسی تکلیف مثلاً ناک کا بند ہونا‘ ریشہ اور سردرد وغیرہ کا سامنا ہو تو یہ میری ہڈی ٹیڑھی ہونے کی علامت ہے۔یہ پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی ٹیڑھی ہو جاتی ہے ۔ معائنے کے ذریعے ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔ اس کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔لوگوں کی بڑی تعداد اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس کا حل صرف آپریشن ہے حالانکہ بعض صورتوں میں یہ اس کے بغیر بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم اس کے لیے مکمل علاج کرانا ضروری ہوتاہے ۔
٭آخر میں آپ ہمیں کیا پیغام دینا چاہیںگی؟
٭٭اگر آپ اپنی ناک رکھنا چاہتے ہیں تو ان باتوں پر عمل کریں۔ موسموں کی تبدیلی کا وقت الرجی کے مسائل بڑھاتا ہے لہٰذا ان دنوں آپ کو خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے ۔بچوں اور بوڑھوں کو چاہئے کہ الرجی سے بچائوکے لیے زیادہ ٹھنڈ میں جانے سے گریز اورماسک کا استعمال کریں۔کچھ خواتین مجھے خوبصورت بنانے کے لیے نتھ کا استعمال کرتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ مجھے چھدوانے کے لیے کسی ماہر فرد اور آلودگی سے پاک آلات کا انتخاب کریں۔مجھ سے متعلق مسائل میں خود علاجی کی بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کریں‘ اس لیے کہ میرے متعلق بہت سے غلط مفروضے عام ہیں۔

٭بہت بہت شکریہ ناک جی کہ آپ نے اتنی اچھی گفتگوکی۔آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔
قارئین کرام! امید ہے کہ آپ کوبھی اپنی دوست یعنی ناک کا انٹرویو پسند آیا ہوگا اور آپ کو اس سے کافی معلومات ملی ہوںگی۔ اگلے پروگرام میں ہم ’’آنکھ ‘‘ کے ساتھ حاضر ہوںگے۔ اگر آپ کو بھی آنکھوں کے بارے میں کچھ پوچھنا ہو تو اپنے سوالات بذریعہ خط، فون، ای میل یا فیس بک لکھ بھیجئے۔
مجھے دیں اجازت‘ اللہ نگہبان!

Vinkmag ad

Read Previous

تاریخی اور سیاحتی مقام ٹِلہ جوگیاں

Read Next

بچوں کاوالدین سے جائز مطالبہ : فون سے نہیں ‘ہم سے کھیلیں

Leave a Reply

Most Popular