اسپرین پرانی دوا، نئی خوبیاں

304

حضرت آدمؑ کے بارے میں الہامی کتب بتاتی ہیں کہ وہ جنت میں رہتے تھے جہاں انہیں آرام سے رہنے کے لئے ہر طرح کی سہولیات اورضروریات زندگی دستیاب تھیں ۔وہاں کچھ درختوں کا ذکر بھی ملتا ہے جن میں سے ایک ’شجر ممنوعہ‘بھی ہے ۔ اس کا پھل کھانااُن کے اور ان کی اہلیہ کے جنت سے اخراج کا سبب بنا۔الہامی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب آدم اور حوا نے اس کا پھل کھا لیا تو وہ جنتی لباس سے محروم ہو گئے اور درختوں کے پتوں سے اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپنے لگے ۔
زمین پر قدیم دور کے انسان کا ابتدائی لباس شکارکردہ جانوروں کی کھالوں سے تیارکردہ تھاجو اونی ہونے کی وجہ سے گرم ہوتا تھا ۔ سردیوں کے موسم میں اس کا بہت فائدہ تھا لیکن گرمیوں اور گرم علاقوں میں اسے پہننا بہت مشکل تھا۔ایسے میںکپاس، گھاس پھونس اور پٹ سن کی نئی خوبیاں سامنے آئیں اورانہیں رسیوں‘دھاگوں اور لباس کے لئے استعمال میں لایاجانے لگا ۔ یوں اس دور کا انسان لباس کے حوالے سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گیا۔

جڑی بوٹیوں سے آغاز
زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانوں نے فصلوں ‘ پھلوں‘ سبزیوں اور مفید درختوں کی کاشت سیکھ لی جس کی بدولت کھیت اور باغات جگہ جگہ دکھائی دینے لگے۔ پودوں ہی کو اولین دور کے انسانوں نے مختلف امراض کے علاج کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ علم طب مشرق کا ہویا مغرب کا‘ اس نے ان جڑی بوٹیوںسے بھرپوراستفادہ کیا ہے ۔ان میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کی طب میں افادیت ہزاروں سال کے مشاہدات اور تجربات سے ثابت شدہ ہے۔ان میںسے حاصل شدہ مواد کو ترقی دے کر کچھ ایسی دوائیں تیار ہوئیں جوآج دنیا کے کونے کونے میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اسپرین بھی ایسی ہی ایک دوا ہے جس کاکسی نہ کسی شکل میں استعمال 4000سال سے جاری ہے ۔ اڑھائی ہزار سال قبل یونان میں پیدا ہونے والے بابائے طب حکیم بقراط بخار اور مختلف دردوں کے علاج کے لئے اسے استعمال میں لایا کرتے تھے ۔

اسپرین کی ایجاد
بید (willow)کے درخت کی کم از کم 400قسمیں ہیں۔ اس کی شاخیں بہت لچکدار ہوتی ہیں لہٰذا ان سے کرسیاںاور دیگر فرنیچر بنایا اور بُناجاتا ہے۔ قدیم زمانے کے انسانوں کواپنے مشاہدات اور تجربات سے معلوم ہوا کہ اس درخت کی چھال کو پیس یا اُبال کرعرق نکال لیا جائے تو یہ کئی بیماریوں میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ 19ویں صدی میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے چھلکوں میں سیلسن (salcin) ہوتی ہے جو آج کی اسپرین کا نقطہ آغاز ہے۔ بائیر (Bayer) ایک جرمن کمپنی ہے جو ابتداً رنگسازی کی صنعت سے وابستہ تھی ۔ 1890ءمیں اس کے ایک سائنسدان نے پہلی دفعہ یہ دوا تیار کی ۔ جلد ہی اسے بخار اور مختلف دردوں، خصوصاً سرمیںدرد اور گٹھئے کے بخار (rheumatic fever)کے علاوہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات کے لئے بھی استعمال کیاجانے لگا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسپرین کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ بائیر نے چونکہ اسے ایجاد کیاتھا لہٰذا اس کے جملہ حقوق اُسی کے پاس تھے جوکئی برس تک محفوظ رہے۔ جب یہ ختم ہوگئے تواس کی مقبولیت کئی گنابڑھ گئی۔ ”گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ“ کے مطابق یہ 1950ءکی مقبول ترین دوا تھی ۔ایک اندازے کے مطابق دنیابھر میں ہر سال اسپرین کی 100ارب سے زیادہ گولیاں بکتی ہیں اور شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں یہ دواستعمال نہ ہوئی ہو ۔1999ءسے 2003ءکے دوران اس کے استعمال میں مزید20 فی صد اضافہ ہوجس کا سبب اس کی نئی خاصیتوں کا سامنے آنا ہے۔

دل کا دورہ اور فالج
خون میں پائے جانے والے باریک ذروں پلیٹ لیٹس (platelets) کاکام خون کو جماناہوتاہے ۔ کیلی فورنیا کے ڈاکٹر لارنس کریون (Lawrence Craven)نے پہلی دفعہ دریافت کیا کہ اسپرین ان ذروںکی اس صلاحیت کو ختم کرتی ہے۔ دل کے دورے کی اصل وجہ شریانوں میں خون کاجم جانا ہوتا ہے ۔خون کی گردش نہ ہونے کی وجہ سے دل کا وہ حصہ ’مر‘ جاتا ہے۔اگر یہ عمل دماغ کی رگوں میں ہوجائے تواس کابھی کچھ حصہ مردہ ہوجاتا ہے اور نتیجتاً مریض کو فالج ہوجاتا ہے۔
ان دونوں کیفیات میں خون کو جمنے سے روکنا ضروری ہوتا ہے جس کے لئے اسپرین بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے ۔ڈاکٹر کریون نے 1948ءمیں پہلی دفعہ اسے اس مقصد کے لئے استعمال کرنے کی ہدایت کی ۔ اب یہ کم مقدار میں ان تمام امراض میں استعمال ہوتی ہے جو رگوں میں خون جمنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔یہ اامراض ہارٹ اٹیک‘ فالج‘ ڈی وی ٹی (deep vein thrombosis) ہیں۔
فالج کبھی کبھار ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے دماغ کی رگ پھٹ جانے سے بھی ہوتا ہے۔ آج کل سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کا زمانہ ہے۔ ان ٹیسٹوںکے ذریعے معلوم ہوجاتا ہے کہ فالج کا سبب خون کا جمنا ہے یا ایسا رگ پھٹنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر اس کا سبب رگ پھٹنا ہو توپھر اسپرین نہیں دی جاتی۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی فرد خواہ اسپرین کی بہت ہی کم مقدار (مثلاً 75یا81 ملی گرام) باقاعدگی سے کھارہا ہو اور اسے کسی آپریشن (مثلاً دانت نکلوانا) کی ضرورت پڑے تواسے یہ بات سرجن کو لازماً بتانی چاہئے ۔ اگر ممکن ہو تو آپریشن سے ایک ہفتہ پہلے اس کا استعمال بند کریں ، ورنہ آپریشن کے دوران او ر بعدمیں زیادہ خون بہنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ہوائی سفرمیں اس کا استعمال
ایسا ہوائی سفرجو تین گھنٹوں سے زیادہ طویل ہو، اس میں انسانی جسم سے تقریباً ڈیڑھ لیٹر پانی پسینے کی شکل میں جسم سے ایسے خارج ہو جاتا ہے کہ مسافرکو محسوس بھی نہیں ہوتا۔ یہ مقدار پیشاب کے علاوہ ہے ۔ جسم میںپانی کی کمی کی وجہ سے خون گاڑھا ہو کر جم سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کی نشست چونکہ عام طور پر چھوٹی ہوتی ہے‘ اس لئے پنڈلی کی رگوں پر دباﺅ پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس میںخون کی گردش متاثر ہوتی ہے ۔اس لئے مسافروں کو چاہئے کہ جہاز میں وقفے وقفے سے تھوڑی دیر کے لئے چہل قدمی کرتے رہیں ۔اس کے علاوہ انہیںپانی وغیرہ پینے کی مقدار بڑھا دینی چاہیے۔
انہیں چاہئے کہ اپنے ڈاکٹرسے مشورہ کر کے سفر سے تین دن قبل 81ملی گرام اسپرین کی ایک گولی روزانہ کھانا شروع کردیں اوریہ معمول سفر کے دو دن بعد تک جاری رکھیں۔ ایک اندازے کے مطابق عموماًجہاز کے ایک فی صد مسافروں کو’ڈی وی ٹی ‘ ہوسکتی ہے اور اگر سفر8سے 10 گھنٹے طویل ہو تو یہ شرح تین فی صد ہوجاتی ہے۔بظاہر اس کی شرح کم ہے لیکن یہ ایک خطرناک پیچیدگی ہے جو حاملہ خواتین‘موٹے افراد یاایسی خواتین کو ہو سکتی ہے جو برتھ کنٹرول کےلئے ہارمون والی گولیاں کھارہی ہو۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ لیا جائے، اس لئے کہ بعض صورتوں میں اسپرین کا استعمال نقصان دہ بھی ہے۔

ہوائی سفرمیں اسپرین
کسی بیماری یا چوٹ لگنے سے جب جسم کے کسی حصے کو نقصان پہنچتا ہے تو وہاں سے خاص کیمیائی عناصر خارج ہوتے ہیں جو سوجن اور سوزش(swelling and inflammation) پیداکرتے ہیں۔ ان عناصر کو مجموعی طور پر پراسٹاگلینڈینز (prostaglandins) کہاجا جاتا ہے۔اسپرین ان عناصر کوبڑھنے سے روکتی ہے لہٰذا سوزش اور سوجن کے تدارک میں موثر ثابت ہوتی ہے۔جن دو سائنسدانوں نے اس کی یہ خاصیت دریافت کی‘ انہیں 1982ءمیں مشترکہ طور پر نوبل پرائز دیاگیا۔

اسپرین اور سرطان
اسپرین کی خاصیتوں کی داستان یہیں پر ختم نہیں ہوتی ہے۔اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کا طویل عرصے یعنی 10سال تک استعمال کئی طرح کے سرطانوں سے بھی بچاسکتا ہے۔ان کینسرزکی فہرست میں بڑی آنت اور ریکٹم کا سرطان(Colorectal cancer)نمایاں ہے۔جن لوگوں کو موروثی طور پر یاکسی اور وجہ سے ان کینسروں کا خدشہ زیادہ ہو، ان میں اسپرین کے باقاعدگی سے استعمال کے بعد 60فی صدسے بھی زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔اس کی مدد سے دیگر قسم کے کینسرز مثلاً غذا کی نالی ‘معدے‘ پروسٹیٹ‘چھاتی اورپھیپھڑوںکے کینسر میںبھی خاطر خواہ کمی لاسکتی ہے۔
برطانوی طبی شمارہ لینسٹ(Lancet)کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اسپرین استعمال کرنے والوں میں آنت کے سرطان کی شرح 20 فی صد کم دیکھی گئی ہے۔ اگست2009ءمیں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر جیک کیوزک (Jack Cuzik) کے شائع کردہ ایک مضمون کے مطابق اگر 50اور64سال کی عمر کے درمیان کے برطانوی باشندے روزانہ 75ملی گرام اسپرین استعمال کریں تو اگلے 20سال کے دوران 130 ہزار لوگوں کی جانیں بچ سکتی ہیں۔ اس کا استعمال 10سال کے لئے کافی ہے، اس لئے کہ اس کا اثر 20سال تک رہے گا۔یہ تخمینے بظاہر قیاس آرائی لگتے ہیں لیکن انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عورتوں کو حمل کے دوران ایک خطرناک پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے خون میں زہر سرایت کر جانے کی بیماری (toxemia) یا پری ایک لیمپسیا(pre eclampsia)کہاجاتا ہے۔اس میں بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور کسی اہم عضو، عموماً گردے کو نقصان پہنچتا ہے۔ عام حالات میں اس کے ہونے کا امکان چار فی صد ہوتا ہے۔ اگرحمل ٹھہرنے کے چار ماہ بعداسپرین کم مقدار( یعنی81ملی گرام) میں استعمال کی جائے تو اس کی شرح میں 24فی صد کمی آسکتی ہے۔ یہ چار ماہ سے پہلے اورزیادہ ڈوز میں ہرگز استعمال نہیںکرنی چاہیے۔

احتیاط، احتیاط ، احتیاط
اگرچہ اسپرین ایک معجزاتی دوامانی جاتی ہے جو بہت آسانی سے دستیاب ہونے کے علاوہ بہت سستے داموں مل جاتی ہے لیکن دوسری طرف یہ اتنی ہی خطرناک بھی ہے، اس لئے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں چنداحتیاطیں لازمی ہیں ۔ مثال کے طور پردوسال سے کم عمر بچے کو یا کسی بھی ایسے بچے کو جسے فلو کے علامات (کھانسی‘ گلے کی خراش‘ناک بہنا اور بخار) ہوں ، اسپرین بالکل نہ دیں۔ اس کی جگہ اسے پیراسٹامول دیں۔ اسپرین دینے کی صورت میں اسے رائی سینڈروم (reye syndrome) ہوسکتا ہے جس سے دماغ کو مستقل نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہے ۔اس مرض میں دماغ اورجگر کی سوجن ہوجاتی ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔
اسپرین خود بھی ایک تیزاب ہے اور پراسٹا گلینڈین کے اثر کی وجہ سے معدے میں زخم اور سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ اسے خالی پیٹ کبھی نہ کھائیں ورنہ معدے کو نقصان پہنچ سکتاہے۔ اس کا زیادہ استعمال کانوں میں شوں شوں پیدا کرتا اور قوت سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔جن لوگوں کو اس سے الرجی ہو‘ انہیں تویہ بالکل استعمال نہیں کرنی چاہیے۔