ادویات کی فروخت کاروباری اخلاقیات

201

کوئی بھی کاروبار اگر دیانت داری سے کیا جائے تو وہ نہ صرف پھلتا پھولتا ہے بلکہ بابرکت بھی ہوتا ہے‘ اس لئے اسے ایک نیکی اور بہترین حکمت عملی کے طور پر کرناچاہئے ۔اوراگر معاملہ ادویات سے متعلق کاروبار کا ہو تو اس میں اور بھی زیادہ احتیاط برتی جانی چاہیے‘ اس لئے کہ اس کابراہ راست تعلق انسانیت کی خدمت سے ہے ۔ اس کاروبار سے منسلک افراد اگر محض منافع اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کو مطمع نظر بنالیں تو معاملہ اشیاءکی قیمت میں محض چند فی صد اضافے تک محدود نہیں رہتا بلکہ بات بہت دور تک جاتی ہے ۔خالد رحمٰن کی ایک توجہ طلب تحریر
شوگر کے مریض کی حیثیت سے دوائیں استعمال کرتے کرتے انہیں کم وبیش 20سال ہونے کو آرہے تھے۔ اس دوران ان کے بہت سے ٹیسٹ ہوئے اور ان کی بنیاد پر دوائیں اور ان کی خوراک کی مقدار میں تبدیلی بھی ہوتی رہی ۔تبدیلی کوئی بھی ہو‘ کچھ دن میں انسان اس سے مانوس ہوجاتا ہے۔چنانچہ مرض کے حوالے سے کوئی نئی دوا خریدنی ہو یا ٹیسٹ کرانا ہو توچند روز بعد اس کے اثرات ہی نہیں‘ اس کی قیمت بھی انسان کے لیے اجنبی نہیں رہتی ۔یہی کچھ ان کے ساتھ بھی تھا۔
ان دنوں انسولین کی خوراک ازسرنو ایڈجسٹ کرنے کا مرحلہ درپیش تھا لہٰذا انہیںدن میں کم ازکم تین بار شوگر ٹیسٹ کرنا پڑرہی تھی۔ چنانچہ ٹیسٹ کے لیے درکار سٹرپس(strips) کچھ زیادہ ہی استعما ل ہورہی تھیں۔ اس پس منظر میں جب ایک بڑے ڈرگ سٹورسے انہوں نے کچھ ادویات کے ساتھ ایک خاص برانڈ کی سٹرپس لیناچاہیں تو معلوم ہوا کہ بل میں چارج کی گئی قیمت اصل قیمت سے کافی (کم وبیش 15فی صد) زیادہ ہے۔ انہیں خیال ہواکہ شاید سیلزمین سے کوئی غلطی ہوگئی ہے ‘چنانچہ انہوں نے اسے اس جانب متوجہ کیا۔ اس کا اصرار تھا کہ اس سے کوئی غلطی نہیں ہوئی اور ان کی قیمت وہی ہے جو اس نے انہیں بتائی ہے۔
صاحب کو اطمینان نہ ہوا توانہوں نے کاﺅنٹر پر بیٹھے منیجر کو اپنی جانب متوجہ کیااور معاملہ اس کے سامنے رکھا۔ اس کا موقف بھی وہی تھا‘ البتہ مریض پر احسان کرتے ہوئے اس نے قیمت میں پانچ فی صد رعایت دینے کا عندیہ ظاہر کیا۔ صاحب کو اب کسی قدرغصہ آنے لگا تھاکہ یہ ان کے ساتھ دھوکا ہے۔ انہوں نے گزشتہ کچھ دنوں میں کئی بار یہی سٹرپس مختلف دکانوں سے خریدی تھیں لہٰذا انہیں ان کی درست قیمت کا بالکل صحیح اندازہ تھا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان سے معمول کی قیمت وصول کی جائے ورنہ سٹرپس واپس لے لی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ محض چنداضافی روپوں کانہیں بلکہ اصول اور دیانت کا ہے۔
منیجر نے مزید احسان جتاتے ہوئے کچھ اور رعایت کردی۔ یہ قیمت بھی مارکیٹ سے اگرچہ کچھ زائد تھی لیکن صاحب نے فی الحال بات آگے بڑھانے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے پڑوس میں واقع ایک دکان سے وہی سٹرپس معمول کی قیمت پر حاصل کیں اور بمع رسیدپہلے سٹوروالوں کو دکھا کر انہیں بتایا کہ دومرتبہ رعایت کے باوجود ان سے اصل قیمت سے زیادہ رقم وصول کی گئی ہے۔
صاحب کا خیال تھا کہ سٹور منیجر ان سے معذرت کرے گااور شاید آئندہ کے لیے اس کے رویے میں کوئی بہتری آجائے۔ تاہم منیجر اور اس کے سٹاف نے اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ غصے پر توانہوں نے ضبط کیا لیکن ان کی حیرت اور صدمہ‘ دونوں انتہا پرتھے۔
جس ڈرگ سٹورمیں یہ سب کچھ ہورہا تھا‘ وہ شہر کے متمول اور پڑھے لکھے علاقے میں واقع تھا۔ یہ اس وجہ سے بھی جانا پہچانا تھا کہ شہر میں کئی جگہ اس کی شاخیں تھیں۔ ایسے میں اصولاً تو انہیںدوسروں سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہےے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں تھا۔ سوچا جاسکتا ہے کہ اگر ایک پڑھے لکھے خریدار کے ساتھ عملے کی جانب سے ا س طرح ڈھٹائی کے ساتھ دھوکا کی واردات کی جاسکتی ہے تو عام گاہکوں کے ساتھ کیا کچھ نہیںکیا جاتاہوگا۔ عملے کے لیے یہ رویہ اختیار کرناشاید اس بنیاد پر ممکن تھا کہ اکثر لوگ ان کے بل کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔ فوری طور پروہ اس کے علاوہ کچھ نہ کرسکتے تھے کہ سٹرپس واپس کردیں‘ چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا۔
کاروبار خواہ کوئی بھی ہو امانت اور دیانت کے ساتھ کیاجائے تو اس میں یقینی طورپربرکت اور عزت ہوتی ہے۔ ادویات کا کاروبار تو اس اعتبار سے زیادہ اہم ہے کہ یہ انسانوں کی خدمت کا براہ راست ذریعہ ہے۔ اس کاروبار سے منسلک افراد اگر محض منافع اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کو مطمع نظر بنالیں تو درحقیقت معاملہ اشیاءکی قیمت میں محض چند فی صد اضافے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایسا طرزعمل بتدریج جعلی ادویات بنانے اور بیچنے تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر جعلی ادویات کے حوالے سے ایسی رپورٹیں وقتاً فوقتاً ذرائع ابلاغ میں آتی رہتی ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض افراد زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دُھن میں ہراصول کو پامال کرنے کے لیے تیاررہتے ہیں۔
ادویات کے کاروبار میں شفافیت اور ایمان داری کو یقینی بناناکسی بھی دوسرے بزنس کے مقابلے میں زیادہ اہم اورحساس معاملہ ہے۔ اس ضمن میں جہاں ریگولیٹرز اور انتظامی اداروں کو زیادہ موثر طریقے سے اپنا کام کرنا چاہےے وہیں ایک عام صارف کوبھی اس بارے میںزیادہ باخبر اورچوکنا ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ جو چیز حاصل کررہا ہے‘وہ درست ہے اور ٹھیک قیمت پربیچی جا رہی ہے۔