ڈینٹل امپلانٹ بہتر کیوں

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں 20 سال یااس سے زائد عمرمیں تقریباً سات فی صد افراد کے دانت مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل طورپرضائع ہوجاتے ہیں۔ یہ شرح 60 سال یااس سے زائد عمر کے افراد میں کہیں زیادہ ہے۔ ایسی صورت میں مصنوعی دانت درکار ہوتے ہیں جو کھانے اور بولنے میں مدد دینے کے علاوہ قدرتی دانتوں کے ذمے دیگر کام بھی انجام دیتے ہیں۔ انہیں لگانے کے لئے عموماً دو آپشنز استعمال کیے جاتے ہیں

٭ ڈینٹل برج (Dental Bridge)
٭ڈینٹل امپلانٹ(Dental Implant)

برج اورامپلانٹ میں فرق

ڈینٹل امپلانٹ دانتوں کا مسئلہ حل کرنے والے دوسرے آپشن کی نسبت زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس پر گفتگو سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ دونوں میں فرق کیا ہے۔
ڈینٹل برجز وہ مصنوعی دانت ہیں جو عموماً پلاسٹک یا چینی مٹی (Porcelain) سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ اس صورت میں لگائے جاتے ہیں جب پیچھے کچھ مضبوط دانت موجود ہوں۔ مضبوط دانتوں کو ضرورت کے مطابق تراش کر برج کو سہارا دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے بغیر یہ مصنوعی دانت اپنی جگہ پرقائم نہیں رہ سکتے۔

ڈینٹل امپلانٹس بھی مصنوعی دانت ہیں تاہم یہ جبڑے میں ساتھ والے دانتوں کی غیر موجودگی یا ان کے سہارے کے بغیر بھی لگائے جاسکتے ہیں۔ یہ عموماً دو قسم کی دھاتوں ٹائیٹینیم اورزرقونیم سے بنے ہوتے ہیں۔

زیادہ تر مریضوں میں ٹائیٹینیم امپلانٹس استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا رنگ سرمئی ہوتا ہے۔ یہ قسم سویڈن کے ایک فزیشن اور ریسرچ پروفیسر پیرانگوار برآنِ مارک (Per-Ingvar Brånemark) نے 1965 میں دریافت کی تھی۔

جن افراد کو اوپر ذکر دھات سے الرجی ہو ان میں زرقونیم سے بنے امپلانٹ لگائے جاتے ہیں۔ ان کا رنگ قدرتی دانتوں کی طرح سفید ہوتا ہے۔

امپلانٹ بہتر کیوں

مصنوعی دانتوں کی ان دونوں اقسام کی اپنی اپنی خوبیاں اورخامیاں ہیں تاہم ڈینٹل امپلانٹس کو زیرنظر خصوصیات کی بنا پرزیادہ فائدہ مند قراردیا جاتا ہے

٭انہیں لگانے کے لئے ساتھ والے دانتوں کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

٭یہ جبڑے میں رہنے کے تقریباً دو ماہ بعد مستقل طورپرجڑجاتے ہیں۔

٭یہ زیادہ پائیدار اورمضبوط ہوتے ہیں۔

٭ڈینٹل برجز کو فکس کرنے کے لئے ارد گرد کے دانتوں کو تراشا جاتا ہے جس کے باعث دانتوں کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس امپلانٹ کی صورت میں مریض ان مسائل سے محفوظ رہتا ہے۔

٭ بعض بزرگ مکمل مصنوعی بتیسی (complete dentures) استعمال کرتے ہیں جسے اتارکر دوبارہ لگایا جاسکتا ہے۔ اکثر اوقات یہ کھاتے، بولتے یا چھینکتے ہوئے باہرآجاتی ہے۔ ان افراد میں دو،چار یاچھ ڈینٹل امپلانٹس لگا کر بتیسی کو فکس کرکے ان مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔

کون دانت لگوا سکتا ہے

٭وہ افراد ڈینٹل امپلانٹ لگوا سکتے ہیں جن کے مسوڑھے صحت مند ہوں اوران میں اتنی ہڈی موجود ہو کہ وہ امپلانٹ کو اس کی جگہ پر قائم رکھ سکے۔

٭ شوگر کے مریض اگر اپنا شوگر لیول کنٹرول میں رکھیں۔

٭تمباکونوشی کرنے والے افراد مسوڑھوں کی بیماریوں کے شکار نہ ہوںتو وہ بھی ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

 امپلانٹس فائدہ مند ہیں تاہم انہیں لگوانے کے لئے کسی قابل ڈینٹسٹ  کا انتخاب کریں۔ اس کے علاوہ عام دنوں میں بھی اورامپلانٹ کے بعد بالخصوص دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ بعض لوگ مالی مجبوریوں کی وجہ سے ڈینٹسٹ کے بجائے اتائیوں سے دانتوں کا علاج کروا لیتے ہیں۔اس سے نہ صرف دانت بری طرح خراب ہوجاتے ہیں بلکہ وہ ہیپاٹائٹس بی یا سی کے بھی شکار ہو سکتے ہیں۔اس لئے ان سے ہر صورت بچنا چاہئے۔

Why are dental implants better than dental bridges, benefits of dental implant, dental implant or bridge mai kya difference hai, implants kon lagwa sakta hai

Vinkmag ad

Read Previous

بزرگوں کی جھکی کمر

Read Next

اوسٹومی

Leave a Reply

Most Popular