پیٹ میں کیڑے

1.007K

پیٹ میں کیڑے ایک ایسی شکایت ہے جس کے زیادہ تر شکار پانچ سے نو سال تک کے بچے ہوتے ہیں لیکن یہ اس سے چھوٹے بچوں کو بھی ہوسکتی ہے ۔یہ ان میں بے چینی جیسی عمومی پریشانی پیدا کرنے کے علاوہ ان کے پیٹ میں درد ‘ حتیٰ کہ خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ان کی اقسام‘ وجوہات،علاج اور احتیاطی تدابیر پر شفا انٹر نیشنل اسلام آباد کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹرمنیر ملک سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر    

بچوں کو اپنے سامنے نشوونما پاتے دیکھناوالدین کے لئے بہت خوشگوار اور خوبصورت تجربہ ہوتا ہے ۔آمنہ اورفہد کا اکلوتا بیٹا علی ا ب ایک سال کا ہونے والا تھااور وہ دونوں اسے اپنے پاﺅں پر چلتا دیکھنے کے لئے بے تاب تھے۔ بالآخر وہ دن آ گیا جب بچے نے اپنا پہلا قدم اٹھایا۔ اسے چلتے دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ جب چلنا شروع کر دے گا تو ان کی ذمہ داریوں اوربچے کے کچھ مسائل میں کمی آ جائے گی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے‘ اس لئے کہ ان کی صرف نوعیت بدلتی ہے۔ مثال کے طور پر بچہ جب ماں کی گود میں یا بستر پر رہتا ہے تووہ جراثیم اور طفیلیوں (parasites)سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہتاہے۔ جب وہ چلنا شروع کرتا ہے توآغاز میں ننگے پاو¿ں فرش پر چلتا ہے اور جو چیز ہاتھ لگے‘ اسے اٹھا کرمنہ میں ڈال لیتا ہے۔اس وجہ سے بچے کے معدے میں مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

آمنہ ایک دن اپنے شوہر سے کہنے لگی:
” علی دن بھر روتارہتا ہے۔وہ نہ تو ٹھیک طرح سے کھاتا ہے اورنہ ہی وقت پر سوتا ہے ۔مجھے تو لگتا ہے کہ اس کے پیٹ میں کوئی مسئلہ ہے ۔“
آمنہ کی بات سن کر فہد نے کہا کہ اسے ہم بچوں کے ڈاکٹر کے پاس لئے چلتے ہیں۔ ڈاکٹر نے علی کا چیک اَپ کیا اور اسے پاخانے کا ٹیسٹ لکھ کر دیا۔جب اس کی رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں کیڑے ہیں ۔ آمنہ نے پریشان ہوکر پوچھا :
”یہ کیسے ہوا؟ اس لئے کہ میں تو اس کا بہت خیال رکھتی ہوں۔“
ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ بظاہر تمام تر احتیا ط کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی بداحتیاطی ہو ہی جاتی ہے۔ اس نے آمنہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ بچہ جلد ہی ٹھیک ہوجائے گا۔

پیٹ کے کیڑے ‘اقسام
ڈاکٹر نے آمنہ کو بتایا کہ پیٹ میں کیڑے ترقی پذیر ممالک میں عمومی شکایت ہے اور خصوصاً بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عموماً پانچ سے نو سال تک کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں لیکن یہ اس سے چھوٹے بچوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کیڑوں کی تین بڑی اقسام چلونے (worms thread )، کیچوے ( worms round ) اور کدو دانے ( worms tape) ہیں۔

چلونے

باریک دھاگے کی طرح کے چلونے کیڑوں کی لمبائی بالعموم چوتھائی انچ سے ایک انچ تک ہو سکتی ہے ۔یہ رنگت میں سفید ہوتے ہیں اور زیادہ تر انتڑیوں اورپاخانے کی جگہ یعنی مقعد (anus) میں پائے جاتے ہیں۔یہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں ۔ جس فرد کے پیٹ میں یہ کیڑے ہوں‘ ان میں مندرجہ ذیل علامات پائی جاتی ہیں :
٭ مقعد کے آس پاس خارش کا ہونا۔
٭بھوک کا بہت زیادہ لگنا۔
٭سانس کا بدبو دار ہونا۔
٭ دانت پیسنا۔
٭ناک کھجانا ۔
٭بچے کا مسلسل بے چینی محسوس کرنا۔

کیچوے
یہ کیڑے لمبائی میں عموماً4 انچ سے 15 انچ تک بڑے اور موٹائی میں تقریباً سوا انچ ہوتے ہیں جو بالعموم آنتوں اور معدے میں پائے جاتے ہیں۔یہ عام طور پر قے آنے کی صورت میں یا پاخانے کے راستے خارج ہو تے ہیں۔ان کی موجود گی میں مندرجہ ذیل علامات سامنے آتی ہیں :
٭پیٹ میں درد
٭پیٹ میں سوزش
٭چہرہ کی رنگت کا زرد ہونا
٭دانت پیسنا
٭بدبو دار اسہال
٭منہ سے رال کا بہنا ( ایسا زیاتر سوتے میں ہوتاہے ۔)

کدو دانے
یہ کیڑے ایک انچ سے 50فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ ان کی رہائش کا مقام چھوٹی آنت ہے لیکن بعض دفعہ ان کا کوئی ٹکڑا کٹ کر پاخانے کے راستے خارج ہو جاتا ہے۔ان کا سر آنت کے ساتھ چپکا رہتا ہے ۔یہ کیڑے مندرجہ ذیل علامات کا باعث بنتے ہیں :
٭ پیٹ میں درد۔
٭پیٹ بوجھ محسوس ہونا ۔
٭ناف والی جگہ سے پیٹ کا بڑھا ہوا ہونا۔

پیچیدگیاں
مندرجہ بالابتائی گئی علامات ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ اگر پیٹ میں موجود ان کیڑوں کی بروقت تشخیص اورپھر علاج نہ کیا جائے توپیٹ میں مستقل اورشدید درد کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ کیڑے انسانی خون پر پلتے ہیں لہٰذا ان کی موجودگی سے انسانی جسم میں خون کی کمی سمیت کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔

وجوہات
بچوں کے پیٹ میں کیڑے پیدا ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں:
٭ میٹھی اشیا ءکا زیادہ استعمال ۔
٭خراب سبزی یا گوشت کھانا۔
٭سبزی یا گوشت کا مکمل طور پرپکا ہوا نہ ہونا۔
٭آلودہ پانی پینا یا واش روم میں گندا پانی استعمال کرنا۔
٭زمین پر ننگے پاو¿ں گھومنا۔
٭غذا کو اچھی طرح چبا کر نہ کھانے کی عادت۔

علاج معالجہ
علاج کے طور کچھ بچوں کودن میں تین بار(صبح ،دوپہر ،شام) پینے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں جبکہ کچھ کو ہفتہ میں ایک بار پلائی جاتی ہیں۔بعض والدین بلا ضرورت یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہی بچوں کو کیڑوں کی دوا پلا دیتے ہیں ۔ایسا نہیں کرنا چاہئے‘ اس لئے کہ دوا کی ضرورت او رخوراک کی مقدارکا فیصلہ معالج حضرات مریض کے معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ہی کرتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر
مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے بچوں کو ان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے:
٭انہیں تازہ ،صاف ستھری اور مکمل طورپرپکی ہوئی غذا کھلائیں ۔
٭اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کھانے سے پہلے اور بعد میں لازماًہاتھ دھوئیں ۔
٭ بچوں کو فرش پر ننگے پاو¿ں چلنے سے روکیں۔
٭انہیںپینے کے لئے ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی دیں ۔
٭انہیں نہلانے یادھونے کے لئے صاف پانی استعمال کریں۔
٭بچوں کے ناخن باقاعدگی سے کاٹیں۔