ماہرین کے مطابق سست طرز زندگی ذیابیطس کے مریضوں میں پیچیدگیوں کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ یہ بات فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرینڈے دو سول، برازیل کی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ تحقیق میں 27 سابقہ سٹڈیز سے تقریباً 2.4 ملین افراد کا ڈیٹا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق ذیابیطس کے جو مریض ہفتے میں 150 منٹ ورزش نہیں کرتے، ان میں ہارٹ فیلئر کے کیسز میں 7.3 فیصد اضافہ ہوا۔ دل کی بیماری میں 7 فیصد اور سٹروک کے کیسز میں 10.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں کم تعلیم یافتہ اور کم وسائل والے افراد میں کم ورزش نوٹ کی گئی۔ اس وجہ سے ان میں ذیابیطس کی پیچیدگیاں بھی زیادہ پائی گئیں۔
ریسرچ کی سربراہ جے فٹر کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے متحرک طرز زندگی اپنانا ضروری ہے۔ ورزش کی عادت ہسپتال میں داخلے، معذوری اور علاج کے اخراجات کم کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع ہوئی۔