پرہیز کل نہیں، آج بلکہ ابھی

10

عامرفاروق
ٹیکنالوجی میں روز افزوں ترقی جہاں انسانی زندگیوں میں ایسی آسائشیں لائی ہے جن کا تصور بھی چند برس قبل محال تھا، وہیں اس کے مضر اثرات بھی خاصے نمایاں اور سنگین ہیں۔ ان
ضرر رساں اثرات کے بروقت ادراک اور تدارک کے لئے اقدامات اتنے ہی ضروری ہیں جتنا اس دور میں آگے بڑھنے کے لئے نئی ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا۔ ایک عام مشاہدے کی بات یہ بھی ہے کہ بحیثیت معاشرہ اس زمانے میں جسے بلاشبہ ٹیکنالوجی کا دور کہا جا سکتا ہے، ہمارا داخلہ مطلوبہ تیاری سے عاری نظر آتا ہے جو اس تبدیلی کو اختیار کرنے کے لئے ضروری تھی۔

طرز حیات میں مطلوبہ تبدیلیاں کئے بغیر یا جزوی تبدیلیوں کے ساتھ ایک یکسر نئے ماحول میں داخلہ ہماری ایڈجسٹمنٹ کے لئے سنجیدہ چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ یہ چیلنج ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اثرانداز ہورہے ہیں جن میں معاش، سماجی تعلقات، تعلیم‘صحت اور کئی دیگر پہلو شامل ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی نے کیسے روایتی کاروباروں کو محدود کر دیا ہے اور ایسے کاروبار جو گاہک سے سمارٹ فون کے ذریعے رابطہ استوار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کے لئے کامیابی کے نئے راستے کھلے ہیں۔ آن لائن ٹیکسی سروس اس کی محض ایک مثال ہے۔ اسی ماہ آن لائن ٹیکسی کی ایک کمپنی نے پاکستان میں دوسری کمپنی کو خریدا ہے اور اس کے لئے چار کھرب روپے سے زائد کا سودا طے پایا ہے۔ یہ ایک مثال اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ ٹیکنالوجی نے معیشت اور کاروبار پر کیا اثرات ڈالے ہیں یا ڈال سکتی ہے۔ تعلیم کے روایتی
کلاس روم والے ماڈل بدل گئے ہیں‘ اب آن لائن اور مفت سروسز باآسانی طلبا کی دسترس میں ہیں۔ تعلیمی خدمات کے آن لائن ادارے محض طلبا سے فیس کے ذریعے نہیں کماتے، بلکہ بعض تو طلبا کو مفت تدریس فراہم کرتے ہیں، ان کی کمائی طلبا کی آمد کے سبب اشتہار دہندگان سے آتی ہے۔

صحت بھی ٹیکنالوجی سے اچھے اور برے دونوں حوالوں سے متاثر ہوئی ہے۔ اگر ٹیکنالوجی نے علاج کی نئی اور مؤثر راہیں کھولی ہیں تو دوسری طرف ٹیکنالوجی کے ہمراہ آنے والی آسائشوں نے ہمیں اتنا تن آسان کر دیا ہے کہ ہم نت نئی بیماریوں کا آسان ہدف بن کر رہ گئے ہیں۔ یعنی پرہیز کا پہلو کمپرومائز ہوا ہے اگرچہ اس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماریوں کے جدید اور مؤثر علاج بھی اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے میسر ہوئے ہیں۔ کوئی ذی شعور فرد کبھی علاج کو پرہیز پر ترجیح نہیں دے گا۔ علاج تو مجبوری ہے جب بیماری لاحق ہو جائے، لیکن پرہیز ضروری ہے جب انسان تندرست اور صحت مند ہے۔ اس میں کوتاہی وہاں لا کھڑا کرتی ہے جہاں علاج کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا، جو مہنگا بھی ہوتا ہے، تکلیف دہ بھی اور اس سے معیار زندگی پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔
آج شعبہ امراض قلب اور شعبہ غدود یعنی اینڈوکرائنالوجی میں بالخصوص ماہرین کو جوان اور کم عمر مریض دیکھنے پڑ رہے ہیں جو قبل ازیں ان شعبوں میں اپنے بزرگوں اور والدین کو لے کر آتے تھے۔ طرز زندگی سے جڑی یہ بیماریاں جن میں امراض قلب اور ذیابیطس نمایاں ہیں اور ان کے نتیجے میں گردوں کے عوارض اور فالج جیسی تکالیف بھی ہو سکتی ہیں، اب کم عمر مریضوں میں دیکھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ کاہلی اور تن آسانی سے مرتب طرز زندگی ہے۔ گاڑی یا بائیک سے نقل و حرکت، سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی بدولت اپنی جگہ سے ہلے بغیر دنیا بھر سے رابطے، ریموٹ نامی آلے سے عملاً ہر کام بغیر حرکت کئے کرنے کی “آسانی” اور آن لائن سروسز کی وجہ سے کہیں جانے کی “زحمت” اٹھائے بغیر ہر شے بشمول غذا سامنے لے آنے کے جادو نما معجزوں نے ہم پر جو سحر طاری کیا ہے اس کے زیر اثر ہم اپنی ٹانگوں کو حرکت دینا بھول گئے ہیں۔ جواب میں ان ٹانگوں نے وقت سے بہت پہلے ہمارا بوجھ اٹھانے سے انکار کرنا شروع کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی سے ہم نے طرز زندگی کی یہ تبدیلی تو اختیار کر لی کہ ہلنا جلنا، چلنا پھرنا چھوڑ دیا لیکن اپنے ماں باپ کے زمانے کی مرغن غذائیں اور حلوہ جات کو ایسی ہلکی پھلکی غذا سے تبدیل نہیں کیا جو ہماری محدود جسمانی سرگرمی سے مطابقت رکھتی ہو۔ قبل ازیں ان مرغن غذاؤں کا رواج ایک تو اتنا عام نہیں تھا کہ انہیں افورڈ کرنا اکثر لوگوں کے لئے کافی مشکل تھا اور خوراک عام طور پر سادہ ہی کھائی جاتی تھی۔ دوسری بات یہ کہ اگر کبھی عید تہوار، یا کسی اور تقریب کے موقع پر ایسے مرغن کھانے بنتے بھی تھے تو کھانے والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے کہ ان کی زندگیاں مشقت سے عبارت تھیں۔ اب جسمانی سرگرمی کی عدم موجودگی، وسائل کی فراوانی اور آسائشات کی ریل پیل نے مل کر جوانوں کو وقت سے پہلے بیمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ پرہیز ہی اس چیلنج سے نپٹنے کا واحد حل ہے۔ جو کل نہیں، آج اور ابھی شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of