صدمے سے گزرنے والے افراد میں خوف کے مقابلے میں ذہنی اذیت روزمرہ زندگی کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ یہ بات ییل سکول آف میڈیسن اور یونیورسٹی آف ہائفہ کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ تحقیق میں شریک 68 فیصد افراد نے جرم، شرمندگی، اداسی اور خوشی کی کمی کو سب سے زیادہ تکلیف دہ قرار دیا۔
تحقیق میں پوسٹ ٹرامیٹیک ڈس آرڈر سنڈروم (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پر مبنی دو الگ صورتیں سامنے آئیں۔ ایک صورت میں خوف، فلیش بیکس اور حد سے زیادہ چوکنا پن نمایاں تھا۔ دوسری صورت میں اندرونی ذہنی اذیت، جرم، شرمندگی اور جذباتی بے حسی غالب رہی۔
محققین کے مطابق صدمے کے بعد پیدا ہونے والی ذہنی اذیت ڈپریشن جیسی علامات اور نیند کے مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریض کے اصل جذباتی تجربے کو سمجھنا مؤثر اور ہمدردانہ علاج کے لیے ضروری ہے۔ یہ تحقیق بایولوجیکل سائیکاٹری میں شائع ہوئی ہے۔