9مارچ …گردوں کا عالمی دن گردوں کی بیماری‘ موٹاپے کا کردار

326

    خواتین خانہ روٹی پکانے کے لئے جب آٹا نکالتی ہیں تو اسے گوندھنے سے پہلے چھلنی سے چھان لیتی ہیں تاکہ کنکر وغیرہ کو اس سے الگ کیا جا سکے ۔انسانی جسم میں بھی قدرتی طور پر دو عدد چھلنیاں نصب ہیں جنہیں گردے کہا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی کام جسم کیلئے مفید چیزوںکو جسم میں رہنے دینا جبکہ غیرضروری اور مضرصحت اشیاءکوباہر نکال دینا ہے۔ یہ اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم کام سرانجام دیتے ہیں جن میں جسم کے اندر پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنانمایاں ہے ۔ گردے جب خراب ہونے لگیں تو یہ سب افعال بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔
گردوں کی خرابی کی دو اقسام ہیں۔ان میں سے ایک میں گردے عارضی طور پر خراب ہوتے اور ان کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان باقی رہتاہے جبکہ دوسری صورت میں مریض کو تمام عمر ڈائلیسز پرانحصارکرناپڑتاہے تاوقتیکہ اسے کسی دوسرے صحت مند انسان کا عطیہ کیا گیاگردہ پیوندکاری کے ذریعے نہ لگا دیا جائے۔

گردوں کا عالمی دن
دنیا کی 10فی صد آبادی گردوں کی خرابی سے متاثر ہے اور اس تعداد میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی گئی کہ لوگوں میں امراض گردہ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے۔” انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرالوجی“ اور” انٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاﺅنڈیشنز “نے2006ءمیں مارچ کی دوسری جمعرات کوایک سیمنار منعقد کیا جس کا مقصد لوگوں کو گردوں کی بیماریوں کی وجوہات ، علامات، تشخیص ، علاج اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہ کرنا تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو دنیا بھر میں گردوں کا علمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس سال یہ د ن نو مارچ کو منایا جا رہا ہے۔

موٹاپے کا کردار
گردوں کی بیماریوں کے بہت سے پہلو ہیں جن میںسے کسی ایک کو ”عالمی یوم گردہ “ کے مرکزی موضوع کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ موضوع ”گردوں کی بیماری میں موٹاپے کا کردار“ ہے۔واضح رہے کہ موٹاپے کے باعث ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو گردوں کی خرابی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
دنیا بھرمیں تقریباً600ملین سے زیادہ لوگ موٹاپے کا شکارہیں جن میں سے میں 200ملین تعداد سکول جانے والے بچوں پر مشتمل ہے۔ مو ٹاپے سے متاثرہ افراد میں عام آدمی کی نسبت گردوں کی خرابی کی شرح 83 فی صد ہے۔مردوں میں موٹاپے کی وجہ سے گردوں کی خرابی کی شرح 13.8فی صد جبکہ خواتین میں 24.9فی صد ہے۔

کچھ لوگ موروثی طور پر بھی موٹے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر صورتوں میں اس کا تعلق طرز زندگی کے ساتھ ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں رہن سہن میں کافی تبدیلی آگئی ہے۔ یہاں کے لوگ پہلے گھرکے کھانوں کو زیادہ پسند کرتے تھے مگر اب فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کا رخ بڑے شوق سے کیاجاتاہے۔کچھ عرصہ پہلے تک لوگ گراونڈ میں جا کر کھیلنے کو ترجیح دیتے تھے مگر اب موبائل فون اور کمپیوٹر پر گیمز نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔دفتروں میں کام کی زیادتی ، نیند کی کمی ، ذہنی دباﺅ، ورزش سے دوری ، فاسٹ فوڈ ، سافٹ ڈرنکس اور میٹھی اشیاءکازیادہ استعمال انسانی صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ موٹاپے میں اضافے کا سبب بھی بنتا جا رہاہے۔

موٹاپے کا تعلق صرف زیادہ کھانے سے نہیں بلکہ کھانے کی قسم سے بھی ہے ۔مثلاً جو لوگ زیادہ میٹھی اور چکنائی والی اشیاءاستعمال کرتے ہیں اور اس کے بعد واک یا ورزش نہیں کرتے‘ ان میں موٹاپے کا امکان زیادہ ہوتاہے۔ اس کے برعکس صحت بخش اور متوازن غذا کے استعمال سے موٹاپے سے بچا جا سکتاہے۔کچھ لوگ وزن کم کرنے کے لئے خالی پیٹ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ وقت پر کھانا نہ کھانے کی وجہ سے بھوک کی شدت بڑھ جاتی ہے لہٰذا یہ لوگ جب کھانے پر بیٹھتے ہیں تو معمول سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اس لئے وقت پر کھانا کھانے کی عادت ڈالیں اوررات کا کھا نا کھانے کے فوراًبعد سونے سے گریز کریں۔ جو لوگ پہلے سے موٹاپے کا شکار ہیں‘ وہ غذائی ماہرین سے مل کر ایسا ڈائٹ پلان حاصل کریں جو قابل عمل ہو۔

احتیاطی تدابیر
مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے گردوں کی خرابی کے امکانات کو کم کیاجا سکتا ہے:
٭ شوگر اوربلڈ پریشرکے مریضوں میں گردوں کی خرابی کا امکان بڑھ جاتا ہے لہٰذا اپنا بلڈپریشر اور شوگرلیول باقاعدگی سے چیک کریں۔
٭پانی زیادہ سے زیادہ پئیں ۔خصوصاً گرم موسم میں” او آر ایس“استعمال کریں تاکہ خون میں نمکیات کا توازن برقرار رہے۔
٭فاسٹ فوڈ کا استعمال بہت ہی کم کر دیں۔
٭پیشاب میں انفیکشن کی صورت میں ڈاکٹر سے لازماًرجوع کریں۔
٭درد کُش اور جراثیم کُش ادویات کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر نہ کریں۔
٭موٹاپا گردوں سمیت بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے۔اسے کم کرنے کے لئے متوازن غذا اورورزش کو اپنامعمول بنائیں۔
٭تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔
٭سال میں ایک یا دو بار گردوں کی کارکردگی جاننے کے لئے خون اور پیشاب کا ٹیسٹ ضرور کرائیں۔


 خرابی کی علامات
گردے خراب ہونے کی علامات درج ذیل ہیں:
مختلف اعضاءپر سوجن:
گردے خراب ہونے کی وجہ سے جسم میں پانی اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر سوجن نمودار ہو جاتی ہے ۔ پانی کی یہ زیادتی پھیپھڑوں میں بھی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔
سرخ خلیوں کی کمی
گردوں کی خرابی کی وجہ سے ایسے ہارمونز کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جو سرخ خلیے بناتے ہیں۔ اس طرح ہمارے جسم میں سرخ خلیوں کی تعداد گھٹنے لگتی ہے جس سے فرد کو انیمیا ہو سکتاہے۔ سرخ خلیوں میں کمی کی وجہ سے مریض کو کمزوری ، تھکاوٹ ، سانس لینے میں دشواری اور سردی لگنے جیسے مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔ سرخ خلیوں کی کمی قابل علاج بیماری ہے۔
نیم بے ہوشی طاری ہونا
خون کی کمی کی وجہ سے دماغ کو آکسیجن کم ملتی ہے جس کے سبب مریض کو سونے میں دقت ، نیم بے ہو شی اور چکر آنے جیسی شکایات ہو سکتی ہیں ۔ بعض صورتوں میں مریض کو مرگی کے دورے بھی پڑ تے ہیں اور وہ کوما میں بھی جاسکتاہے۔
پیشاب کے معمولات میں تبدیلی
گردوں کی خرابی کے باعث پیشاب کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے۔ پیشاب میں خون آنا ،اس میں زیادہ جھاگ بننا ، معمول سے بہت زیادہ یا کافی کم پیشاب آنا اور دورانِ پیشاب تکلیف محسوس ہونا اس کی مثالیں ہیں۔
جلد کا خشک ہونا
جسم سے فاسد مادے نکالنے میں گردوں کا کردار بہت اہم ہے ۔جب یہ خراب ہو جائیں تو خون میںفاسد مادوں کی مقدار بڑھناشروع ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے مریض کی جلد خشک ہو کر خارش زدہ ہو جاتی ہے۔
بھوک میں کمی
خون میں موجود فاسد مادوں کی زیادتی کے باعث مریض کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتاہے اور منہ سے بدبو بھی آتی ہے۔ مزید براں بھوک میں کمی ، قے آنا ، متلی اور وزن کم ہونے جیسے مسائل بھی پیدا ہو تے ہیں۔ گردوں کی خرابی کے سبب عصبی رگوں کو نقصان پہنچتا ہے جس سے ٹانگوں میں بے چینی ،کھچاﺅ اور سُوئیاں سی چھبتی محسوس ہوتی ہیں۔