ناک اور اردگرد کے ٹیومرز (Nasal and paranasal tumors) ایسی غیر معمولی خلیاتی نشوونما ہیں جو ناک کی کیوٹی یا سائی نَس میں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ ٹیومرز دو اقسام کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم غیر سرطانی ہوتی ہے، جو آہستہ آہستہ بڑھ کر ناک کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے۔ دوسری قسم کینسر پر مشتمل ہوتی ہے، جسے مہلک ٹیومرز کہا جاتا ہے۔ یہ قریبی صحت مند ٹشوز کو متاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ جسم کے دیگر حصوں تک پھیل سکتی ہے۔
علامات
ناک اور اردگرد کے ٹیومرز کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ شدت اختیار کر سکتی ہیں:
٭ ناک سے سانس لینے میں دشواری
٭ بار بار یا مسلسل سر درد
٭ سونگھنے کی حس میں کمی یا مکمل ختم ہونا
٭ ناک سے خون آنا
٭ ناک سے رطوبت کا مسلسل اخراج
٭ چہرے میں درد یا سوجن
٭ آنکھوں سے پانی بہنا
٭ منہ کی اوپری سطح پر زخم
٭ نظر دھندلا ہونا یا متاثر ہونا
٭ گردن میں گلٹی کا بننا
٭ منہ کھولنے میں دشواری
وجوہات
یہ ٹیومرز اس وقت بنتے ہیں جب ناک یا اردگرد کے سائنَس کے خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ڈی این اے خلیوں کو بڑھنے، تقسیم ہونے اور ختم ہونے کی ہدایات دیتا ہے۔
صحتمند حالت میں یہ عمل متوازن رہتا ہے، لیکن تبدیلی کی صورت میں خلیے بے قابو ہو کر تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں اور ختم نہیں ہوتے۔ اس سے غیر ضروری خلیوں کی تعداد بڑھ کر ٹیومر بن جاتی ہے۔
کچھ صورتوں میں یہ تبدیلیاں خلیوں کو کینسر میں بدل دیتی ہیں، جو قریبی بافتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ خلیے جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل سکتے ہیں، جسے میٹاسٹیٹک کینسر کہا جاتا ہے۔
خطرے کے عوامل
ناک اور اردگرد کے ٹیومرز کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عوامل یہ ہیں:
٭ تمباکو نوشی، بشمول سگریٹ، سگار اور پائپ
٭ فضائی آلودگی کے ماحول میں مسلسل رہنا
٭ کام کی جگہ پر نقصان دہ کیمیکلز اور گرد و غبار کا سامنا
٭ ایچ پی وی (HPV) انفیکشن، جو بعض حالات میں خلیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ناک، چہرے یا سانس سے متعلق علامات مسلسل برقرار رہیں یا بڑھ جائیں تو فوری طبی معائنہ کروائیں
تشخیص
تشخیص کے لیے درج ذیل طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:
٭ ناک کی اینڈوسکوپی، جس میں باریک نلکی اور کیمرے کے ذریعے ناک کے اندر معائنہ کیا جاتا ہے
٭ بائیوپسی، جس میں مشتبہ جگہ سے ٹشو لے کر خلیوں کی نوعیت کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ امیجنگ ٹیسٹ، جیسے ایکس رے، سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور پی ای ٹی سکین، جو ٹیومر کی جگہ، سائز اور پھیلاؤ واضح کرتے ہیں
مریض کی حالت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں
علاج
زیادہ تر صورتوں میں بنیادی علاج سرجری ہے، جس کا مقصد ٹیومر کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوتا ہے۔ علاج کا انتخاب ٹیومر کی نوعیت، سائز اور پھیلاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔
سرجری
سرجری کے ذریعے ٹیومر تک رسائی حاصل کر کے اسے مکمل طور پر ہٹایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اردگرد کے متاثرہ ٹشوز بھی نکالے جاتے ہیں تاکہ بیماری دوبارہ نہ ہو۔
سرجری کے دو عام طریقے ہیں:
٭ ناک یا منہ میں کٹ لگا کر متاثرہ حصے تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور ٹیومر نکالا جاتا ہے
٭ اینڈوسکوپی کے ذریعے ناک کے اندر سے باریک آلات داخل کر کے ٹیومر ہٹایا جاتا ہے
چونکہ یہ ٹیومرز دماغ، آنکھوں اور اعصاب جیسے حساس حصوں کے قریب ہوتے ہیں، اس لیے سرجری انتہائی احتیاط سے کی جاتی ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو
کینسر کے اضافی علاج
اگر ٹیومر کینسر پر مشتمل ہو تو اضافی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے:
٭ ریڈی ایشن تھیراپی، جس میں توانائی کی شعاعیں کینسر زدہ خلیوں کو تباہ کرتی ہیں
٭ کیموتھیراپی، جس میں ادویات کے ذریعے کینسر خلیوں کو ختم کیا جاتا ہے
٭ امیونوتھیراپی، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر کینسر خلیوں کو شناخت اور ختم کرنے میں مدد دیتی ہے
یہ علاج سرجری کے بعد یا بعض صورتوں میں ساتھ ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر جب بیماری پھیل چکی ہو۔
بچاؤ کی تدابیر
خطرے کو کم کرنے کے لیے احتیاطی اقدامات اہم ہیں:
٭ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کریں
٭ آلودہ یا کیمیکل والی جگہوں پر حفاظتی ماسک کا استعمال کریں
٭ کام کی جگہ پر حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں
٭ ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔