متعدی امراض اورویکسین ‘ خوردبینی دور میں

355

     بو علی سینا نے 1020ءمیں اس رائے کااظہار کیا کہ تپ دق(ٹی بی)اور کچھ دیگر بیماریاں جراثیم کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔17ویں صدی میں جب خوردبین ایجاد ہوئی تواس کی مدد سے لیون ہک(Leeuwenhoek)نامی ایک ایسے شخص نے پہلی دفعہ جراثیم کا مشاہدہ کیاجو نہ توڈاکٹر تھا اور نہ ہی کوئی سائنسدان۔19ویں صدی کے وسط میںایک فرانسیسی سائنسدان لوئی پاسچر (Louis Pasteur) نے بتایا کہ شراب اور دودھ کے خراب ہونے کا سبب چھوٹے چھوٹے جراثیم ہیں ۔ اس نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا اور بالآخر جراثیم کا نظریہ (germ theory) پیش کیا۔ اُس نے ابتدامیں جو ویکسینز بنائیں‘ان میں باﺅلے کتے کے کاٹے سے ہونے والی بیماری(Rabies)کی ویکسین بھی شامل تھیجس کے لئے اس نے باﺅلے کتے کے بھیجے کو فارملین میں ڈالنے کا طریقہ اختیار کیا ۔فارملین ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جس میں جراثیم زندہ نہیں رہ پاتے۔ لوئی پاسچر کو دستیاب خوردبین اگرچہ ابتدائی خوردبین کے مقابلے میں زیادہ طاقتور تھی لیکن آج کی جدید خوردبینوں کے مقابلے میں پھر بھی خاصی کمزور تھی لہٰذا اسے یہ علم نہ ہو سکا کہ بیکٹیریا سے بھی کئی گنا چھوٹے جراثیم پائے جاتے ہیں جنہیں عام خوردبین کی مدد سے نہیں دیکھاجاسکتا۔1898ءمیںایسے جراثیم دریافت ہوئے جو ان فلٹروں کے مساموں میں سے گزرسکتے تھے جنہیں بیکٹیریا پار نہیں کرسکتے تھے۔ان نو دریافت شدہ جراثیم کو ”وائرس“ کانام دیاگیا۔

بیکٹیریا جب سانس کے ذریعے پھیپھڑوں ‘منہ کے ذریعے آنتوں اور زخم کی وجہ سے جسم کے اندرداخل ہوتے ہیں تو خون کے سفید ذرے جراثیم کو پہچان کر ان کے ساتھ لڑائی شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ کچھ خاص خلئے (Macrophages)بناتے ہیں جو ان جراثیم کوکھا جاتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزیدسفید خلئے بھی ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں جس سے خون میں ان کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ نارمل حالات میں ان کی تعداد 8000کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ انفیکشنزمثلاً گلے کی خرابی (Tonsillitis) یا اپنڈی سائٹس(Appendicitis) وغیرہ میں 30ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے ۔ جس طرح جنگوں میں دونوں طرف کے بہت سے سپاہی لقمہ اجل بنتے ہیں‘ اسی طرح جسم کے اندر جراثیم کے ساتھ لڑائی میں بھی طرفین کاجانی نقصان ہوتا ہے۔ اگرفرد کی قوت مدافعت مضبوط ہو تو جراثیم مرض کا باعث بننے سے پہلے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی وباﺅں کے دوران بھی بہت سے لوگ ان سے محفوظ رہتے ہیں۔ دوسری طرف اگرجراثیم سفید خلیوں پر غلبہ پا لیں تو فرد کو کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔

جراثیم کے خلاف ’ شہید ‘ دفاعی خلئے پیپ کی صورت اختیارکرلیتے ہیںجسے پھوڑے کو چیر کر‘ زرد بلغم کی شکل میں یاپاخانے کے راستے جسم سے خارج کیا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جسم کا دفاعی نظام مداخلت کار جراثیم کی قسم کو نہ صرف یادرکھتا ہے بلکہ مستقبل میں ان سے بچاﺅ کے لئے مخصوص کیمیائی اجزاءبھی پیداکرتا ہے جنہیں اینٹی باڈیز کہاجاتا ہے۔بیکٹیریا نہ صرف خلیوں کی بیرونی سطح پر حملہ آورہوتے ہیں بلکہ مخصوص زہریلامواد( toxins) بھی پیدا کرتے ہیں جو بسااوقات خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے پیداکردہ بعض زہریلے مادے تو سانپ کے زہر سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ اس لئے جراثیم کے خلاف ویکسین کی تیاری میں اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ وہ ان کی سطح اور زہر‘ دونوں کے خلاف موثر ہو۔

اپنی نسل کو آگے بڑھانا جاندار اشیاءکی ایک اہم پہچان ہے۔ان کی تعداد میں پشت درپشت اضافہ نیوکلیئک ایسڈ(nucleic acid)کی وجہ سے ہوتا ہے جس کا ایک اہم جزو ”ڈی این اے“ ہے جوایک سانچے کاکام کرتا ہے ۔بے جان چیزوں میں نیوکلیئک ایسڈ نہیں ہوتا لہٰذا وہ تعداد میں نہیں بڑھ سکتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وائرس میں نیوکلیئک ایسڈ نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی نسل آگے بڑھالیتاہے۔ اس مقصد کیلئے وہ زندہ خلیوں کا استعمال کرتا ہے۔ جسم میں داخل ہونے کے بعد وہ میزبان جسم کے زندہ خلئے میں پہنچ کر اس کے مرکزے (nucleus)میں شامل ہوجاتا ہے۔ یوں وہ خلیہ اس وائرس کا مطیع ہو کر اسی کی طرح کے کروڑوں وائرس پیدا کرتا ہے ‘ چاہے ایسا کرتے ہوئے اس کی اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔چونکہ یہ وائرس اپنی نشوونما صرف زندہ انسانی یا حیوانی خلیوں میں کرتے ہیں لہٰذا ان پر تجربات اور تحقیقات کے لئے زندہ خلیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ خلئے لیبارٹری میںپنیری کی طرح اُگائے (culture) یا انڈوں (جن میں چُوزے کے زندہ خلئے پائے جاتے ہیں)میں پروان چڑھائے جا سکتے ہیں۔ انفلوئنزاءکی ویکسین اُن لوگوںکو نہیں دی جاتی جنہیں مرغی کے انڈوں سے الرجی ہو‘ اس لئے کہ ان ٹیکوں کی تیاری میں وائرس کو انڈوں میں کلچر کیاجاتا ہے۔

پولیو بھی ایک وائرس سے پھیلتا ہوتاہے جس نے 1950کی دہائی میں مغربی ممالک ‘ خصوصاً امریکہ کے لوگوں کو بہت خوفزدہ کیا۔اسی عرصے میں ڈاکٹرسالک (Salk)نے پولیو وائرس پر تجربوں کے لئے خلیوں کی پنیری (cell cultures)کا استعمال کیا ۔ ان کی بنائی ہوئی ویکسین میں مرے ہوئے وائرس استعمال ہوتے تھے جنہیں بذریعہ انجکشن دیاجاتا تھا۔1962ءمیں ڈاکٹر سیبن(Sabin) نے پولیو وائرس کو کمزور بنا کر قطروں کی صورت میں دینے کا طریقہ ایجاد کیاجسے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔یہ ویکسین بہت کامیاب رہی ہے جس کی بدولت دنیا کے بڑے حصے سے اس مرض کا خاتمہ ہو گیا۔ دنیا بھر میں صرف چار ممالک ایسے رہ گئے ہیں جہاں اب بھی پولیو موجود ہے۔ ان بدقسمت ممالک میں بھارت‘پاکستان‘افغانستان ا ور نائجیریا شامل ہیں۔بھارت میں یہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا ہدف یہ ہے کہ اگلے چند برسوں میں چیچک کی طرح پولیو کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ۔

ویکسین اگرچہ 19ویں صدی میں ایجاد ہوئی تاہم اگلی صدی میں اس شعبے میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ۔ امراض کے خلاف سب سے زیادہ ویکسین بنانے کا سہرا ڈاکٹر ماﺅرس ہلمن(Maurice Hilleman)کے سر ہے جنہوں نے 32اقسام کی ویکسین تیار کیں۔ یوں کہاجاسکتا ہے کہ ڈاکٹرہلمن بہت سے انسانوں جانیں بچانے کا سبب بنے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کوضروری حفاظتی ٹیکے بروقت لگواتے رہیں۔بعض لوگوں کے تصورات کے برعکس یہ نہ تو مذہب کے خلاف ہیں‘ نہ کسی کی سازش ہیں اور نہ ہی نقصان دہ ہیں۔

والدین کا فرض ہے کہ ان سے غفلت نہ برتیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو صحت مند انہ انداز میں پروان چڑھتا دیکھ سکیں۔