Vinkmag ad

پاکستان میں کینسر کے شکار بچوں میں زندہ رہنے کی شرح صرف 30 فیصد، ماہرین

A magnifying glass highlighting the word “cancer,” symbolizing early detection and awareness of childhood cancer

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، تاہم 30 فیصد ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ دیر سے تشخیص، محدود سہولیات اور مالی مسائل اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کراچی کے زیرِاہتمام ایک سیشن میں کیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر میں سالانہ چار لاکھ بچے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد کیسز کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نعیم جبار کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی و آنکولوجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے شکار بچوں میں کم شرح بقا  کی وجوہات میں علامات کی دیر سے تشخیص نمایاں ہے۔ ماہرین کی کمی، ناکافی سہولیات اور علاج ادھورا چھوڑنے کے واقعات بھی اہم مسئلہ ہیں۔ بچوں میں لیوکیمیا، لمفوما، دماغی اور ہڈیوں کے ٹیومر زیادہ عام ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے نپٹنے میں آگاہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور میڈیا سے اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

Vinkmag ad

Read Previous

ذیابیطس کے مریض طبی نگرانی میں روزے رکھ سکتے ہیں، ماہرین

Read Next

سرخ گوشت کا زیادہ استعمال، ذیابیطس کا خطرہ زیادہ، تحقیق

Leave a Reply

Most Popular