Vinkmag ad

کولہے کی سرجری

A patient undergoing hip replacement surgery in operation room

کولہے کی سرجری  (Hip replacement) ایک میڈیکل پروسیجر ہے جس میں کولہے کے خراب یا متاثرہ جوڑ کو نکال کر اس کی جگہ مصنوعی جوڑ نصب کیا جاتا ہے۔ اس مصنوعی جوڑ کو پروستھیسس کہا جاتا ہے جو دھات، سیرامک اور سخت پلاسٹک سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس سرجری کا بنیادی مقصد درد میں کمی، اور کولہے کی حرکت اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

وہ طبی حالات جو کولہے کے جوڑ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سرجری کی ضرورت پیدا کر سکتے ہیں درج ذیل ہیں:

٭ اوسٹیو آرتھرائٹس جو کارٹلیج کو بتدریج خراب کرتا ہے اور جوڑ کی حرکت متاثر کرتا ہے

٭ روماٹائیڈ آرتھرائٹس مدافعتی نظام کی خرابی سے پیدا ہونے والی سوزش ہے جو جوڑ اور اردگرد کی ہڈی کو نقصان پہنچا سکتی ہے

٭ اوسٹیونیکروسس جس میں خون کی فراہمی متاثر ہونے سے ہڈی کمزور ہو کر اپنی شکل کھو دیتی ہے اور جوڑ خراب ہو جاتا ہے

کولہے کی سرجری اس وقت تجویز کی جا سکتی ہے جب:

٭ درد ادویات سے کم نہ ہو

٭ چلنے پھرنے سے درد میں اضافہ ہو

٭ نیند متاثر ہو

٭ سیڑھیاں چڑھنا یا اترنا مشکل ہو

٭ بیٹھنے سے کھڑے ہونا دشوار ہو

خطرات

کولہے کی سرجری کے ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:

٭ خون کے لوتھڑے جو ٹانگوں کی رگوں میں بن سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں

٭ انفیکشن جو زخم یا گہرے ٹشوز کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض اوقات دوبارہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ فریکچر جو سرجری کے دوران ہڈی میں پیدا ہو سکتا ہے اور اضافی فکسنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ ڈس لوکیشن جس میں مصنوعی جوڑ اپنی جگہ سے نکل سکتا ہے خاص طور پر ابتدائی مہینوں میں

٭ ٹانگ کی لمبائی میں فرق جو پٹھوں کی کھچاؤ یا سرجری کے اثر سے ہو سکتا ہے

٭ جوڑ کا ڈھیلا ہونا جو وقت کے ساتھ درد اور عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے

٭ اعصابی نقصان جو سن ہونے، کمزوری یا درد کا باعث بن سکتا ہے

دوسری سرجری کی ضرورت

مصنوعی جوڑ وقت کے ساتھ گھس سکتا ہے خاص طور پر نوجوان اور زیادہ فعال افراد میں۔ ایسی صورت میں دوبارہ کولہے کی سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ جدید میٹریل کی بدولت امپلانٹس اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیرپا ہو گئے ہیں۔

تیاری

سرجری سے پہلے آرتھوپیڈک سرجن مکمل طبی معائنہ کرتا ہے جس میں میڈیکل ہسٹری، ادویات، جوڑ کی حرکت اور پٹھوں کی طاقت کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں جبکہ ایم آر آئی شاذ و نادر ہی ضروری ہوتا ہے۔ اس دوران مریض کو ادویات کے استعمال یا بندش کے بارے میں ہدایت دی جاتی ہے اور تمباکو نوشی ترک کرنے کی سختی سے تاکید کی جاتی ہے کیونکہ یہ شفا یابی میں رکاوٹ بنتی ہے۔

پروسیجر

سرجری کے دوران مریض کو سپائنل بلاک یا جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے اور یہ عمل تقریباً دو گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔ سرجن کولہے پر کٹ لگاتا ہے، خراب ہڈی اور کارٹلیج کو ہٹاتا ہے، پیلوک بون میں مصنوعی ساکٹ لگاتا ہے اور ران کی ہڈی میں دھاتی اسٹیم کے ساتھ مصنوعی گیند نصب کرتا ہے۔

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد مریض کو ریکوری ایریا میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں بلڈ پریشر، درد اور حالت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ مریض کو سانس کی ورزشیں کروائی جاتی ہیں تاکہ پھیپھڑوں میں پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ زیادہ تر مریض اسی دن یا اگلے دن گھر جا سکتے ہیں۔

خون کے لوتھڑے سے بچاؤ

سرجری کے بعد ابتدائی دنوں میں خون کے لوتھڑوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں:

٭ جلد حرکت اور چلنے کی ترغیب دی جاتی ہے

٭ کمپریشن سٹاکنگ یا ایئر سلیوز استعمال کیے جاتے ہیں جو خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں

٭ خون پتلا کرنے والی ادویات تجویز کی جا سکتی ہیں

فزیوتھیراپی

فزیوتھراپی کولہے کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں حرکت اور پٹھوں کی طاقت بڑھانے کی ورزشیں شامل ہوتی ہیں اور مریض آہستہ آہستہ بغیر مدد کے چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

گھر میں بحالی

ہسپتال سے ڈسچارج کے بعد گھر میں مناسب انتظام ضروری ہوتا ہے تاکہ بحالی آسان ہو:

٭ کھانے پینے کی اور دیگر ضروری اشیاء پہلے سے تیار رکھیں

٭ استعمال کی چیزیں آسان پہنچ میں رکھیں تاکہ جھکنا نہ پڑے

٭ اونچی ٹوائلٹ سیٹ اور شاور چیئر استعمال کریں

٭ ادویات اور ضروری سامان قریب رکھیں

نتائج

زیادہ تر مریض تین ماہ کے اندر واضح بہتری محسوس کرتے ہیں جبکہ مکمل بحالی میں ایک سال تک لگ سکتا ہے۔ یہ سرجری درد کم کرتی ہے اور کولہے کی حرکت بہتر بناتی ہے تاہم زیادہ اثر والی سرگرمیوں سے پرہیز کرنا بہتر ہوتا ہے۔ تیراکی، سائیکلنگ اور گالف جیسی کم دباؤ والی سرگرمیاں بعد میں دوبارہ ممکن ہو جاتی ہیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

جنرل اینستھیزیا

Leave a Reply

Most Popular