ماہرین کے مطابق روزانہ زیادہ سرخ گوشت کھانے والے افراد میں ذیابیطس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ تحقیق میں 34,737 بالغ امریکیوں کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے (NHANES 2003–2016) کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
سٹڈی کے مطابق اس کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں ذیابیطس کے امکانات 49 فیصد زیادہ تھے۔ پراسیس شدہ سرخ گوشت (ساسیج، ہاٹ ڈاگ، لانچن میٹ) کھانے والوں میں خطرہ 47 فیصد زیادہ پایا گیا۔ غیر پراسیس شدہ سرخ گوشت (بیف، بھیڑ وغیرہ) کھانے والوں میں اس کے امکانات 24 فیصد زیادہ تھے۔ اس کی روزانہ ایک اضافی سرونگ ذیابیطس کے امکانات میں 16 فیصد اضافہ کا سبب بنی۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی روزانہ ایک سرونگ کی جگہ پودوں پر مبنی پروٹین استعمال کرنے سے ذیابیطس کے خطرات 14 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سرخ گوشت کی جگہ مرغی، دودھ یا ہول گرین لینے پر خطرہ 11 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ گوشت ذیابیطس کے لیے ایک اہم قابلِ تبدیلی عنصر ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ تحقیق کلینیکل نہیں بلکہ مشاہداتی نوعیت کی ہے۔