طویل العمری اور اچھی صحت کا راز

2

طویل العمری اور اچھی صحت کا راز

اپنے بچوں کے علاوہ چار پوتے پوتیوں اورچھےپڑپوتے پوتیوں سمیت اس خاتون کا سارا خاندان جمع تھا۔ چار نسلوں پر مشتمل اس خاندان کے یکجا ہونے کا سبب ایک خصوصی تقریب تھی۔ یہ انہیں (خاتون کو) برطانیہ کا سب سے بزرگ شہری کا اعزاز ملنے پرمنعقد ہورہی تھی۔ ان کی عمر 112برس تھی اور تین روزقبل  انہیں یہ اعزاز  حاصل ہوا جب ان سے عمر میں دوسال بڑے فرد کوموت نے آ لیا۔

اس عمرمیں لوگ عموماًپوری طرح ہوش وحواس میں نہیں رہتے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو بھی اکثرلوگوں کی یادداشت اورذہنی صلاحیتیں بڑی حد تک متاثر ہوچکی ہوتی ہیں۔ تاہم ان خاتون کامعاملہ بالکل مختلف تھا۔ بزرگ ترین قرار پانے کی خبر پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس پر حیرت ہوئی ہے۔ میراخیال نہیں تھا کہ میں ملک بھرمیں بزرگ ترین ہوں۔ میں تو بس، اپنے علاقے کی حدتک ہی خود کو سب سے بڑا سمجھتی تھی۔

 اس خاتون کی چار بہنیں اور ایک بھائی تھا اور وہ چھے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ اس وقت ان کے سب بہن بھائی دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔  38 سال قبل جب ان کے میاں فوت ہوئے تو وہ اپنے بیٹے کے گھر کے قریب منتقل ہوگئیں جس کی اپنی عمر بھی اس وقت 84برس ہے۔

اپنی طویل العمری اورصحت کا راز بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کومصروف رکھا۔ میری ترجیح یہی رہی کہ فارغ رہنے کی بجائے کچھ نہ کچھ کرتی رہوں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ عمرکے اس حصے میں بھی خود کو اسی طرح محسوس کرتی ہوں جیسی 70 سال کی عمرمیں تھی۔ زیادہ عمر نے میرے لیے مسائل پیدانہیں کیے۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو فقط یہی ہے کہ میں اب پہلے کی طرح اپنے آپ کومصروف نہیں رکھ سکتی۔

ان کے بقول مصروفیت آپ کو جوان رکھتی ہے۔اس کے لئے میں نے وہی کچھ کیا جو مجھے پسند تھا میں نے ہمیشہ اپنی حدود کوذہن میں رکھا۔ گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اہم نکتہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ’میں نے ہمیشہ دوسرں کی مدد کی، جس قدربھی کر سکتی تھی۔

طویل عمراور اچھی صحت کے تناظر میں خاتون نے جو راز بتائے‘ وہ یقیناً اہم ہیں. لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ ان پر عمل کرتے ہیں. تاہم ان میں سے کم ہی اس قدر طویل عمرپاتے اور ذہنی طور پر اتنے صحت مند رہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی مصروفیات کا کسی بڑے مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
زندگی گزارنے کے لیے اختیار کئے جانے والے طرزعمل اور روئیے کا انحصار انسان کے اپنے فیصلے پر ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ہر لمحے انسان کچھ نہ کچھ کررہاہوتا ہے۔ لیکن لوگوں کی اچھی خاصی تعداد کے لیے یہ ’کچھ نہ کچھ‘ ایک معمول کی سرگرمی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

بہت سوں کے لیے تو یہ مصروفیت مجبوری پر مبنی ہوتی ہے ۔جس کا مقصد محض روزمرہ کی جبلی ضروریات کی تکمیل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں مشغولیت نہ تو کسی  اطمینان ، سکون اور مسرت کاباعث بنتی ہے اور نہ اس سےکوئی بڑا مقصد حاصل  ہوتاہے۔

زندگی کی بے اطمینانی‘ بے کیفی اور محرومیوں کو دورکرنے کے لیے بعض لوگ بری عادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ ان کے لئے زیادہ مسائل پیدا کر کے مزید بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ یوں وہ ایک تباہ کن شیطانی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو آج معاشرے کاایک قابل ذکر حصہ اسی چکر میں مبتلاہے۔ نفسیاتی علاج اور میدانِ طب میں ہونے والی ہوشربا ترقی کے باوجود آج کی بظاہر ہنستی کھیلتی دنیا میں اُداسی، احساس محرومی، تنائو اوردیگر اعصابی امراض کی بڑھتی ہوئی شرح اس کی واضح علامات ہیں۔

انسان زندگی کے لیے کوئی بڑا مقصد متعین کرلے اور اپنی مصروفیات کو اس کی روشنی میں ترتیب دے لے تو اس کی محض جسمانی ہی نہیں، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کی تکمیل کا راستہ بھی کھل جاتا ہے۔ ایسے میں کامیابیاں تو اس کے لیے مسرت کاسامان ہوتی ہی ہیں، کسی وقتی ناکامی کے باوجود مقصد سے وابستگی اسے زندگی میں متحرک رکھتی ہے۔ یہ تحرک آنے والے دنوں میں اس کے لئے مزید کامیابیوں کی راہ ہموار کرتاہے۔

old age, good health, secret, healthy lifestyle

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x