ماہرین کے مطابق دوران حمل ذیابیطس بچوں میں مرگی کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ یہ بات ایک کینیڈین تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ اس سٹڈی میں 2002 سے 2018 کے دوران اونٹاریو میں پیدا ہونے والے 2.1 ملین بچوں کے ہیلتھ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 7.6 فیصد بچوں کی ماؤں کو ٹائپ 1، ٹائپ 2 یا دوران حمل ذیابیطس لاحق تھی۔
نتائج کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس کی حامل ماؤں کے بچوں میں مرگی کا خطرہ سب سے زیادہ پایا گیا۔ اس کے بعد ٹائپ 1 ذیابیطس کا نمبر آیا۔ دوران حمل ذیابیطس کی صورت میں خطرہ نسبتاً کم مگر قابلِ ذکر تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ حمل کی بعض پیچیدگیوں سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ ان میں قبل از وقت پیدائش، پری ایکلیمپسیا، پیدائشی نقائص اور سیزیرین ڈیلیوری شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران ذیابیطس پر مؤثر کنٹرول بچوں کی دماغی صحت کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ تاہم تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر بیندیٹ ڈیروئیل کے مطابق اس پر مزید تحقیق ضروری ہے۔