جنرل اینستھیزیا (General anesthesia) مختلف ادویات کے امتزاج سے نیند جیسی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ ادویات (اینستھیٹکس) سرجری یا دیگر طبی پروسیجرز سے پہلے اور دوران دی جاتی ہیں۔ اس میں عموماً رگ کے ذریعے دی جانے والی ادویات اور سانس کے ذریعے لی جانے والی گیسیں شامل ہوتی ہیں۔
اس حالت میں آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سو رہے ہوں، جبکہ جنرل اینستھیزیا کے دوران درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ دماغ درد کے سگنلز وصول نہیں کرتا۔
اینستھیزیولوجسٹ وہ ڈاکٹر ہوتا ہے جو اینستھیزیا میں مہارت رکھتا ہے۔ اکثر ہسپتالوں میں اینستھیزیولوجسٹ اور رجسٹرڈ نرس اینستھیٹسٹ مل کر کام کرتے ہیں۔ اینستھیزیا کے دوران یہ ٹیم مسلسل نگرانی کرتی ہے، جس میں جسم کے اہم افعال، سانس اور درد کا مؤثر کنٹرول شامل ہوتا ہے۔
یہ کیوں کیا جاتا ہے
اینستھیزیولوجسٹ اور سرجن مل کر آپ کے لیے موزوں اینستھیزیا کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ سرجری کی نوعیت، مجموعی صحت اور آپ کی ترجیحات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
کچھ صورتوں میں جنرل اینستھیزیا تجویز کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب پروسیجر:
٭ زیادہ وقت لے
٭ پٹھوں کو ڈھیلا کرنے والی ادویات درکار ہوں
٭ زیادہ خون بہنے کا امکان ہو
٭ سانس، بلڈ پریشر یا دل کی دھڑکن پر اثر انداز ہو
دیگر اقسام کے اینستھیزیا بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی والا اینستھیزیا کمر کے نیچے کی سرجری کے لیے دیا جاتا ہے، جیسے سیزیرین یا کولہے کی تبدیلی۔
لوکل اینستھیزیا جسم کے مخصوص حصے، جیسے ہاتھ یا پاؤں، کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ چھوٹے پروسیجرز کے لیے موزوں ہوتا ہے اور عموماً پیچیدہ سرجری میں استعمال نہیں ہوتا۔
خطرات
جنرل اینستھیزیا عموماً محفوظ ہوتا ہے اور زیادہ تر افراد کو اس سے کوئی پیچیدگی پیش نہیں آتی، حتیٰ کہ سنگین بیماری کے مریض بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ تر سرجری کی نوعیت اور مریض کی مجموعی صحت سے وابستہ ہوتا ہے۔
بزرگ افراد یا سنگین طبی مسائل کے شکار مریضوں میں سرجری کے بعد الجھن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں نمونیا، سٹروک یا دل کے دورے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بڑی سرجریز میں۔
خطرات میں اضافہ کرنے والے عوامل:
٭ سگریٹ نوشی
٭ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری (سلیپ اپنیا)
٭ موٹاپا
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ ذیابیطس
٭ سٹروک
٭ دورے پڑنا
٭ دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر کی بیماریاں
٭ خون بہنے بڑھانے والی ادویات
٭ زیادہ الکحل یا منشیات کا استعمال
٭ ادویات سے الرجی
٭ اینستھیزیا سے ماضی میں منفی ردِعمل
اینستھیزیا کے دوران ہوش آنا
جب صرف سکون آور دوا دی جاتی ہے تو مریض مکمل بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ جزوی طور پر باخبر رہ سکتا ہے، جو ایک عام بات ہے۔
جنرل اینستھیزیا میں دورانِ پروسیجر ہوش آ جانا نہایت نایاب ہے۔ اندازاً ہر 1000 میں سے 1 یا 2 افراد اس کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ درد محسوس ہونا اس سے بھی کم ہوتا ہے، مگر ممکن ہے۔
یہ صورتحال عموماً ہنگامی سرجری یا غیر متوقع حالات میں پیش آتی ہے۔ اس کا تجربہ ذہنی دباؤ یا بے چینی کا باعث بن سکتا ہے، اور بعض افراد میں طویل مدتی نفسیاتی اثرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
تیاری کیسے کریں
سرجری سے پہلے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا مفید ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمی بڑھائیں، متوازن غذا استعمال کریں، مناسب نیند لیں اور تمباکو نوشی ترک کریں۔ بہتر صحت سرجری کے بعد بحالی کو تیز کرتی ہے۔
اپنے ڈاکٹر کو تمام ادویات کے بارے میں آگاہ کریں، چاہے وہ نسخے والی ہوں یا بغیر نسخے کے دستیاب ہوں۔ وٹامنز اور سپلیمنٹس کو بھی شامل کریں۔
کچھ ادویات جاری رکھی جا سکتی ہیں، جبکہ بعض کو سرجری سے پہلے روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر واضح ہدایات فراہم کرتا ہے۔
کھانے اور پینے سے متعلق ہدایات بھی دی جاتی ہیں تاکہ معدہ خالی رہے۔ اینستھیزیا ہاضمے کے عضلات کو ڈھیلا کرتا ہے، جس سے خوراک یا تیزاب پھیپھڑوں میں جا سکتا ہے۔
حفاظت کے لیے ان ہدایات پر عمل ضروری ہے، ورنہ سرجری مؤخر یا منسوخ ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کو سلیپ اپنیا ہے تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔ اینستھیزیا ٹیم پروسیجر کے دوران اور بعد میں آپ کی سانس کی خاص نگرانی کرے گی۔ اگر آپ کوئی مشین استعمال کرتے ہیں تو اسے ساتھ لائیں۔
کیا توقع رکھیں
پروسیجر سے پہلے
اینستھیزیا سے قبل ڈاکٹر آپ سے چند اہم سوالات کرے گا:
٭ آپ کی طبی تاریخ
٭ استعمال ہونے والی ادویات اور سپلیمنٹس
٭ ادویات سے الرجی
٭ ماضی میں اینستھیزیا کا تجربہ
٭ آخری بار کھانے یا پینے کا وقت
یہ معلومات محفوظ اور مؤثر اینستھیزیا کے انتخاب میں مدد دیتی ہیں۔
پروسیجر کے دوران
اینستھیزیا عموماً بازو کی رگ کے ذریعے دیا جاتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں ماسک کے ذریعے گیس دی جاتی ہے۔ بچے عموماً ماسک کے ذریعے سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔
نیند آنے کے بعد سانس برقرار رکھنے کے لیے ایک نرم پلاسٹک نلکی ڈالی جا سکتی ہے، جو آکسیجن فراہم کرتی ہے اور پھیپھڑوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ پروسیجر مکمل ہونے پر یہ نلکی نکال دی جاتی ہے۔
اینستھیزیا ٹیم مسلسل نگرانی کرتی ہے اور ادویات، سانس، درجہ حرارت، سیال مادے اور بلڈ پریشر کو ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو فوری طور پر ادویات یا سیال مادوں سے حل کیا جاتا ہے، جبکہ شاذ و نادر ہی خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔
پروسیجر کے بعد
سرجری مکمل ہونے پر اینستھیزیا بند کر دیا جاتا ہے اور آپ آہستہ آہستہ ہوش میں آتے ہیں۔ یہ عمل آپریشن روم یا ریکوری روم میں ہوتا ہے۔ ابتدا میں غنودگی یا ہلکی الجھن محسوس ہونا معمول کی بات ہے۔
ممکنہ اثرات:
٭ نیند آنا
٭ متلی یا قے
٭ منہ خشک ہونا
٭ گلے میں خراش
٭ آواز میں ہلکی تبدیلی
٭ کپکپی
٭ خارش
٭ دھندلا نظر آنا
٭ چکر آنا
٭ پٹھوں میں درد
ہوش میں آنے کے بعد درد بھی محسوس ہو سکتا ہے۔ اینستھیزیا ٹیم آپ کی کیفیت کا جائزہ لیتی ہے اور ضرورت کے مطابق درد اور متلی کم کرنے کے لیے ادویات فراہم کرتی ہے۔ یہ اثرات مریض کی حالت اور سرجری کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔