Vinkmag ad

معدے اور آنتوں سے خون آنا

A male patient in a hospital bed, looking concerned about his GI bleeding

معدے اور آنتوں سے خون آنا (Gastrointestinal bleeding) نظامِ ہضم کی کسی اہم خرابی کی واضح علامت ہے۔ یہ خون پاخانے یا الٹی میں نظر آ سکتا ہے، مگر بعض اوقات چھپا بھی رہتا ہے۔ پاخانہ سیاہ یا تارکول جیسا ہو سکتا ہے۔ خون بہنے کی شدت ہلکی سے شدید تک ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔

علامات

معدے اور آنتوں سے خون بہنے کی علامات دو طرح کی ہوتی ہیں۔ واضح اور غیر واضح علامات کا تعلق خون بہنے کی رفتار اور مقام سے ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ منہ سے لے کر مقعد تک کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔

واضح علامات

واضح علامات میں شامل ہیں:

٭ خون کی الٹی، جو سرخ یا گہرے بھورے رنگ کی ہو سکتی ہے اور کافی کے ذرات جیسی لگتی ہے

٭ سیاہ، تارکول جیسا پاخانہ

٭ مقعد سے خون آنا، عموماً پاخانے کے ساتھ

غیر واضح علامات

غیر واضح علامات میں شامل ہیں:

٭ چکر آنا

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ بے ہوشی

٭ سینے میں درد

٭ پیٹ میں درد

شاک کی علامات

اگر خون اچانک اور تیزی سے بہنا شروع ہو جائے تو مریض شاک میں جا سکتا ہے۔ یہ ایک ہنگامی حالت ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ شدید کمزوری یا تھکن

٭ چکر آنا یا بے ہوشی

٭ ٹھنڈی، نم اور پیلی جلد

٭ متلی یا الٹی

٭ پیشاب نہ آنا یا بہت کم آنا

٭ ہونٹوں یا ناخنوں کا نیلا یا سرمئی رنگ

٭ ذہنی حالت یا رویے میں تبدیلی، جیسے بے چینی یا گھبراہٹ

٭ بے ہوشی

٭ تیز نبض

٭ تیز سانس

٭ بلڈ پریشر میں کمی

٭ آنکھوں کی پتلیوں کا پھیل جانا

وجوہات

معدہ اور آنتوں سے خون بہنا نظام انہضام کے اوپری یا نچلے حصے میں ہو سکتا ہے، اور دونوں کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔

اوپری نظامِ ہضم سے خون بہنا

٭ پیپٹک السر، جو معدے یا چھوٹی آنت کے اوپری حصے میں زخم بننے سے ہوتا ہے اور یہ اس کی سب سے عام وجہ ہے

٭ غذائی نالی کی جھلی میں دراڑیں، جو زیادہ الٹی یا شراب نوشی سے پیدا ہوتی ہیں

٭ غذائی نالی کی سوجی ہوئی رگیں، جن کا تعلق عموماً جگر کی شدید بیماری سے ہوتا ہے

٭ پورٹل ہائپرٹینسیو گیسٹرو پیتھی، جو جگر کے امراض سے وابستہ حالت ہے

٭ غذائی نالی کی سوزش، جو اکثر تیزابیت کے باعث ہوتی ہے

٭ خون کی غیر معمولی نالیاں، جو اچانک خون بہنے کا سبب بن سکتی ہیں

٭ ہائٹل ہرنیا، جس میں معدے کی جھلی متاثر ہو کر خون بہ سکتا ہے

٭ رسولیاں، جو کینسر یا غیر کینسر ہو سکتی ہیں

نچلے نظامِ ہضم سے خون بہنا

٭ ڈائیورٹیکولر بیماری، جس میں آنتوں میں چھوٹے ابھار بنتے ہیں اور سوزش کی صورت میں مسئلہ بڑھ جاتا ہے

٭ سوزش والی آنتوں کی بیماریاں، جیسے السرٹیو کولائٹس اور کرون بیماری

٭ پروکٹائٹس، یعنی مقعد کی اندرونی جھلی کی سوزش

٭ رسولیاں، جو غذائی نالی، معدے، بڑی آنت یا مقعد میں ہو سکتی ہیں

٭ کولون پولپس، جو خلیوں کے چھوٹے گچھے ہوتے ہیں اور بعض اوقات کینسر میں بدل سکتے ہیں

٭ بواسیر، یعنی مقعد کی سوجی ہوئی رگیں

٭ مقعد میں دراڑ، جو نرم بافت میں چھوٹا زخم ہوتا ہے

پیچیدگیاں

٭ خون کی کمی (انیمیا)

٭ شاک

٭ موت

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر شاک کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔ اگر خون کی الٹی ہو، پاخانے میں خون نظر آئے یا پاخانہ سیاہ ہو جائے تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

تشخیص

ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کی میڈیکل ہسٹری لیتا ہے اور طبی معائنہ کرتا ہے۔ اس کے بعد مختلف ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں تاکہ خون بہنے کی وجہ معلوم ہو سکے۔

٭ خون کے ٹیسٹ، جن میں خون کی مکمل جانچ، جمنے کی رفتار، پلیٹ لیٹس اور جگر کے ٹیسٹ شامل ہیں

٭ پاخانے کا ٹیسٹ، جو چھپے ہوئے خون کی نشاندہی کرتا ہے

٭ ناسوگیسٹرک لیویج، جس میں ناک کے ذریعے نالی ڈال کر معدے کا مواد نکالا جاتا ہے

٭ اپر اینڈوسکوپی، جس سے اوپری نظامِ ہضم کا براہ راست معائنہ کیا جاتا ہے

٭ کولونوسکوپی، جس میں بڑی آنت اور مقعد کو دیکھا جاتا ہے

٭ کیپسول اینڈوسکوپی، جس میں کیمرہ والی کیپسول نگلی جاتی ہے

٭ فلیکسیبل سگموئڈوسکوپی، جو بڑی آنت کے آخری حصے کا جائزہ لیتی ہے

٭ بیلون اسسٹڈ اینٹروسکوپی، جو چھوٹی آنت کے مشکل حصوں تک رسائی دیتی ہے

٭ انجیوگرافی، جس میں خون کی نالیوں کی تفصیلی تصاویر لی جاتی ہیں

٭ دیگر امیجنگ ٹیسٹ، جیسے سی ٹی سکین، جو خون بہنے کے مقام کی نشاندہی کرتے ہیں

شدید صورت میں، جب دیگر ٹیسٹ ناکام ہوں، تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاہم ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

علاج

اکثر صورتوں میں معدہ اور آنتوں سے خون بہنا خود ہی رک جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو علاج خون کے مقام اور شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ کئی کیسز میں دوا یا اینڈوسکوپی کے دوران ہی خون کو روکا جا سکتا ہے۔

٭ السر کی صورت میں اینڈوسکوپی کے ذریعے علاج کیا جا سکتا ہے

٭ پولپس کو کولونوسکوپی کے دوران نکالا جا سکتا ہے

اوپری حصے سے خون بہنے کی صورت میں ایسی دوا دی جاتی ہے جو معدے کے تیزاب کو کم کرتی ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر فیصلہ کرتا ہے کہ دوا جاری رکھنی ہے یا نہیں۔

اگر خون زیادہ ضائع ہو جائے تو رگ کے ذریعے مائع دیا جاتا ہے اور بعض اوقات خون کی منتقلی بھی ضروری ہوتی ہے۔ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے مریضوں کو یہ ادویات روکنی پڑ سکتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر

٭ درد کش ادویات، خاص طور پر NSAIDs کا استعمال محدود رکھیں

٭ شراب نوشی سے اجتناب کریں یا اس کا استعمال کم کریں

٭ تمباکو نوشی ترک کریں

٭ اگر تیزابیت کا مسئلہ ہو تو ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Dumping Syndrome: Rapid Stomach Emptying Explained

Read Next

Gastrointestinal Bleeding

Leave a Reply

Most Popular