جن پرگندم حرام ہے

584

    پچھلے دنوں ہماری ایک عزیزہ سائرہ آپا اپنی فیملی کے ساتھ انگلینڈ سے پاکستان آئیں۔ شادی کی ایک تقریب میں ان کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ کھانے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ان کا بڑا بیٹا نان اور حلیم کھانا چاہ رہا تھا لیکن وہ اسے اس سے منع کر رہی تھیں۔ ان کا رویہ کہیں یا نخرا‘مجھے کچھ عجیب سا لگا ۔میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ چند سال باہر خصوصاً یورپی ممالک میں گزار لیں، انہیں یہاں کی ہر چیز میں نقائص نظر آنے لگتے ہیں۔ میری ساس کی عادت ہے کہ جو کچھ دل میں ہو، کسی کی پراہ کئے بغیر فوراً زبان پر لے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا:

”بچے کو کچھ کھانے کیوں نہیں دیتیں۔کچھ عرصہ باہر کیا گزار لیا‘ اپنے آپ کو بالکل ہی انگریز سمجھنے لگےں۔“سائرہ آپاپہلے توکچھ پریشان ہوئیں‘ پھر کہنے لگیں:
”خالہ جی! میں انگریز نہیں ہوئی اورنہ ہی نخرے کر رہی ہوں۔ بات یہ ہے کہ میرے بیٹے کو ایک بیماری ہے جسے سِیلئک (Celiac) کہتے ہیں۔ اس بیماری کا شکار شخص گندم کا ایک دانہ بھی نہیں کھا سکتا۔ اسے ان تمام چیزوں سے پرہیز کرنا ہوتی ہے جس میں اس کا شائبہ تک ہو۔“

 

میری ساس کا منہ حیرت سے کھلے کاکھلا رہ گیا:
’ارے، یہ کیسی بیماری ہے بھلا؟ ہم نے تو کبھی نہیں سنا اس کے بارے میں۔ میں تو کہتی ہوں کہ یہ سب انگریزوں کے چو نچلے ہیں۔“
میری ایک کزن ڈاکٹر لبنیٰ بٹ لاہور میںامراض معدہ کی ڈاکٹرہیں۔ اتفاق سے وہ پاس ہی بیٹھی تھیں‘ فوراً بولیں:
” خالہ جی، سائرہ آپا ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کو واقعتاً گندم سے بھی الرجی ہوتی ہے۔یہ بیماری ہمارے ملک میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن عام لوگوں کو درکنار‘ بہت سے ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹور والوں کو بھی اس کا علم نہیں۔“

 

گلوٹن کیا ہے
اماں کے ساتھ میں بھی بہت حیران ہوئی۔ مجھے اس کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا لہٰذا میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا۔اس پر وہ بولیں:
”یہ بیماری امراض کی اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جن میں مدافعتی نظام خود اپنے ہی جسم کے خلاف متحرک ہوجاتا ہے۔ انہیں آٹو امیون ڈس آرڈرز (auto immune disorders)کہا جاتاہے۔ گندم کے ایک ذرے کے اس بیماری کے شکارفرد کے جسم میں داخل ہوتے ہی مدافعتی نظام اس کے خلاف ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے۔گندم میں موجود ”گلوٹن “
ہی اس کا سبب بنتی ہے جس سے چھوٹی آنت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔“
”یہ گلوٹن ہے کیا چیز؟“ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
”جب ہم آٹا گوندھتے اور اس کی گوندھی ہوئی شکل (dough ) بناتے ہیں تو اس میں جو چکنا پن یا لیس سی آ جاتی ہے‘ وہ گوند (glue) کی مانند ہوتی ہے ۔اسی کو گلوٹن کہتے ہیں۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’گُلو‘ سے نکلا ہے۔گلوٹن نامی پروٹین گندم (wheat) ‘ جو (barely)‘ رائی (rye)اور جئی (oats)میں پائی جاتی ہے۔

 

 علامات اور نقصانات
ڈاکٹر لبنیٰ نے بتایا کہ یہ مرض بڑھوتری کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ بھوک میں کمی‘ وزن کا کم ہونا‘ قد کا چھوٹا رہ جانا‘ ڈائریا‘جسمانی کمزوری اور موڈ میں اتار چڑھاﺅ بچوں میںاس کی عمومی علامات ہیں۔ بالغوں میں اس کے ساتھ ساتھ پیٹ میں گیس محسوس ہونا‘ مروڑ اٹھنا‘منہ کا السر اور جوڑوں میں درد شامل ہیں۔ اس کی وجہ سے صحت کے طویل المدتی مسائل میں فولاد کی کمی‘ ہڈیوں کی کمزوری‘ ان کا بھربھراپن (Osteoporosis)‘ وٹامنز اور نمکیات کی کمی‘ تھائی رائیڈ کے مسائل اور ذیابیطس ٹائپ ون شامل ہیں۔یہ مرض دنیا بھر میں آبادی کے تقریباً ایک فی صد حصے کو متاثر کر رہا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہر امراض معدہ ڈاکٹر ضیغم عباس کا کہنا ہے کہ اس مرض کی پہچان ذرا مشکل کام ہے‘ اس لئے کہ اس کی علامات کئی دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ بعض اوقات اسے آئی بی ایس (Irritable Bowl Syndrome) کے ساتھ گڈمڈ کر دیا جاتا ہے۔ سیلئک کی درست تشخیص علامتوں کے جائزے‘ خون کے ٹیسٹ اور چھوٹی آنت کے نمونے کی بائیوپسی کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا (گلوٹن استعمال کرنے والے ) افراد کے خون میں اینٹی باڈیز کا لیول بڑھ جاتاہے تاہم ظاہری علامات مختلف افراد میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہیں ۔اگر گھر میں کسی ایک فرد کو یہ مرض ہو تو باقی افراد میں بھی اس کا ٹیسٹ ضروری ہے۔
”کیا یہ مرض قابلِ علاج ہے؟“ میں نے ڈاکٹرسے پوچھا۔ انہوںنے کہا کہ فی الحال اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا لہٰذا اس کا واحد اور موثر حل گلوٹن فری خوراک کھاناہے۔ ان کا کہناتھا:
”اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے‘ اس لئے کہ ہمارے معاشرے میں گندم کے بغیر کھانے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس سے پاک غذا اگرمستقلًا استعمال کی جائے تو مدافعتی نظام ٹھیک ہو جاتا ہے اورمرض کی علامات بھی غائب ہوجاتی ہیں۔“

 گلوٹن سے پرہیز
گندم‘ جو‘ رائی اور جئی کے علاوہ بہت سی زیبائشی اشیاء(cosmetics) میں بھی گلوٹن موجود ہوتی ہے ۔ٹوتھ پیسٹ‘میک اَپ کا سامان‘ ماﺅتھ واش اور ہونٹوں پر لگانے والے بام اس کی مثالیں ہیں۔ اگر انہیں جلد پر لگایا جائے تو نقصان نہیں ہوتا‘ تاہم انہیں نگل لیا جائے تو فرد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تیار(processed )خوراک میں اکثر اوقات گلوٹن موجود ہوتا ہے لہٰذا اس سے اجتناب بھی ضروری ہے۔
اگرکوئی ننھابچہ اس کا شکار ہو تو اس کے سکول کی انتظامیہ کو اس بارے میں ضرور مطلع کریں تاکہ سکول میں کوئی ٹیچر یا بچہ اسے ایسی کوئی چیز نہ دے دے جس میں گلوٹن موجود ہو ۔ بازار سے اشیاءخریدتے وقت چیزو ں کے لیبل کو غور سے پڑھیں اوراس کے لئے صرف گلوٹن فری اشیاءکا ہی انتخاب کریں۔ ایسے مریض خوراک میں دودھ‘ پنیر‘ انڈے‘ دہی‘ مرغی ‘تازہ پھل‘ سبزیاں‘ مچھلی‘ تازہ گوشت ( پروسیسڈ نہیں) چاول‘ مکئی‘ مصالحہ جات‘ ساگودانہ‘کافی‘ چائے‘ گلوٹن فری مشروبات دالیں‘پھلیاں اور بادام استعمال کر سکتے ہیں۔نوڈلز‘ پاستا‘ رولز‘ بسکٹس‘ کیک‘ سموسہ‘ دلیہ‘ ڈبوں میں بند سوپ اور بازار سے خریدی ہوئی کھانے پینے کی اشیاءبغیر تصدیق کے مت لیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ نے بتایا کہ پروسیسنگ کے دوران بعض اوقات بہت سی اشیاءمیں گلوٹن شامل ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک ہی چکی پر گندم اور مکئی کو پیسا جائے تو مکئی میں بھی گلوٹن کے ذرات شامل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا مکئی اور چاول کا آٹا لیتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ انہیں مختلف چکیوں پر پیسا گیا ہو۔برتنوں کا استعمال بھی اتنی ہی احتیاط کا متقاضی ہے۔ اسی طرح ہاتھوں کو گندم والی اشیاءیا گلوٹن والی خوراک کے استعمال کے بعد اچھی طرح دھولیں۔
”گلوٹن“ یا گندم استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بعض اوقات جسم میں کچھ اہم غذائی اجزاءکی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد اگر اس کمی کی تصدیق ہو جائے تو ڈاکٹر کے مشورے سے کچھ فوڈ سپلیمنٹ لازماً لینے چاہئیں ‘ اس لئے کہ بعض وٹامنز کی کمی سے صحت کے مزید مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ تاہم دھیان رہے کہ ملٹی وٹامن بھی گلوٹن فری ہی ہونے چاہئے۔

پی سی ایس ( Pakistan Celiac Society) کے نام سے ایک ادارہ 2009ءسے اس میدان میں مریضوں کو راہنمائی فراہم کر رہاہے۔ادارے کی ویب سائٹ پر اس مرض سے متعلق مفید معلومات موجود ہوتی ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک دن ریڈیو پر اس تنظیم کے بانی ڈاکٹر محسن رشیدکا انٹرویو چل رہا تھا۔ان کا کہناتھا :

”سی لیئک مریضوں کے لئے خوراک کا انتخاب ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے‘ اس لئے کہ پیزا‘ پاستا اور بریڈ میں ہی نہیںبہت سی ادویات اور ملٹی وٹامن سپلیمنٹس میں بھی گلوٹن شامل ہوتی ہے۔“
”یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ “ کے مطابق اگر اس کے مریض اپنی خوراک میں پروبائیوٹِکس (probiotics) یعنی اچھے بیکٹریا والی غذا استعمال کریں تو یہ نہ صرف چھوٹی آنت کو برے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ متاثرہ حصے کے لئے مرہم کا کام بھی کرتی ہے۔ یہ دہی میں پائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح مچھلی کا تیل بھی اس بیماری سے منسلک علامات میں آرام لاتا ہے۔
آج کے بہت سے سنگین امراض اگرچہ ماضی میں بھی موجود تھے لیکن ہمیں ان کا علم نہیں ہوتا تھا۔آج میڈیکل سائنس میں ترقی کی بدولت بہت سی پراسراربیماریوں کو ڈھونڈنکالنا ممکن ہوا ہے۔ اگرچہ آج پرہیزہی ”سیلئک “کا واحد حل ہے، لیکن یہ بھی کیا کم ہے کہ ہمیں اس کا علم ہو گیا ہے اور ہم کچھ چیزوں سے پرہیز کر کے اس کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کل اس کا علاج بھی دریافت ہو جائے۔