Vinkmag ad

کان میں ٹیوب لگانے کا پروسیجر

Ear of a boy being examined by a healthcare professional for ear tube placement

کان میں ٹیوب لگانے (Ear tube placement)کا پروسیجر ان بچوں میں مؤثر ہے جنہیں بار بار کان کے انفیکشن ہوتے ہوں، یا لمبے عرصے تک چلتے ہوں۔ اسے کرانک اوٹائٹس میڈیا کہا جاتا ہے۔ یہ اُن بچوں میں بھی فائدہ مند ہیں جن کے کان میں انفیکشن ختم ہونے کے باوجود پانی برقرار رہتا ہے۔

یہ ٹیوبز درمیانی کان میں ہوا کی آمدورفت کو ممکن بناتی ہیں، اور کان کے پردے کے پیچھے پانی جمع ہونے سے روکتی ہیں۔ سرجری کے دوران انہیں کان کے پردے میں نصب کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ پلاسٹک یا دھات سے تیار کی جاتی ہیں۔

زیادہ تر ٹیوبز چار سے اٹھارہ ماہ کے اندر خود بخود خارج ہو جاتی ہیں۔ پردے میں موجود سوراخ قدرتی طور پر بھر جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں ٹیوبز زیادہ عرصے تک رکھی جاتی ہیں۔ انہیں نکالنے یا سوراخ بند کرنے کیلئے دوبارہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ کیوں کی جاتی ہے؟

کان کی ٹیوب درمیانی کان میں پانی جمع ہونے کے علاج اور اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے لگائی جاتی ہے۔

درمیانی کان

درمیانی کان کان کے پردے کے پیچھے وہ جگہ ہے جس میں تین چھوٹی ہڈیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ آواز کا ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ درمیانی کان میں ایک راستہ یوسٹیشین ٹیوب (eustachian tubes)  سے جڑتا ہے۔ یہ نالی درمیانی کان کو حلق کے پچھلے حصے سے ملاتی ہے۔

یوسٹیشین ٹیوب کے تین اہم کام ہیں:

٭ درمیانی کان میں ہوا کے دباؤ کو برابر رکھنا

٭ کان میں تازہ ہوا پہنچانا

٭ درمیانی کان سے رطوبت خارج کرنا

چھوٹے بچوں کی یوسٹیشین ٹیوب بالغوں کے مقابلے میں زیادہ تنگ اور سیدھی ہوتی ہے۔ اس لیے پانی کا اخراج مشکل ہوتا ہے اور ٹیوب بند ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

درمیانی کان کے مسائل

جن طبی کیفیات میں کان کی ٹیوب لگائی جاتی ہے، ان میں عموماً درج ذیل مسائل شامل ہوتے ہیں:

٭ سوزش

٭ درمیانی کان میں پانی جمع ہونا

یہ ان مسائل میں فائدہ مند ہیں:

درمیانی کان کا انفیکشن

یہ انفیکشن بیکٹیریا یا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے درمیانی کان میں سوزش اور رطوبت جمع ہو جاتی ہے۔ کان کی ٹیوب نئے انفیکشن کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔ چھ ماہ میں تین یا اس سے زیادہ، یا ایک سال میں چار یا اس سے زائد انفیکشن والے بچوں میں یہ طریقہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

بغیر انفیکشن کے پانی جمع ہونا

اس کیفیت میں کان میں پانی موجود ہوتا ہے، مگر انفیکشن نہیں ہوتا۔ یہ عموماً پچھلے انفیکشن یا یوسٹیشین ٹیوب کے مسائل کے باعث ہوتا ہے۔ اس سے سماعت میں کمی، توازن کی خرابی، بولنے میں تاخیر اور تعلیمی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

درمیانی کان کا طویل مدتی انفیکشن

یہ بیکٹیریا سے پیدا ہوتا ہے اور اینٹی بائیوٹک ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کان کی ٹیوب رطوبت نکالنے اور دوا کو براہِ راست درمیانی کان تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔

درمیانی کان میں طویل مدتی سوزش

اس حالت میں کان کے پردے میں سوراخ ہو جاتا ہے اور مسلسل رطوبت بہتی رہتی ہے۔ یہ انفیکشن، بند یوسٹیشین ٹیوب یا کان کی چوٹ کے نتیجے میں ہو سکتا ہے۔ کان کی ٹیوب سرجری کے بعد کان کی صفائی اور علاج میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

خطرات

کان کی ٹیوب لگانے میں سنگین پیچیدگیوں کا امکان کم ہوتا ہے، تاہم ممکنہ خطرات درج ذیل ہیں:

٭ خون بہنا یا انفیکشن

٭ مسلسل رطوبت کا اخراج

٭ خون یا بلغم کے باعث ٹیوب بند ہو جانا

٭ کان کے پردے پر داغ لگنا یا اس کا کمزور ہو جانا

٭ ٹیوب کا وقت سے پہلے نکل جانا یا زیادہ عرصے تک رہنا

٭ ٹیوب نکلنے کے بعد سوراخ کا خود بخود بند نہ ہونا

انستھیزیا

زیادہ تر بچوں میں یہ پروسیجر جنرل انستھیزیا کے تحت، یعنی بے ہوشی میں کیا جاتا ہے۔ صحت مند بچوں میں اس کے خطرات کم ہوتے ہیں، تاہم ممکنہ مسائل درج ذیل ہو سکتے ہیں:

٭ سرجری کے بعد متلی یا قے

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ الرجک ری ایکشن

٭ دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی

پرویسجر کی تیاری

سرجری سے قبل والدین کو چاہیے کہ ڈاکٹر سے بچے کی تیاری کے بارے میں مکمل رہنمائی حاصل کریں۔ اسے بچے کی تمام ادویات، بے ہوشی سے متعلق سابقہ ری ایکشن اور کسی بھی دوا سے الرجی کے بارے میں آگاہ کریں۔

پروسیجر کے مراحل

یہ پروسیجر کان، ناک اور گلے کے ماہر سرجن کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے۔

پہلے

عموماً بچے کو سرجری کے لیے عام بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے۔

 دوران

یہ عمل تقریباً پندرہ منٹ میں مکمل ہوتا ہے۔ سرجن کان کے پردے میں باریک سوراخ کرتا ہے، درمیانی کان سے رطوبت نکالتا ہے اور سوراخ میں ٹیوب نصب کرتا ہے۔ اس دوران دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح کی نگرانی کی جاتی ہے۔

بعد

سرجری کے بعد بچے کو ریکوری روم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی پیچیدگی نہ ہو تو چند گھنٹوں میں گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ بچہ دن کے باقی حصے میں سست یا چڑچڑا پن محسوس کر سکتا ہے۔ زیادہ تر بچے 24 گھنٹوں میں معمول کی سرگرمیوں میں واپس آ جاتے ہیں۔

علاج کے بعد نگہداشت

اگر کوئی مسئلہ نہ ہو تو فالو اپ نگہداشت میں درج ذیل امور شامل ہوتے ہیں:

٭ دو سے چار ہفتوں بعد معائنہ، جس میں ٹیوب کی پوزیشن اور کارکردگی جانچی جاتی ہے

٭ ہر چار سے چھ ماہ بعد باقاعدہ فالو اپ معائنہ

٭ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹک قطرے، جنہیں مکمل مدت تک استعمال کرنا ضروری ہے

٭ ضرورت پڑنے پر قوت سماعت کا ٹیسٹ

٭ عام حالات میں نہانے یا تیرنے کے دوران کان کے پلگ کی ضرورت نہیں ہوتی، جب تک ڈاکٹر ہدایت نہ دے

 ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

درج ذیل صورتوں میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے:

٭ ایک ہفتے سے زیادہ پیلے، بھورے یا خون آلود مادے کا اخراج

٭ مسلسل درد، سماعت یا توازن کے مسائل

نتائج

کان کی ٹیوب سے عموماً درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:

٭ کان کے انفیکشن کے خطرے میں کمی

٭ سماعت میں بہتری

٭ بولنے کی صلاحیت میں بہتری

٭ انفیکشن سے وابستہ رویے اور نیند کے مسائل میں کمی

٭ ٹیوب کی تبدیلی کے باوجود بعض بچوں میں کان کا انفیکشن دوبارہ ہو سکتا ہے

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

سست طرز زندگی ذیابیطس کے مریضوں کیلئے سنگین خطرہ

Leave a Reply

Most Popular