• Home
  • اداریہ
  • صحت مند پاکستان کا خواب -اختراعی سوچ کی ضرورت

صحت مند پاکستان کا خواب -اختراعی سوچ کی ضرورت

96

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مالی سال 2016-17ءکے لئے اپنے اپنے مالی تخمینوں(بجٹ) کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ حکومتیں اپنے اپنے وژن کے مطابق مختلف شعبوںکے لئے ترقیاتی منصوبے تشکیل دیں گی اور فنڈز مختص کریں گی ۔ان میں پاکستانیوں کی صحت کے لئے کچھ زیادہ تو نہیں البتہ کچھ نہ کچھ پیسے ضرور رکھے جائیں گے ۔اگلے مالی سال کے دوران ہماری صحت کے لئے مختص وسائل سے متعلق اعدادوشمار تو ابھی سامنے نہیں آئے لیکن اس سے قبل ہی ہم کم از کم ایک درست اندازہ ضرورلگاسکتے ہیں اور وہ یہ کہ صحت کے لئے مختص رقم سے قطع نظراس شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کے دعوے ضرور کئے جائیں گے۔ توسوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، کیا اسے حاصل کرنے میں واقعتا سنجیدہ بھی ہےں؟
نگہداشت صحت ایک ”مہنگی جنس“ ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ایسی صورت حال کا شکار ہوتا ہے۔ معیاری نگہداشت صحت واقعتاً بہت مہنگی ہے۔ فوری اورمعیاری نگہداشت صحت کے ضرورت مند خاندان اس وقت اپنے آپ کوایک دو راہے پر کھڑا پاتے ہیں جب ایک طرف فیملی ممبر کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا ان کے بس سے باہر ہوجاتا ہے تو دوسری طرف وہ اسے کسی قیمت پر ترک بھی نہیں کر سکتے۔کوئی بھی شخص اپنے کسی عزیز کو بیماری یا موت کے منہ میں جاتا نہیں دیکھ سکتااور اس کے لئے وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کے بس میں ہو ۔اس مرحلے پرعموماً یہ کوششیں ہاتھ پاﺅں مارنے تک محدودہوتی ہیں جن کا نتیجہ حسب خواہش کم ہی نکلتاہے۔ایسی صورتیں ملک کے بڑے ہسپتالوں میں باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔
علاج کے اخراجات برداشت نہ کر پانے ہی کی وجہ سے لوگ امراض کی تشخیص اور علاج کو ملتوی کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ لمحہ آ جاتا ہے جب اس کے بغیر چارہ نہیں رہتااوروہ اس صورت حال میں جا پھنستے ہیں جس کا اوپر ذکر کیاگیا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ قوم کی نگہداشت صحت کی ضروریات کا تخمینہ لگاتے، ان کے مطابق ترقیاتی منصوبے تشکیل دیتے اورپھر ان کے لئے فنڈز مختص کرتے وقت ان پس پردہ وجوہات کو کم ہی درخوراعتناءسمجھا جاتا ہے۔ یہاں وہی سوال دوبارہ ابھرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، کیا اسے حاصل کرنے میں واقعتا سنجیدہ بھی ہےں؟
ہرسال پیش ہونے والے خسارے کے بجٹ کی روشنی میں یہ بات قابل فہم ہے کہ صحت کی مد میں کسی قابل ذکر اضافے کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ حکومتیں ایسا کر سکتی ہیں اور نہ کریں گی۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی متبادل راستہ تلاش نہیں کررہا۔ ہمیں بھی اور حکومتوں کو بھی اچھی طرح علم ہے کہ ہم مطلوبہ تعداد میںبڑے ہسپتال نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن ہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر حکومت اس تفہیم کی بنیاد پر متبادل حکمتِ عملی بنانے میں ناکام کیوں ہے۔
اس ضمن میں بہت ساری ممکنہ کوششوںمیں سے ایک یہ بھی ہے کہ انحطاط پذیر ابتدائی نگہداشت صحت کے ماڈل اور کمیونٹی میڈیسن کی پریکٹس کے نظام کو از سر نوبحال کیا جائے۔ یہ ماڈل علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے مسئلے کا نہ صرف عملی حل ہے بلکہ اس سے بروقت تشخیص اور نتیجتاًسستے علاج کو بھی فروغ ملے گا۔ ہماری رائے میں ابتدائی نگہداشت صحت کا نظام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ کا خاص مرکز ہونا چاہئے۔ اگران مراکز کومناسب طور پر قائم کر لیا جائے تو یہ ایسی چھلنی(فلٹر)کا کام کریں گے جہاں نہ صرف بہت سے امراض کی ابتدائی سطح پر تشخیص اور علاج ہو پائے گا بلکہ اس سے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ اگرحکومتیں چاہیں تو ان کے انتظام و انصرام میں کمیونٹی کو بھی شامل کر سکتی ہیں جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ اس سے کمیونٹی حق ملکیت محسوس کرتی ہے اور ان مراکز کی کارکردگی میں بھی بہتری آتی ہے۔ مگر سوال پھروہی ہے کہ کیا وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اسے حاصل کرنے میں واقعتا سنجیدہ بھی ہےں؟کیا وہ صحت کے معاملے کو اعداد و شمارا ور فنڈز مختص کرنے سے بڑھ کردیکھنے پر بھی تیار ہیں؟ہم امید کرتے ہیں کہ وہ بلاتاخیر ایسا ضرور کریں گے۔