ڈی این اے پروفائلنگ

168

    گزشتہ ماہ زینب قتل کیس ملک بھر میں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا جس کے ملزم عمران کو ”ڈی این اے“ اور دیگر فرانزک ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور انسدادِدہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اسے چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی۔
”ڈی این اے “ ایک اہم ٹیسٹ ہے جس کا حوالہ زےادتی کے واقعات کی قانونی تصدےق کے سلسلے مےں بکثرت دےکھنے اور سننے کوملتا ہے ۔ آج اگر بے زباں نعشوں‘ بچوں کے گمنام ےا پوشےدہ والدےن اور زےادتی کے مرتکب مجرموں کی بذرےعہ طبی سائنس شناخت ممکن ہوئی ہے تو اس کا سہرا جےنےات کے اےک پروفےسر ڈاکٹر اےلک جیفریز (Dr. Alec Jeffreys)کے سر ہے جنہوں نے موروثی بےمارےوں کی تشخےص کےلئے جےنےاتی تحقےق کرتے کرتے اےک اےسی چےز درےافت کر ڈالی جس نے اےک دنےا ہی بدل دی ۔”فنگر پرنٹنگ “کے نام سے انگلےوں کے نشانات کے ذرےعے فرد کی شناخت کا تصور پہلے سے موجود تھا۔ اسی تناظر مےںپروفےسر نے 1984ءمےں اپنی نئی درےافت کو ”جےنےاتی فِنگر پرنٹنگ“ کا نام دےا۔اس کے دےگر ناموںمےں ”ڈی اےن اے فنگر پرنٹنگ“،” ڈی اےن اے ٹائپنگ“ اور” ڈی اےن اے پروفائلنگ “شامل ہےں ۔ سائنسدان کا ابتدائی خےال ےہ تھا تحقےق مےں مثبت پےش رفت موروثی بےمارےوں کی تشخےص مےں معاون ثابت ہو گی لےکن جرائم اور مجرموں کی تشخےص مےں اس کے کردار نے تودنےا کو حےران کردےا۔

سائنس بتاتی ہے کہ ہمارا جسم بےشمار چھوٹے چھوٹے خلےوں پر مشتمل ہے اورچند مستثنےات کے علاوہ تقرےباًہر خلےے مےں ڈی اےن اے (deoxyribonucleic acid) کا اےک مکمل نمونہ ہوتا ہے۔”ڈی اےن اے“ اےک لمبی لےکن تنگ سےڑھی کی مانند چیز ہے۔ ےہ نمونہ اپنے اندر آنکھوں کے رنگ‘ بالوں کی ہیئت اورجسمانی قد کاٹھ سمےت بہت سے خصائص کی بنےادےں سموئے ہوتا ہے۔ےہ خصوصےات نہ صرف اےک فرد کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہےں بلکہ اےک نسل سے دوسری میں منتقل بھی ہوجاتی ہےں۔انہےں پےشہ ورانہ زبان مےں جِےن(genes) کا نام دےا جاتا ہے۔”ڈی اےن اے“ کے اندر جےنز کا اےک جہان آباد ہے جن مےں سے کچھ تواتنی منفرد ہوتی ہےںکہ کروڑوں افراد مےں بھی پہچانی جاتی ہےں۔ ےوں اگر وہ جےن کسی دوسرے شخص کے ڈی اےن اے کے نمونے سے مل جائے تو اس فردکے ساتھ اس کے تعلق کی نوعےت کا اندازہ لگاےا جا سکتا ہے۔ےہ نمونے بالعموم خون‘ لعاب دہن‘ بال اورمادہ منوےہ سے لئے جاتے ہےں۔ جرائم کی تشخےص مےںحاصل کردہ ڈی اےن اے کے نمونے کا موازنہ چونکہ دےگر نمونوں سے کرنا ہوتا ہے‘ اس لئے ان کی افادےت کا انحصاران کے ڈےٹا بےس کی وسعت پرہوتا ہے۔

پروفےسر اےلک 1977ءمےں(27 سال کی عمر مےں )جب ےونےورسٹی کی اےک چھوٹی سی لےبارٹری کے انچارج تھے تو انہیں کام کا آزادانہ ماحول مےسر تھا۔ان کی دسترس جےنز کے مطالعے کے لئے درکار ٹےکنالوجی تک ہوئی تو انہوں نے بلڈگروپ وغےرہ پر تحقےق چھوڑ کر جےنز کے وراثتی تغےرات پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ےہ بالکل ابتدائی نوعےت کا کام تھا لےکن اس سے انہیں ےہ معلوم ہو گےا کہ جےنزہوتی کس طرح کی ہےں؟ وہ اس نتےجے پر پہنچے کہ ممالےا جانوروں کی جےنز بےکٹےرےا کی طرح سادہ نہےں بلکہ غےر معمولی طور پر پےچےدہ ہوتی ہےں۔ انہوں نے ان مےںموجود بہت سی خالی جگہوں کا مشاہدہ کےا جن مےںجےنےاتی معلومات محفوظ تھےں۔اےمسٹرڈےم ےونےورسٹی مےںڈاکٹرےٹ کے بعد رےسرچ فےلو کے طور پران کے کام کا ابتدائی منصوبہ خمےر پر کام تھا۔اس کے بعد وہ ڈِک فلےول(Dick flavell) سے ملے اور ممالےاجانوروںکی جےنز پر کام شروع کےا۔ اسی دوران انہیں اپنے اےک تکنےکی معاون مےںپہلے وراثتی ڈی اےن اے تغےر کا سراغ ملا۔اس کے بعد انہوں نے بےمارےوں کی تشخےص کےلئے جےنز کا خاکہ تےار کرنا شروع کےا۔15 ستمبر بروز سوموار1984کی صبح نو بجے ان کے لئے زندگی کا ےادگارلمحہ تھا جب انہوں نے دنےا کا پہلا جےنےاتی فنگر پرنٹ پا لےا۔سائنس کی تارےخ مےں اےسے لمحات شاذونادر ہی ملتے ہےں۔پروفےسر کو بھی اچانک خلاف توقع ڈی اےن اے کے متغےرنقوش مل رہے تھے جن مےںان کے تکنےکی معاون ‘ اس کی والدہ اور والد کے علاوہ دےگرغےر انسانی نمونے بھی شامل تھے ۔وہ جان گئے کہ جےنےاتی فنگر پرنٹنگ کی منزل ان کے سامنے ہے۔

نئی درےافت کاپہلا تجرباتی ٹےسٹ امےگرےشن کے اےک کےس پر اور دوسرا اےک بچے کی ولدےت ثابت کرنے کیلئے ہوا۔ ےہ معمولی نوعےت کے کےس تھے لےکن1983ءمےںاےک جرم مےں اس ٹےسٹ کی شہادت نے سائنسدان اور اس کی درےافت کو چار سو مشہور کر دےا۔ برطانےہ مےں لیسےسٹر(Leicester) کے نزدےک اےک گاﺅں مےں لِنڈامان نامی لڑکی زےادتی کے بعد قتل ہو گئی۔واقعہ اےک معمہ تھا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا کھوج لگانے مےںناکام ہو گئے۔ تےن سال بعدجب اےک اور لڑکی ڈان اےش ورتھ بھی ٹھےک انہی حالات مےں قتل ہوئی تو علاقے مےں شدےد خوف و ہراس پھےل گےا۔دونوںواقعات مےں مشابہت سے پولےس اس نتےجے پر پہنچی کہ دونوں قتل اےک ہی شخص نے کئے ہےں۔بالآخر اےک شخص اس شبہے مےں گرفتار ہوااور پوچھ گچھ کے نتےجے مےں اس نے تسلےم کر لےا کہ لِنڈا کا قتل اسی نے کےا ہے ‘تاہم دوسرے قتل سے وہ اب بھی انکاری تھا۔ پولےس کوےقےن تھا کہ اےش ورتھ کاقاتل بھی وہی ہے ۔ثبوت کے لئے انہوںنے پروفےسر اےلک جےفری سے رابطہ کےا ۔ پولےس کی توقع کے بالکل برعکس دونوں واقعات مےںاس کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہ ملا۔مقتولےن سے حاصل کردہ نمونوں سے مطابقت رکھنے والے نمونے حاصل کرنے کےلئے آبادی کے تمام مردوں کے نمونے اکٹھے کر کے ان کا تجزےہ کےا گےا لےکن مجرم کا سراغ نہ ملا۔اسی دوران معلوم ہو اکہ کولن پچ فورک نامی اےک شخص نے رشوت کے ذرےعے اپنا نمونہ تبدےل کرالےا تھا۔اس کے نمونے کی جب اصل نمونو ںسے مطابقت دےکھی گئی تو ثابت ہو گےا کہ دونوںقتل اسی نے کئے تھے۔ ےوں نہ صرف اصل مجرم پکڑاگےا بلکہ اےک بے گناہ شخص کی جان بھی بچ گئی۔ ےہ پہلا جرم تھا جس کا فےصلہ ڈی اےن اے ٹےسٹ کے ذرےعے ہوا۔ ےوں طب ‘ سائنس اور جرائم کی دنےا اس نئی درےافت کی بدولت نئے تصورات سے متعارف ہوئی۔