خون کی گردش کے متوازی ۔۔۔لمفی نظام

404

خون‘ اس کی گردش کے نظام اوراس کے فوائد سے اکثر لوگ باخبر ہےں لیکن جسم میں اس کے متوازی ایک اور نظام بھی ہے جس سے لوگوں کی اکثریت لاعلم ہوتی ہے ۔ یہ لمفی نظام ہے جو ہمارے جسم میں بہت سے اہم کام انجام دیتا ہے ۔ریٹائرڈ سرجن ڈاکٹرعبدالرحمٰن صاحبزادہ کی ایک معلومات افزاءتحریر

ہمارے جسم میں خون کی رگوں کا ایک جال سا بچھا ہوا ہے ۔ وہ جوں جوں دل سے دور ہوتی اور دیگر اعضاءاور خلیوں کی طرف بڑھتی ہیں‘ توں توں تنگ اور درخت کی شاخوں کی مانند چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک مقام پر وہ اتنی باریک ہوجاتی ہیں کہ خون کے سرخ خلئے بھی ان میں سے قطار بنا کر ہی گزر سکتے ہیں۔ بال جیسی باریک ان نالیوں کو کےپلریز(capillaries) کہا جاتا ہے جن کی دیواروں میں چھوٹے چھوٹے مسام ہوتے ہیں۔ خون میںسرخ خلئے ‘پلازمہ(جس کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتاہے) اور غذائی اجزائ‘ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ سرخ خلئے کیپلریز میں رہ جاتے ہیں جبکہ باقی ماندہ چیزوں پر مشتمل سیال مادہ ان کے مساموں سے رِس کر باہر آجاتا ہے اور مختلف اعضاءاور خلیوں تک غذائیت پہنچاتا ہے۔

واپسی کے سفر میں خون اپنے ساتھ ٹوٹے پھوٹے اور پرانے خلیوں‘ خلیوں کی توڑ پھوڑکی وجہ سے پیداشدہ مادوں‘ جراثیم‘ بیرونی اشیاءاور زہریلے مادوں کو اکٹھا کر کے لوٹتا ہے۔ اس کا تقریباً90 فی صد مادہ مفید ہوتا ہے لہٰذا اسے خون میں دوبارہ شامل کر دیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ 10فی صد حصہ (جس کا مجموعی حجم اڑھائی سے تین لٹر ہے اور وہ 24گھنٹوں میں بنتا ہے)بذریعہ لمفی نظام جسم کے مختلف حصوں سے اکٹھا کر کے مختلف مقامات پر فلٹر کیا جاتا ہے۔ ان کے مضرصحت اجزاءکو مختلف انداز میں جسم سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
لمفی نظام‘ تین کردار
لمفی نظام کے تین اہم کام مندرجہ ذیل ہیں:

پانی اور عام عناصر کا اخراج
اس کا پہلا کام پانی اوراس میں حل شدہ معلق عناصر کو جمع کر کے وہاں سے ہٹانا ہے۔ اس مقصد کے لئے قدرت نے چھوٹی چھوٹی لمفی نالیاںبنائی ہیں جن کا وہ سرا بند ہوتا ہے جہاں سے یہ شروع ہوتی ہیں۔ ان نالیوں میں جگہ جگہ والوز ہوتے ہیں جو لمف (lymph)کو ایک ہی سمت میں آگے بڑھاتے ہےں۔ جس طرح ندیاں اور نالے مل کر دریا بناتے ہیں‘ اسی طرح ان باریک نالیوں کا قطر بھی بتدریج بڑا ہوتاجاتاہے۔ ان کی دیواریں بھی موٹی ہوتی جاتی ہیں جن میں ایک کی بجائے تین تہیں بن جاتی ہیں۔ان میں عضلات بھی شامل ہیں۔

نقصان دہ خلیوں سے نجات
لمف جسم کے کونے کونے سے اکٹھا کر کے لایا جاتا ہے۔ اگر وہ سرطان زدہ حصوں سے لایا گیا ہو تو اس میں کینسرزدہ خلیے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔یوں لمفی نالیوں کا ایک اہم کردار جراثیم یاکینسرزدہ خلیوں سے نجات دلانا بھی ہے۔
لمف کی جانچ پڑتال کے لئے گردن‘ بغلوں‘ جانگوں (groins) ‘ پیٹ‘ سینے اور انتڑویوں میں لمف نوڈز (غدود) موجود ہوتے ہیں ۔منہ اور ناک ہمارے جسم کی سرحد کے وہ حصے ہےں جہاں ہر وقت جراثیم منڈلاتے رہتے ہیں اورموقع ملتے ہی ہمیں نزلہ‘ زکام اورکھانسی‘ حتیٰ کہ نمونیا کا شکار کردیتے ہیں۔ قدرت نے گلے اور چھاتی (پھیپھڑوں) کی حفاظت کے لئے منہ اور ناک کے پچھلے حصے میں ٹانسلز اور ایڈینائیڈز(adenoids) بنائے ہیں جو ان سے نبردآزما رہتے ہیں۔ جب ٹانسلزجراثیم کے خلاف غیرموثر ہوجائیں توانہیں آپریشن کر کے وہاں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔انتڑیوں میں بھی جگہ جگہ لمفی مادہ ہوتا جسے اس کے موجد کے نام پر پیئرز پیچز(Peyer’s patches)کہا جاتا ہے۔ اپینڈکس (appendix) بھی لمفی ٹشوز سے لدا ہوا ہے اورجب یہ اپنا کام نہیں کرپاتا تو فرد کو اپینڈی سائٹس) (appendicitis ہو جاتاہے ۔

جراثیم کا خاتمہ
جراثیم کو مارنے کیلئے لمفی نظام میں خون کے سفید ذرے ہوتے ہیں۔ اگر جراثیم کی تعداد بڑھ جائے تو دفاعی نظام نئے سفید خلیے بناتا ہے جو ٹوٹے پھوٹے خلیوں کے ملبے کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم میں اینٹی باڈیز بننے لگتی ہےں جو قوت مدافعت کو بڑھاتی ہیں۔ سفیدخلئے صرف لمفی نالیوں میں نہیں بلکہ ہڈیوں کے گودے میں بھی بنتے ہیں۔
لمفی نظام‘ دو اہم ارکان
لمفی نظام کے دو اہم ارکان تھائمس غدود (Thymus gland) اور تلی(Spleen) ہیں۔

تھائمس غدود
سینے کی گہرائی میں اوپر والے حصے میں واقع یہ غدود دو حصوں (lobes) میں تقسیم ہوتا ہے۔ نومولود بچے میں یہ اس کے جسم کے لحاظ سے خاصا بڑا ہوتا ہے۔ عمر میں اضافے کے ساتھ یہ بڑھتا نہیں بلکہ سکڑتا جاتا ہے اور سن بلوغت تک پہنچتے پہنچتے خاصا سکڑ چکا ہوتا ہے۔
اس گلینڈ میں خاص سفید خونی ذرے بنتے ہیں جنہیںٹی لمفوسائٹس) (t-lymphocytes‘ ٹی تھائمز (t-thymes)یا ٹی سیلز کہا جاتا ہے جو بیرونی چیز یا جراثیم کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ وہی خلئے ہیں جو پیوند شدہ اعضاءمثلاً گردے اوردل وغیرہ کو مسترد کر کے ناکارہ کرنے میںاہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی اس ”نادانی“ سے بچنے کے لئے بعض دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جن کے طفیل پیوندکاریاں کامیاب ہو رہی ہیں۔
تھائمس‘ ان سفید ذروں کو نہ صرف بناتا اور پختہ کرتا ہے بلکہ ایک ہارمون تھائموسن (Thymosin) بھی خارج کرتا ہے جس سے ان لمفوسائٹس کو بھی تقویت ملتی ہے جو اس سے باہر ہوتے ہیں۔

تلی(Spleen)
تلی پیٹ کے بائیں اوپر والے حصے میں معدے کے قریب ہوتی ہے۔ اس کے اندر دو قسم کا گوداہوتاہے جسے سفید اور سرخ گودا کہا جاتا ہے‘ تاہم سفید گودا خون سے پوری طرح سے رنگا ہونے کی وجہ سے سفید دکھائی نہیںدیتا۔
تلی میں بھی لمفوسائیٹس بنتے ہیں۔ مزیدبراں یہ جسم کے بوسیدہ سرخ خلیوں کو بھی ہٹا دیتی ہے‘ اس لئے کہ سرخ خلیوں کی کل عمر تقریباً چار ماہ ہوتی ہے جس کے بعد ان کی جگہ نئے خلئے بنتے ہیں۔ خون میں داخل ہونے والے جراثیم اور بیرونی مواد بھی تلی میں چھن جاتا ہے لہٰذا یہ مدافعتی نظام کا بھی اہم رکن ہے۔

علاوہ ازیں تلی میں فالتو خون بھی جمع ہوتا ہے تاکہ اسے بوقت ضرورت کام میں لایا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ خون کے ایک چھوٹے سے ذخیرے کا کام بھی دیتی ہے۔ اگر کسی حادثے میں خون ضائع ہو جائے تو یہ سکڑ کر فالتو خون رگوں میں ڈال دیتی ہے جس سے حادثے کی وجہ سے ہونے والی کمی کسی حد تک پوری ہو جاتی ہے۔
یہ عضو مفید تو ضرور ہے لیکن کسی وجہ سے اسے ہٹانا پڑ جائے تو بھی کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا‘ البتہ جس شخص کی تلی ہٹا دی گئی ہو‘ اس کے متعدی امراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسے افراد کو چاہئے کہ نمونیا کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔

چھاتی کا سرطان
بدقسمتی سے جسم میں کینسر کے خلاف بظاہر کوئی نظام مدافعت موجود نہیں۔ جسم میں موجود کچھ نامعلوم عناصر بہت سے سرطانوں کو کئی برس تک قابو سے باہر نہیں ہونے دیتے لیکن بالآخر وہ ناکام ہوجاتے ہیں اور سرطان سراٹھا کر مریض کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتا ہے ۔ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی شرح زیادہ ہے ۔یہ رسولی چھاتی میں پیدا ہوتی ہے جسے اکثر خواتین نظر انداز کردیتی ہیں۔ وہاں سے یہ بغل کے لمف نوڈز میں ایک گلٹی کی صورت نمودار ہوتی ہے۔ لمف نوڈ کینسر زدہ تمام خلیوں کو تسلی بخش طور پر فلٹر نہیں کر پاتاجس کی وجہ سے وہ قابو سے باہر ہو جاتے ہےں۔ کینسر کے خطرناک خلئے (جو پودوں کے بیج کی طرح ہر جگہ اگ سکتے ہیں) نہ صرف اپنی جگہ پر بڑھتے رہتے ہیں بلکہ خون میں شامل ہو کرپورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ رسولی سامنے آتے ہی اس کا علاج ( خواہ وہ سرجری ہو یاریڈی ایشن)کروائیں تاکہ کینسر کو قابو سے باہر ہونے کا موقع ہی نہ ملے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Blood

    اگر انسانی جسم کو ایک گاڑی تصور کر لیا جائے تو خون ا

Three-year-old Ahmad, child of a poor family hailing from Rahim Yar Khan, was in constant pain. He h

    انسانی جسم کو اگر گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو اس میں خو