زندگی سے مایوسی نہیں

139

     کائنات کایہ مستقل اصول ہے کہ ہر چیزضعف اور بالآخر اختتام کی طرف بڑھتی ہے۔ انسانی جسم بھی اسی اصول کے تحت توڑ پھوڑ اور تبدیلیوں کا شکار ہوتا ہے۔ انسانی جسم میں تبدیلیوں کا سلسلہ پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔خواتین میں یہ عمل نسبتاً زیادہ واضح ہوتا ہے۔ بلوغت کے بعد ان کی طبعی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا وہ جب خواتین تولیدی صلاحیت کی حامل ہوتی ہےں یعنی بچے پیدا کر سکتی ہےں اور دوسرا وہ جب وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں رہتیں۔

بلوغت کی عمر میں داخل ہونے کے بعد لڑکیوں کے جسم میں ہارمون کچھ اس طرح سے پیدا ہوتے ہیں کہ ان کے ماہانہ ایام کا نظام باقاعدہ رہے۔ ان کی بیضہ دانی(ovary)میں ہر ماہ مخصوص تعداد میں انڈے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر وہ سپرم سے ملنے کے بعد پختہ (mature) ہوجائیں تو عورت ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے۔اس دوران ہارمون اس ترتیب میں آجاتے ہیںکہ بچے کی نشوونما سے لے کر اس کے دودھ پلانے کا مرحلہ بحسن و خوبی طے ہوجائے۔جب ان کے رحم میں انڈے ختم ہوجاتے ہیں تو جسم کو اشارہ ملتا ہے کہ اب ہارمون کا کھیل بھی ختم ہوا جسے تکنیکی زبان میں سن یاس Menopause)) کہا جاتا ہے۔

وجوہات اور علامات
خواتین کی اکثریت سن یاس تک پہنچنے سے پہلے اس کی مخصوص علامتوں سے گزرتی ہے‘ تاہم بعض میں یہ علامات بتدریج ظاہر نہیں ہوتیں اور وہ اچانک اس سے دوچار ہوتی ہیں۔ ماہانہ ایام شروع نہ ہونے پر بعض خواتین کا دھیان حمل کی طرف جاتا ہے لیکن چند مہینوں تک جب یہ سلسلہ مسلسل رکا رہتا ہے تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔خواتین میں ماہانہ نظام ختم ہونے کی اوسط عمر 45سے51سال ہے۔
عمر میں اضافہ سن یاس شروع ہونے کا اہم ترین عامل ہے تاہم یہ اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب خواتین کی بچہ دانی آپریشن کے ذریعے الگ کردی گئی ہو،خواہ یہ آپریشن نوجوانی میں ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

قبل از وقت سن یاس کی وجوہات میں رحم کی اندرونی جھلی کا اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہونا (Endometriosis)،بچہ دانی میں رسولیاں ہونا ‘ تولیدی اعضاءکا کینسر،وزن کی زیادتی اورکیموتھیراپی شامل ہیں۔ایسی خواتین جن کے خاندان میں قبل از وقت سن یاس کا سلسلہ موجود ہو‘ وہ بھی اس کا شکار ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تھائی رائیڈ غدود میں خرابی،ذیابیطس یابیماریوں کے خلاف دفاعی نظام کا خود جسم کے خلاف متحرک ہو جانا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔
سن یاس خواہ بیماری کے سبب ہو یا عمرمیں اضافے کے باعث، اس کے نتیجے میں خواتین جن علامات سے گزرتی ہیں‘ ان میں جسم میں کہیں کہیں جلن سی محسوس ہونا (hot flashes) ،بہت زیادہ پسینہ آنا (بالخصوص رات کے وقت)، ٹھنڈے پسینے،کمزوری یا تھکن، نیند نہ آنا، یاداشت متاثر ہونا،ازدواجی تعلق سے اجتناب کرنا، ماہانہ نظام کا بے قاعدہ ہونا، مخصوص ایام کے دوران خون میں لوتھڑے خارج ہونا یا اس کا بہت دنوں تک خارج ہوتے رہنا،بہت زیادہ گرمی لگنا اور جلد کا خراب ہونا شامل ہیں۔
سب سے زیادہ شدید علامت جسم میں ایسٹروجن ہارمون کا ختم ہوجانا ہے جس کے نتیجے میں آسٹیوپوروسس کے امکان میں اضافہ ہوجاتاہے۔

سن یاس اور ڈپریشن
سن یاس کے دوران خواتین کے مزاج میں ایک بڑی تبدیلی ڈپریشن کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اب چونکہ وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں اس لئے ان کی نسوانیت ختم ہوگئی ہے اور وہ ایک ناکارہ وجود بن گئی ہیں۔ اس طرح کی منفی سوچوں کا نتیجہ چڑ چڑے پن کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس دور میں اگر انہیں اپنے میاں یا دیگر اہل خانہ کی طرف سے سہارا اور سکون نہ ملے تو ان کی کیفیت خاصی بگڑ جاتی ہے۔ انہیں اس بات کا احساس دلانا چاہئے کہ ان کی موجودگی اور صحت خاندان بھر کےلئے بہت معنی رکھتی ہے۔

ہڈیوں پر اثرات
ایسٹروجن خواتین میں پایا جانے والا ایک ہارمون ہے جو جلد کو خوبصورتی عطا کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں کیلشیم جذب کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔سن یاس کے بعد اس کی پیداوار ختم ہونے لگتی ہے جس کے نتیجے میں پہلے چھ مہینوں میں ہڈیوں کے کمزور ہونے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لئے خواتین کو چاہئے کہ ڈاکٹر کے مشورے سے اپنی خوراک میں تبدیلی لائیں اورباقاعدہ ورزش کریں۔اس دور میںپیشاب پر کنٹرول کمزور ہوجاتا ہے۔ جب مثانے پر دباو¿ زیادہ پڑتا ہے تو پیشاب کے قطرے خارج ہوجاتے ہیں یا بار بار حاجت ہوتی ہے۔

سن یاس اور غذا
سن یاس کے دوران جب ”ہاٹ فلیشز“ زیادہ ہوتے ہیں تو غذا میں ایسی اشیاء کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے جن میں ا ینٹی ایسٹروجن مرکبات پائے جاتے ہوںمثلاً چائے، گرین ٹی ،اخروٹ اوربروکلی میں یہ زیادہ ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس ایسی اشیاءزیادہ کھائیں جن میں ایسٹروجن کی مقدار زیادہ ہومثلاً گوشت،انڈوں، دودھ، دہی، گاجروں اورٹماٹروں میں اس کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے لہٰذا انہیں اپنی غذا کا لازمی
حصہ بنائیں۔

پیشاب روکنے کی ورزش
مثانے کی کمزوری کی شکار خواتین ایک آسان سی ورزش کر سکتی ہیں جسے تکنیکی زبان میں کیگل ورزش(Kegel Exercise)کہا جاتا ہے۔ اس ورزش کے لئے خواتین کو پیٹ کے ان حصوں(مثانے وغیرہ) کو سمجھنا ہوگا جو پیشاب روکنے کی کوشش کے دوران کھنچتے ہیں۔ فارغ وقت میں انہیں تین سیکنڈز کے لئے کھینچیں اور پھر واپس اپنی جگہ پر لے آئیں۔ اس مشق کو دن میں تین مرتبہ کریں تاہم پیشاب خارج کرتے وقت اسے مت کریں‘ اس لئے کہ اس صورت میں یہ سرگرمی مثانے کو نقصان پہنچائے گی۔
سن یاس کے بعد یا اس کے دوران خواتین کو چاہئے کہ روزانہ ورزش یا 30 منٹ کی چہل قدمی ضرور کریں۔ اس ضمن میں وزن اٹھانے والی ورزشوں کو ترجیح دیں جس سے اعضاءمیں کھچاو¿ پیدا ہو۔
المختصر،وہ خواتین جو یہ سمجھتی ہیں کہ سن یاس کے بعد ان کی زندگی ختم ہوگئی یا ان کے جینے کا مقصد ختم ہوگیا ہے‘ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ عورت کا کردار صرف بچے پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کا ہونا ہی گھر اور گھر والوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس لئے خود کوکم تر نہ سمجھیں۔ صحت بخش غذا اور باقاعدہ ورزش کریں تاکہ آپ پرسکون اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔