کینسر (Cancer) دراصل بیماریوں کے ایک بڑے گروپ کا نام ہے۔ اس میں غیر معمولی خلیے بے قابو ہو کر تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ خلیے نہ صرف صحت مند ٹشوز میں سرایت کر جاتے ہیں بلکہ انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ کینسر کی سب سے خطرناک خصوصیت اس کا پورے جسم میں پھیل جانا ہے۔
علامات
کینسر کی علامات اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ جسم کا کون سا حصہ اس سے متاثر ہوا ہے۔ کچھ عمومی علامات، جو کینسر سمیت دیگر طبی مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہیں، درج ذیل ہیں:
٭ غیر معمولی تھکن اور نڈھال ہونا
٭ جلد کے نیچے کسی گلٹی یا سختی کا محسوس ہونا
٭ وزن میں اچانک اور غیر ارادی تبدیلی (کمی یا اضافہ)
٭ جلد کی رنگت کا زرد، سیاہ یا سرخ ہونا، یا ایسے زخم بننا جو ٹھیک نہ ہو رہے ہوں
٭ موجودہ تلوں کی ساخت یا رنگت میں تبدیلی
٭ آنتوں یا مثانے کے افعال میں تبدیلی
٭ مستقل کھانسی یا سانس لینے میں دشواری
٭ نگلنے میں مشکل ہونا یا آواز بیٹھ جانا
٭ مسلسل بدہضمی یا بے چینی
٭ پٹھوں اور جوڑوں میں بلاوجہ مستقل درد
٭ مسلسل بخار، رات کو پسینہ آنا، یا غیر معمولی طور پر خون بہنا
وجوہات
کینسر کی بنیادی وجہ خلیوں کے اندر موجود ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ یہ جینز خلیے کو نشوونما اور تقسیم کے حوالے سے ہدایات دیتے ہیں۔ اگر ان ہدایات میں کوئی جینیاتی تبدیلی آ جائے تو خلیہ اپنا نارمل کام چھوڑ کر کینسر زدہ ہو جاتا ہے۔
جینیاتی تبدیلیوں کا کردار
ان تبدیلیوں سے صحت مند خلیے کو درج ذیل غلط ہدایات جا سکتی ہیں:
تیز رفتار نشوونما: خلیے کو ضرورت سے زیادہ تیزی سے تقسیم ہونے کا حکم دینا
کنٹرول سسٹم کا خاتمہ: نارمل خلیے ایک حد پر جا کر بڑھنا بند کر دیتے ہیں۔ کینسر زدہ خلیے وہ ‘کنٹرول سسٹم’ کھو دیتے ہیں جو انہیں رکنے کو کہتا ہے
ڈی این اے کی مرمت میں ناکامی: جسم میں ڈی این اے کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے والے جینز ہوتے ہیں۔ اگر ان میں خرابی آ جائے تو دیگر جینیاتی غلطیاں ٹھیک نہیں ہو پاتیں، جو کینسر کی راہ ہموار کرتی ہیں
جینیاتی تبدیلیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟
ان تبدیلیوں کے پیچھے دو بڑے عوامل ہو سکتے ہیں:
موروثیت: والدین سے وراثت میں ملنے والی جینیاتی تبدیلیاں (یہ کینسر کے کل کیسز کا بہت کم حصہ ہیں)
ماحولیاتی و بیرونی عوامل: پیدائش کے بعد تمباکو نوشی، ریڈی ایشن، وائرس، کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز، موٹاپا، اور ورزش کی کمی جیسے عوامل جینز کو متاثر کر سکتے ہیں
عام طور پر خلیوں کی نشوونما کے دوران ہونے والی چھوٹی موٹی غلطیوں کو جسم کا دفاعی نظام خود ٹھیک کر لیتا ہے۔ کبھی کبھار کوئی غلطی ٹھیک ہونے سے رہ جائے تو وہ کینسر کی بنیاد بن جاتی ہے۔
خطرے کے عوامل
طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل عوامل کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں:
عمر: کینسر کی تشخیص عام طور پر 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ اسے پنپنے میں وقت لگتا ہے
عادات: تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال، دھوپ میں بہت زیادہ رہنا، اور غیر محفوظ جنسی تعلق کینسر کے خطرات بڑھاتے ہیں
فیملی ہسٹری: اگر فیملی میں کینسر عام ہو تو جینیٹک ٹیسٹنگ کے ذریعے خطرے کا تعین کیا جا سکتا ہے
ماحول: سگریٹ کا دھواں اور کام کی جگہ پر موجود کیمیکلز
ممکنہ پیچیدگیاں
کینسر اور اس کا علاج کئی دیگر مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
درد: کینسر یا علاج کی وجہ سے ہونے والے درد کا ادویات سے انتظام کیا جا سکتا ہے
سخت تھکن اور سانس کی قلت: علاج کے دوران مریض اکثر نڈھال رہتا ہے
وزن کی کمی: کینسر جسم کی غذائیت خود استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، جس سے وزن تیزی سے گرتا ہے
اعصابی مسائل: کینسر اعصاب پر دباؤ ڈال کر جسم کے کسی حصے کی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے۔ اگر یہ دماغ میں ہو تو فالج جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں
پھیلاؤ: کینسر کا جسم کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیل جانا
ڈاکٹر سے مشورہ کب ضروری؟
اگر کوئی ایسی علامت نظر آئے جو مستقل رہے اور تشویش کا باعث ہو، تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر علامات ظاہر نہ ہوں لیکن آپ موروثی وجوہات یا کسی اور وجہ سے کینسر کے خطرے سے متعلق فکر مند ہوں تو ڈاکٹر سے سکریننگ ٹیسٹ کے بارے میں بات کریں۔
تشخیص
جسمانی معائنہ: ڈاکٹر جسم میں گلٹیوں یا جلد کی رنگت کی تبدیلیوں کا معائنہ کرتا ہے
لیبارٹری ٹیسٹ: خون اور پیشاب کے ٹیسٹ غیر معمولی علامات کو ظاہر کرتے ہیں
امیجنگ ٹیسٹ: سی ٹی سکین، ایم آر آئی، پی ای ٹی سکین، الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے کے ذریعے اندرونی اعضاء کی جانچ کی جاتی ہے
بائیوپسی: کینسر کی حتمی تشخیص کے لیے متاثرہ حصے سے خلیوں کا نمونہ لے کر خوردبین کے نیچے جانچا جاتا ہے
علاج
تشخیص کے بعد کینسر کی شدت کو 0 سے 4 تک کے درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ علاج کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ علاج کا انتخاب کینسر کی قسم، سٹیج اور مریض کی مجموعی صحت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
علاج کے مقاصد
مکمل شفایابی: مقصد کینسر کو ختم کر کے نارمل زندگی کی طرف لوٹنا ہے
بنیادی علاج: کینسر کو جسم سے نکالنا (عموماً سرجری کے ذریعے)
امدادی علاج: سرجری کے بعد باقی رہ جانے والے خلیوں کو ختم کرنا تاکہ بیماری دوبارہ نہ ہو
پیلی ایٹوکیئر: جب مکمل شفایابی ممکن نہ ہو تو علامات اور درد کو کم کر کے مریض کی زندگی کو سہل بنانا
طریقہ علاج
علاج کا انتخاب کینسر کی قسم، اس کے مرحلے اور مریض کی صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے:
سرجری: کینسر زدہ حصے کو جسم سے نکالنا
کیموتھیراپی: ادویات کے ذریعے متاثرہ خلیوں کا خاتمہ
ریڈی ایشن تھیراپی: شعاعوں کے ذریعے متاثرہ خلیوں کو ختم کرنا
امیونو تھیراپی: جسم کے مدافعتی نظام کو کینسر سے لڑنے کے قابل بنانا
ٹارگٹڈ ڈرگ تھیراپی: مخصوص جینیاتی خرابیوں کو نشانہ بنانا جو کینسر کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہیں
بچاؤ کی تدابیر
طرزِ زندگی میں تبدیلی کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے:
٭ سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں
٭ متوازن غذا (پھل، سبزیاں اور اناج) کا استعمال بڑھائیں
٭ روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کریں
٭ اپنا وزن قابو میں رکھیں
٭ سورج کی براہِ راست شعاعوں سے بچنے کے لیے حفاظتی لباس اور سن اسکرین استعمال کریں
٭ ہیپاٹائٹس بی اور ایچ پی وی جیسی ویکسینز لگوائیں