اے ڈی ایچ ڈی عدم توجہ کا عارضہ

228

    زندگی میں کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم جن چیزوں کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کررہے ہوتے ہیں‘ وہ بعد میں انتہائی غیرمعمولی ثابت ہوتی ہیں۔ مجھے اس کا احساس اپنے بیٹے کے سکول میں منعقدہ والدین اور ٹیچرز کی مشترکہ میٹنگ میں ہوا ۔میرا پلوٹھی کا بیٹا حسان چوتھی جماعت کا طالب علم ہے اورایک اچھے سکول میں زیر تعلیم ہے۔
مجھے بتایا گیا کہ آپ کا بچہ ہر وقت بے چین رہتا ہے‘ اس میں لاپروائی کا عنصر زیادہ ہے‘ کسی کام میں توجہ مرکوز نہیں کرپاتا‘ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھتا اورکسی بھی چیز یا سرگرمی میں اس کی دلچسپی جلد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ مجھے یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ اسے کسی چائلڈ سائیکالوجسٹ کو دکھایا جائے۔ اس پر میرا ماتھا ٹھنکا کہ معاملہ سنگین ہے۔ میں نے ملتان میں بچوں کی ماہرنفسیات ڈاکٹر اسماءیونس سے وقت لیا اورحسان کو لے کر ان کے پاس پہنچ گئی۔ ان کے ساتھ کافی طویل سیشن ہوا جس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ حسان کو ”اے ڈی ایچ ڈی“ ہے۔
”یہ کیا ہے؟“ مجھے یہ کوئی ”پی ایچ ڈی“ ٹائپ کی چیز لگی۔ ”یہ (Attention Deficit Hyperactivity Disorder) دماغ سے متعلق ایک عارضہ ہے جس کا شکار فرد اپنی توجہ مرکوز نہیں کرپاتا۔

مجھے ایک جھٹکا سا لگا‘ اس لئے کہ میں جس چیز کو محض بچے کی شرارت سمجھی‘ وہ تو ایک مرض کی دستک تھی۔ ڈاکٹر اسماءنے بتایا کہ یہ مرض لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں زیادہ پایاجاتا ہے۔ اس مرض کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بچوں میں کم دورانئے کی توجہ کے علاوہ ایک جگہ ٹِک کر نہ بیٹھنا‘بے چینی‘ بات توجہ سے نہ سننا ‘باتیں بھول جانا‘ کاموں کو منظم کرنے میں دشواری ہونا‘ مسلسل حرکت میں رہنا‘ بہت زیادہ اور سوچے سمجھے بغیر بولنا عام پایاجاتا ہے۔ غیرمتعلقہ سوال پوچھنا‘گفتگو کے دوران دوسروں کو بار بار ٹوکنا‘ خیالی پلاﺅ پکاتے رہنا اور بے صبرا پن ان کی عادت ہوتی ہے۔ ایسے بچے ذرا مُوڈی اور جذباتی ہوتے ہیں۔ اس مرض کی علامات پانچ برس کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

پاکستان جنرل آف سائیکالوجی میں2014ءمیں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں ایسے بچوں کو بگولے کی مانند قرار دیا گیا ۔ مضمون نگار کے مطابق کسی بھی چیز‘ کھیل یا کھلونے میں ان کی دلچسپی چند لمحوں سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ اگر کسی بچے میں مذکورہ بالا علامات کبھی کبھار اور مخصوص ماحول یا حالات میں نمودار ہوں تو یہ معمول کی بات ہے تاہم اگر وہ ہر ماحول مثلاًگھر‘ سکول‘ کھیل کے میدان اور تقریبات وغیرہ میں ظاہر ہوں اورلمبے عرصے تک برقرار رہیں تو یہ ”اے ڈی ایچ ڈی“ کی طرف اشارہ ہے۔

یہ سب کچھ حسان میں موجود تھا اورمیں شرمندہ سی تھی کہ کیسی ماں ہوں جو اپنے بچے کے مسائل کو نہ پہچان پائی۔ میں اس کی عادات اور رویوں کو یہ سوچ کر
نظرانداز کردیتی کہ لڑکے اکثرایسے ہی ہوتے ہیں۔ اگر سکول والے نہ بتاتے تو مجھے اس مرض کا کچھ پتہ نہ چلتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ڈاکٹر اسماءسے پوچھا کہ ہمار ے گھر کا ماحول تو بہت مثبت اور متوازن ہے، پھر اسے یہ مرض کیوں ہوا۔ ڈاکٹر صاحبہ مسکرائیں اوربولیںکہ یہ اس کابنیادی سبب نہیں‘ اس لئے کہ یہ ایک موروثی مرض ہے۔ یہ سن کر مجھے یک گونہ تسلی ہوئی‘ اس لئے کہ ایسے معاملات میں نزلہ ہمیشہ ”ماںکی تربیت“ پر ہی گرتا ہے۔

علامات میں توجہ کے عدم ارتکاز کے علاوہ انہوں نے پھرتیلے پن (hyperactivity) کا بھی ذکر کیا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ایسے تمام بچے حد سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں اورکچھ نہیں بھی ہوتے۔ ایسے اکثر بچے کسی کام پر زیادہ دیر تک توجہ مرکوز نہیں کرسکتے لیکن کام اگران کی پسند کا ہو تو ان کی توجہ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کے بقول ایسے بچوں پر بغیر سوچے سمجھے نافرمان اور بدتمیز کا لیبل لگادیاجاتا ہے حالانکہ وہ ایساجان بوجھ کر نہیں کر رہے ہوتے۔ یہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایسے بہت سے واقعات کی فلم چلنا شروع ہوگئی جن کی بنیاد پر مجھے طعنے دیے گئے کہ ’تمہارا بیٹا تو ہماری بات ہی نہیں سنتا‘ اور’تم نے اسے تہذیب نہیں سکھائی‘ وغیرہ وغیرہ اور میں خواہ مخواہ شرمسار ہوجاتی حالانکہ قصور اس کا تھا اور نہ ہی میرا۔
ڈاکٹر صاحبہ نے بتایاکہ ایسے بچوںکے اندر بہت سے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں۔ میں تو یہ سن کرگویا جی اٹھی۔ انہوں نے کہا:
”ایسے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں شاندار ہوتی ہیں‘ اس لئے کہ وہ بہت تخیلاتی اور تخلیقی ہوتے ہیں۔ان میں ضد کی بجائے لچک ہوتی ہے اور وہ زندہ دل اور ہنس مکھ بھی ہوتے ہیں۔ ایسے بچے فنکارانہ (artistic) صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اگر ان کی غیرمعمولی توانائی کو مناسب رخ دے دیا جائے تو وہ حیران کن نتائج دکھا سکتے ہیں۔ مزیدبرآں ان میں توانائی بہت ہوتی ہے اوروہ بیک وقت کئی کام (multi tasking) باآسانی کرسکتے ہیں۔“
ان سے مزید باتیں بھی پوچھنا تھیں لیکن بہت سے مریض باہر انتظار کر رہے تھے لہٰذا میں اپنے ذہن میں کلبلاتے سوالات لے کر ڈاکٹر سنبل کاکاخیل کے پاس چلی گئی جو چائلڈ سائیکالوجسٹ اور بہترین مشاورت کار ہیں اور اسلام آبادکے سکولوں ‘ کالجوں اوریونیورسٹیوں میں اس موضوع پر لیکچرز بھی دیتی ہیں۔

وہ کہنے لگیں کہ ”اے ڈی ایچ ڈی“ کے شکار بچوں کے دماغ کا ایک خاص حصہ دیگر بچو ںکی نسبت چھوٹا ہوتا ہے۔ والدین کے لئے ان کا مشورہ ہے کہ بچے کو نرمی سے سمجھائیں‘اسے دوست بنانا اور دوستی نبھانا سکھائیں اور اس کے لئے اچھے سامع بنیں۔ ایسے بچے تبدیلی کو جلدی قبول نہیں کرتے لہٰذا صبر کے ساتھ اور اچھے طریقے سے اس کی غلط باتوں اور عادتوں کی حوصلہ شکنی کریں۔چونکہ ایسے بچوں کے اندر توانائی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا انہیں کھیل کود اور ورزش کی طرف راغب کریں۔ اس سے ان اس کی توجہ کا ارتکاز بھی بہتر ہوگا۔ تعریف اور حوصلہ افزائی سے اسے پراعتماد بنانے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ بچے کو اپنی اور اس کی حددو واضح طور پر بتادیں اور یہ بھی کہ عدم توجہ‘ عدم پیروی یا عدم مطابقت کی صورت میں اسے کیا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس میںمستقل مزاجی بہت اہم ہے۔“
میں اس موضوع پر انڈیا سے تعلق رکھنے والے چائلڈ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر بھوشن شکلا کا ایک مضمون پڑھ رہی تھی جس میں وہ کہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوںکے مسائل جانتے ہی نہیں جبکہ دوسری جانب اساتذہ بھی بچے کے نقائص اور خامیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں کا آپس میں رابطہ بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹرسنبل کا کہنا ہے کہ اگر”اے ڈی ایچ ڈی“ کو نظرانداز کر دیا جائے تو بلوغت میں یہ مزاج میں غیرمعمولی اتارچڑھاﺅ سمیت کچھ اور نفسیاتی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے اس کا بروقت علاج کروانا چاہئے۔ ابتدائی مرحلے میں اس کا علاج کونسلنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں بچے کے علاوہ اس کے والدین‘ اساتذہ اور نفسیاتی معالج ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر علامات شدید ہوں یا بچہ ان کے ساتھ بلوغت میں داخل ہوجائے توکچھ ادویات کی مدد سے علامات کی شدت کو کم کیاجا سکتا ہے‘ تاہم ان کے ذیلی مضراثرات بھی ہوتے ہیں لہٰذا بہت ضروری نہ ہو توکونسلنگ سے ہی اس کا حل نکالنا چاہئے۔

”کیامیراحسان ہمیشہ ایسا ہی رہے گااورکچھ نہیں بن پائے گا۔“ میرے اس سوال پر ڈاکٹرسنبل ہنس پڑیں۔میں ان کی اس بے وقت کی ہنسی پر بہت حیران ہوئی، لیکن انہوں نے جلد ہی میری حیرت دور کردی:
”گیلیلو‘ آئن سٹائن‘ گراہم بیل‘ جان کینیڈی‘ ولیم سمتھ‘ والٹ ڈزنی‘ رابن ولیم‘ اور بل گیٹس نے اس مرض کے باوجود اپنے کارناموں کی بدولت عالمی شہرت حاصل کی۔“ وہ ایک لمحے کے توقف کے بعد بولیں: ”کافی ہیں یا اور نام بھی بتاﺅں؟“
”کافی ہیں…“ میں بھی مسکرادی‘ امید کی کرن جو نظر آ گئی تھی۔
اب مجھے اچھی طرح سے سمجھ آگیا کہ اپنے ”پروفیسر“ بچے کو کیسے قابو کرنا اور اس کی ذات کے ساتھ وابستہ شرارتی‘ بدتمیز‘ نافرمان اور بے چین روح جیسے لیبلز کو حرف غلط کی طرح مٹانا ہے ۔اگر آپ کے گھر میں یا ارد گرد اس طرح کا کوئی ”trouble maker‘ بچہ ہے تو اسے مثبت انداز سے ہینڈل کریں۔