ایبسنس سیژر (Absence seizure) یا غیرحاضر دماغی کا دورہ ایسی کیفیت ہے جس میں فرد چند سیکنڈ کے لیے ماحول سے کٹ جاتا ہے، اور پھر فوراً معمول کی حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ اس دوران فرد خالی نظروں سے گھورتا رہتا ہے۔ اس کے ری ایکشنز بھی عارضی طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔
عموماً یہ دورہ چند سیکنڈ جاری رہتا ہے اور اس کے بعد کوئی واضح الجھن، سر درد یا غنودگی باقی نہیں رہتی۔ اس میں جسمانی جھٹکے نہیں لگتے، اور نہ ہی فرد گرتا ہے۔ اسی لیے یہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
علامات
ایبسنس سیژر میں علامات عموماً مختصر اور واضح ہوتی ہیں، مگر انہیں عام غفلت یا توجہ کی کمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ دورہ چند سیکنڈ سے لے کر تقریباً 30 سیکنڈ تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد مریض کو عام طور پر یہ واقعہ یاد نہیں رہتا۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ بغیر گرے اچانک سرگرمی کا رک جانا
٭ ہونٹوں کو بار بار ہلانا
٭ خالی نظروں سے گھورتے رہنا
٭ پلکیں جھپکنا یا ان کی حرکت تیز ہونا
٭ چبانے جیسی حرکات
٭ انگلیوں کو رگڑنا یا ہاتھوں سے چھوٹی حرکات
اگر دورے زیادہ طویل ہوں تو فرد کو اس کا احساس ہو سکتا ہے۔ بعض افراد میں یہ دورے دن میں کئی بار بھی ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور روزمرہ معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں یہ کیفیت اکثر اس وقت تک نظر نہیں آتی جب تک کوئی بالغ فرد اس کا مشاہدہ نہ کرے۔ اساتذہ اکثر رپورٹ کرتے ہیں کہ بچہ توجہ نہیں دے پاتا یا بار بار خیالوں میں کھو جاتا ہے۔
وجوہات
ایبسنس سیژرز کی بنیادی وجہ زیادہ تر جینیاتی ہوتی ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دماغ کے اعصابی خلیوں میں غیر معمولی برقی سرگرمی شروع ہو جاتی ہے۔
دماغ کے نیورون ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ دورے کے دوران یہ معمول کا نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس سے سگنلز بار بار ایک مخصوص پیٹرن میں دہرائے جانے لگتے ہیں اور شعور عارضی طور پر متاثر ہوتا ہے۔
نیوروٹرانسمیٹرز کی سطح میں تبدیلی بھی اس عمل میں کردار ادا کر سکتی ہے، جو اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کو متاثر کرتی ہے۔
خطرے کے عوامل
ایبسنس سیژرز کے امکانات کچھ مخصوص عوامل کے ساتھ زیادہ ہوتے ہیں:
٭ یہ زیادہ تر 4 سے 14 سال کے بچوں میں دیکھے جاتے ہیں
٭ یہ خواتین میں نسبتاً زیادہ پائے جاتے ہیں
٭ اگر قریبی رشتہ داروں میں دوروں کی ہسٹری ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے
پیچیدگیاں
زیادہ تر بچے وقت کے ساتھ ایبسنس سیژرز سے باہر نکل آتے ہیں، تاہم بعض افراد میں یہ مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ کچھ صورتوں میں یہ دیگر اقسام کے دوروں میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
٭ سیکھنے میں مشکلات
٭ رویے سے متعلق مسائل
٭ سماجی طور پر الگ تھلگ ہو جانا
٭ دورے کے دوران چوٹ لگنے کا خطرہ
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
ماہر امراض اطفال سے رابطہ کریں، اگر:
٭ آپ کو شبہ ہو کہ بچے کو دورے ہو رہے ہیں
٭ پہلے سے موجود مرگی کے باوجود نئی قسم کے دورے ظاہر ہوں
٭ اینٹی سیژر ادویات کے باوجود دورے برقرار رہیں
ایمرجنسی سروسز سے فوری رابطہ کریں اگر:
٭ طویل دورانیے تک غیر شعوری خودکار حرکات جاری رہیں
٭ دورے کے دوران یا بعد میں شدید الجھن یا غیر معمولی رویہ ظاہر ہو
٭ کوئی بھی دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے
تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری لیتا ہے اور جسمانی معائنہ کرتا ہے۔ اس کے بعد کچھ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں تاکہ بیماری کی تصدیق اور دیگر وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے۔
الیکٹرو اینسیفالوگرافی (EEG) اس حوالے سے ایک اہم ٹیسٹ ہے، جس میں دماغ کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس دوران سر پر لگے الیکٹروڈز کے ذریعے دماغی لہریں مشین تک پہنچتی ہیں۔ بعض اوقات تیز سانس لینے کی مشق دورے کو متحرک کر سکتی ہے، جس سے تشخیص میں مدد ملتی ہے۔
دماغی سکین جیسے ایم آر آئی بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ فالج یا ٹیومر جیسی دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے۔
علاج
علاج کا مقصد دوروں کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، جس کے لیے عام طور پر اینٹی سیژر ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عموماً کم ڈوز سے آغاز کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق اسے بڑھاتے ہیں۔ اگر مریض کو دو سال تک دورے نہ پڑیں تو بعض صورتوں میں دوا آہستہ آہستہ کم کی جا سکتی ہے۔
ان کے کچھ ضمنی اثرات بھی ہوتے ہیں:
٭ ابتدائی ادویات کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، قے، نیند آنا اور بے چینی شامل ہیں
٭ کچھ ادویات ان مریضوں کے لیے مفید ہیں جنہیں دیگر اقسام کے دورے بھی ہوتے ہیں، تاہم ان کے مضر اثرات میں وزن بڑھنا، بھوک میں اضافہ اور توجہ میں کمی شامل ہیں، جبکہ شاذ و نادر جگر یا لبلبے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
٭ کچھ ادویات نسبتاً کم مضر اثرات رکھتی ہیں، تاہم ان سے خارش اور متلی ہو سکتی ہے
طرزِ زندگی اور گھریلو تدابیر
غذائی تھیراپی
کیٹوجینک ڈائٹ بعض افراد میں دوروں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ چکنائی میں زیادہ اور کاربوہائیڈریٹس میں کم ہوتی ہے، اور عام طور پر ان صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے جب ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں۔
دیگر متبادل ڈائٹس جیسے گلائسیمک انڈیکس اور موڈیفائیڈ ایٹکنز ڈائٹ بھی کچھ فائدہ دے سکتی ہیں، اگرچہ یہ کیٹوجینک ڈائٹ کے مقابلے میں کم سخت ہوتی ہیں۔
اضافی اقدامات
٭ ادویات ہمیشہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں اور از خود ڈوز میں تبدیلی نہ کریں
٭ مناسب نیند کو یقینی بنائیں کیونکہ نیند کی کمی دوروں کو متحرک کر سکتی ہے
٭ میڈیکل الرٹ بریسلیٹ استعمال کریں تاکہ ایمرجنسی میں درست شناخت ہو سکے
٭ ڈرائیونگ اور تیراکی جیسے امور کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اکیلے نہانے یا تیراکی سے اجتناب کریں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔